پوسٹل سیونگز اکاؤنٹس بند نہیں ڈیجیٹلائز کریں!

پوسٹل سیونگز اکاؤنٹس بند نہیں ڈیجیٹلائز کریں!
پوسٹل سیونگز اکاؤنٹس بند نہیں ڈیجیٹلائز کریں!

  

دنیا میں انسانی زندگی کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی لین دین کا عمل کسی نہ کسی صورت میں شروع ہو گیا تھا، پتھر کے دور سے شروع ہونے والا یہ سفر آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت آنے والے ہر دن میں جدید سے جدید تر ہوتا جا رہا ہے، اپنی تمام تر ترقی کے باوجود بھی  پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے آج بھی اتنی ہی مشکلات اور پریشانیوں سے گزر رہے ہیں، جس قدر زمانہ ئ  قدیم میں غاروں میں زندگی بسر کرنے والے انسانوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا تھا،جس کی تازہ مثال پاکستان کے دوردراز قصبوں، دیہات، پہاڑوں کی چوٹیوں اور دشوار گزار علاقوں سمیت ملک کے بڑے شہروں میں رہنے والے وہ افراد ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی پوسٹل سیونگ اکاؤنٹس، یعنی ڈاکخانوں میں صرف اس مقصد کے تحت جمع کروائی تھی کہ یہاں ان کی رقم محفوظ رہے گی،اور گھروں سے قریب ترین ہونے کے باعث، ان افراد کی روزمرہ ضرورتیں بھی پوری ہوتی رہیں گی، جب ان بزرگوں نے اپنی عمر بھر کی کمائی پوسٹل سیونگ اکاؤنٹس میں جمع کروائی ہو گی تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ایک روز یہی رقم ان کے بڑھاپے کا روگ بن جائے گی اور انہیں اپنی اس رقم کے حصول کے لئے اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کی قربانی دینا پڑے گی، جو سوچا نہیں تھا، وہی ہو گیا۔ 

گزشتہ چند ماہ سے ان لاکھوں، کروڑوں بزرگوں کو پوسٹل سیونگ اکاؤنٹس سے منافع کی ادائیگی بند کر دی گئی ہے اور اگر کسی نے اپنی اصل رقم کا تقاضا کیا تو وہ بھی دینے سے انکار کردیا گیا،جس کے باعث لاکھوں گھرانوں کے چولہے بجھ گئے اور ان کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔اسی دوران رمضان المبارک بھی گزرا، عید الفطر بھی گزری اور اب اگلے ماہ عید الاضحی بھی آرہی ہے، لیکن ان بے سہاروں کے آنسو پوچھنا، ان کی دادرسی کرنا تو ایک طرف، انہیں کوئی دلاسہ بھی نہیں دے رہا، بلکہ اکثر ڈاکخانوں میں تو انہیں دھتکار دیا جاتا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں بہت سے بزرگ اپنی زندگی کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔

پاکستان پوسٹ کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔  ملک بھر میں پاکستان پوسٹ کی 13 ہزار شاخیں ہیں، جن میں 31 ہزار ریگولر اور 17 ہزار پارٹ ٹائم ملازمین ہیں،ان میں سے 70 فیصد دیہات یا  دشوار گزار علاقوں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان پوسٹ کے 25ہزار پنشنرز بھی ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2017ء تک ملک بھر میں بینکوں کی کل برانچوں کی تعداد 13039تھی، پاکستان پوسٹ کی بھی اتنی ہی برانچیں ہیں۔  حکومت پاکستان کو پاکستان پوسٹ کے اتنے وسیع دائرہ کار سے استفادہ کرنا چاہئے، لیکن اسے بند کر کے پوسٹل سیونگ اکاؤنٹس کو پوسٹ آفس کے اعلیٰ حکام اپنی کرپشن اور فرائض میں غفلت پر پردہ ڈالنے کے لئے مرحلہ وار قومی بچت مرکز کو منتقل کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ واضح ہو کہ قومی بچت مرکز کی ملک بھر صرف 1300 شاخیں ہیں، جبکہ پاکستان پوسٹ کی 13 ہزار شاخیں ہیں،  تیرہ ہزار  شاخوں کو صرف تیرہ سو میں منتقل کرنا اول تو ممکن نہیں ہو گا، اگر ہو بھی گیا تو اس سے لاکھوں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ جسے کسی بھی صورت ہوشمندانہ اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔

     سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مالیاتی پالیسی کو بروئے کار لا کر عوام کو مالیاتی سہولتوں کی فراہمی کے لئے تیز تر بنیادوں پر دیہی علاقوں میں پاکستان پوسٹ کی 13000 شاخوں کو ڈیجیٹلائز کر کے  ون لنک کئے جانے کی اشد ضرورت ہے، جس پر بہت پہلے کام شروع ہو جانا چاہئے تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے پاکستان پوسٹ نے ایک سافٹ ویئر کمپنی سے معاہدہ بھی کیا تھا لیکن پاکستان پوسٹ کے بعض افسران کی ملی بھگت سے پوسٹل سیونگز اکاؤنٹس ڈیجیٹلائز نہیں ہو سکے، ان  افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔اس وقت پاکستان پوسٹ کے 30 لاکھ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں،جنہیں سیونگز بینک کے ذریعے سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔  پوسٹل سیونگز کو ڈیجیٹلائز کر کے دیہی علاقوں میں بچتوں کے وسیع مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے لئے کسانوں اور ان علاقوں میں رہنے والی خواتین کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنی رقوم پوسٹل سیونگز اکاؤنٹس میں جمع کروائیں۔یاد رہے کہ2023ء تک سٹیٹ بینک کے مقرر کردہ 6کروڑ 50 لاکھ اکاؤنٹس کے ہدف میں 2 کروڑ خواتین بھی شامل ہیں۔

پاکستان پوسٹ کی ویب سائیٹ کے مطابق پوسٹل سیونگ اکاؤنٹس اس وقت پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس، پاکستان نیوی اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 1 کروڑ 14 لاکھ پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کر رہا ہے،اگر ان اکاؤنٹس کو بند کر دیا گیا تو یہ لاکھوں خاندان خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ایسے میں پوسٹل سیونگز اکاؤنٹس کو ڈیجیٹلائز کر کے پاکستان پوسٹ کو مزید منافع بخش ادارہ بنانے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ حکام بالخصوص وزیراعظم عمران خان، پوسٹل سیونگز اکاؤنٹس کے متاثرین کی دادرسی کے لئے واضح احکامات جاری کریں اور ملک بھر میں پوسٹل سیونگ سے مستفید ہونے والے افراد کو ان کا ماہانہ منافع مع بقایا جات ترجیحی بنیادوں ادا کئے جائیں، تاکہ لاکھوں خاندان سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔ 

جزاکم اللہ خیراً کثیرا

مزید :

رائے -کالم -