خواتین پاکستان کی سیاست میں!

خواتین پاکستان کی سیاست میں!

  

پاکستان کی آزادی کے بعد سے ہی خواتین پارلیمانی سیاست میں سرگرم حصہ لیتی رہی ہیں۔ پہلی اور دوسری دستور ساز اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی کم رہی، تاہم آئین پاکستان میں ہونے والی ترامیم سے پارلیمینٹ میں ان کی مزید شرکت کا راستہ ہموار ہوگیا۔  2002 ء کے بعد سے، خواتین سیاست دانوں نے وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں میں بھی نمایاں نمائندگی کی ہے۔

پاکستان کی مساوی شہری ہونے کی حیثیت سے خواتین عام انتخابات لڑنے اور قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر کسی بھی عوامی عہدے پر بلا امتیاز منتخب ہونے کے لئے آزاد ہیں۔ انہیں آزادانہ حق ہے کہ وہ تمام انتخابات، عام یا ضمنی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ وہ خواتین کے مخصوص کوٹہ کے ذریعہ بھی براہ راست انتخابات لڑ سکتی ہیں۔ خواتین کو کسی بھی اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے لئے کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔ پاکستان میں خواتین بطور وزیراعظم، وفاقی وزیر، سپیکر، اور قائد حزب اختلاف وغیرہ کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔

    تحریک آزادی کی خاتون رہنما مادر ملت فاطمہ جناحؒ سے لے کر پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے اب مریم نواز تک، یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ملکی سیاست میں خواتین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے  اور ملک میں ان کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے بہترین کام ہو رہا ہے، مگر انٹر پارلیمنٹری یونین جوکہ قومی اسمبلیوں پر مشتمل ایک عالمی ادارہ ہے، کی رپورٹ کے مطابق پاکستان،پارلیمینٹ میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے دنیا میں 107 ویں نمبر پر ہے، جبکہ روانڈا، صومالیہ اور افغانستان جیسے ممالک ہم سے کہیں بہتر ہیں۔

پاکستانی خواتین کے پارلیمانی کردار کا جائزہ لیا جائے تو ہماری سیاسی اور انتخابی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ مساوی شہری ہونے کے ناطے خواتین کو ملکی سیاست میں وہ کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا اور نہ ہی دیا گیا جو اس کا بنیادی حق ہے، مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور سیاسی شعور میں اضافے کی وجہ سے خواتین کا سیاسی کردار بڑھ رہا ہے، جس کے بعد خواتین خود کو ملکی سیاست میں متحرک اور فعال بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

مادر ملت فاطمہ جناحؒ اور ان کی ساتھی خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ تحریک آزادی پاکستان میں مضبوط کردار ادا کیا، مگر آزادی کے بعد خواتین کی یہ طویل جدوجہد انہیں قومی سیاسی دھارے میں وہ مقام نہیں دلوا سکی، جس کی وہ حقدار تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی، جو 1947ء سے 1954ء تک رہی، کے 79 اراکین اسمبلی میں سے صرف دو خواتین بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بیگم جہاں آرا شاہنواز تھیں۔1954ء میں صوبائی اسمبلیوں نے دوسری قانون ساز اسمبلی منتخب کی،جس نے 1956ء کا دستور بنایا اس اسمبلی میں کوئی خاتون نہیں تھی،اس لئے آئین سازی میں خواتین کا کوئی کردار نہ تھا۔1956ء کے آئین میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لئے خواتین کے حق رائے دہی کا اصول طے کیا گیا، جس سے انہیں دہرے ووٹ کا حق حاصل ہوا، ایک ووٹ جنرل سیٹ کے لئے اور ایک خواتین کی مخصوص نشست کے لئے۔اس سے یہ ہوا کہ خواتین ملکی سیاست  میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہو گئیں، مگر 1962ء کے آئین میں اسے ختم کردیا گیا۔

جنرل (ر) ایوب خان کے اس اقدام سے خواتین کی سیاسی جدوجہد کو زور دار دھچکا لگا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف 6 خواتین ہی بالواسطہ انتخابات کے ذریعے اسمبلی کا حصہ بن سکیں۔ خواتین کے سیاسی منظر نامے میں اہم موڑ اس وقت آیا جب  محترمہ فاطمہ جناحؒ نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ نے خواتین میں ایک نئی تحریک پیدا کی۔ ملک کے طول و عرض میں خواتین میں جوش و ولولہ پیدا ہوا، ان کی انتخابی سرگرمی بڑھ گئی اور الیکشن سے پہلے ہی ان کی جیت نظر آنے لگی۔ فاطمہ جناحؒ نے الیکشن بھرپور طریقے سے لڑا، مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات شفاف ہوتے تو فاطمہ جناحؒ ملک کی پہلی خاتون صدر منتخب ہو جاتیں۔ 1962ء  سے 1965ء  تک، 156 ارکین اسمبلی میں سے صرف 8خواتین تھیں، اس کے بعد آنے والی اسمبلی جو کہ 1965ء سے 1969ء تک رہی، میں خواتین کی یہ تعداد کم ہوکر 6رہ گئی۔ بھٹو خاندان کی خواتین کی سیاسی شمولیت کے بعد خواتین کا حوصلہ مزید بلند ہوا۔1970ء کے انتخابات میں 9 خواتین نے حصہ لیا،مگر کوئی بھی  کامیاب نہیں ہو سکی اور کسی بھی خاتون کو الیکشن جیت کر اسمبلی میں آنے میں سات برس لگے۔ یوں 1977ء کے انتخابات میں بیگم نسیم ولی خان واحد خاتون تھیں،جنہوں نے الیکشن لڑا اور جیت گئیں۔

      1977ء سے انتخابی اور پارلیمانی سیاست میں خواتین کے کردار میں بتدریج اضافہ ہوا اور 2008ء میں اس حوالے سے عروج دیکھنے میں آیا۔جنرل ضیاء الحق دورکے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں 15 خواتین نے حصہ لیا، مگر صرف ایک خاتون ہی کامیاب ہو سکی۔تین برس بعد 1988ء میں الیکشن جیتنے والی خواتین کی تعداد  چار ہو گئی، جن میں مستقبل کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرت بھٹو بھی شامل تھیں۔ 1997ء کے انتخابات میں 34 خواتین نے حصہ لیا مگر جیت کا تناسب کم رہا اور صرف 6 خواتین  اپنی نشست بچا سکیں۔ بہرحال یہ تعداد ماضی میں انتخاب جیتنے والی خواتین سے زیادہ تھی۔  جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت نے خواتین کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے انہیں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں 17 فیصد نمائندگی دی۔

اس قانون سازی کے بعد2002ء سے 2007ء تک گیارہویں اسمبلی کے 342 اراکین میں سے 69 خواتین تھیں جو ملکی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد تھی۔ 2002ء کے انتخابات میں خواتین کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں 75 خواتین نے انتخاب لڑا،جن میں سے 13 کامیاب ہوئیں۔ یہ رجحان 2008ء تک قائم رہا اور 2008ء کا انتخاب لڑنے والی 64 میں سے 16 خواتین جیت اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئیں۔2013 ء کے انتخابات میں الیکشن لڑنے والی خواتین کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، مگر کامیاب ہونے والی خواتین کی تعداد گزشتہ انتخابات کی نسبت کم رہی۔اس مرتبہ 161 خواتین نے الیکشن لڑا، مگرصرف 9 خواتین کامیاب ہوئیں، جن میں سے 6 عام انتخابات میں، جبکہ 3 ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئیں۔ الیکشن ایکٹ 2017ء خواتین کی سیاسی شمولیت کو فروغ دینے کے لئے ایک اور اہم قدم تھا۔ اس ایکٹ کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ ہر جماعت انتخابی ٹکٹوں کا کم از کم 5 فیصد خواتین امیدواروں کو دے گی تاکہ انہیں سیاسی طور پر مزید متحرک کیا جائے، ان کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے اور انہیں عملی طور پر انتخابی میدان میں اتارا جائے۔ بدقسمتی سے ملک کی 45 فیصد سیاسی جماعتوں نے الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بھی خاتون کو ٹکٹ نہیں دیا، جبکہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی بمشکل یہ ٹارگٹ پورا کر سکیں۔اس کے باوجود ان انتخابات میں ملکی تاریخ میں اب تک سب سے زیادہ خواتین نے الیکشن لڑا، مگر کامیابی کی شرح ماضی کے انتخابات کی طرح کم رہی۔ ناقدین کے مطابق سیاسی جماعتوں نے زیادہ تر خواتین کو ان نشستوں کے لئے ٹکٹ دیئے، جن پر ان کی جیت کے امکانات نہیں تھے یا پھر ان خواتین کو ٹکٹ دیئے گئے جو خاندانی طور پر مضبوط تھیں اور ان کا تعلق کسی سیاسی خاندان سے تھا۔ اس طرح الیکشن ایکٹ 2017ء میں 5 فیصد ٹکٹوں کی شرط رکھنے کے مقاصد حاصل نہ ہوسکے اور الیکشن لڑنے والی182خواتین میں سے صرف 15خواتین ہی کامیاب ہو سکیں، ابھی چند ماہ قبل سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر خاتون امیدوار نوشین افتخار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں جو کہ خوش آئند امر ہے۔ 

تاریخی اعتبار سے ہمارا معاشرہ مردوں کے زیر اثر ہے اور ہم ابھی تک اس خطے کے صدیوں پرانے رسم و رواج سے آزاد نہیں ہو سکے۔ یہ سوچ ہماری نسلوں کے ساتھ پروان چڑھی ہے، جس کی تبدیلی میں وقت لگے گا۔ آزادی سے اب تک خواتین کی سیاسی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے، اس حوالے سے قانون سازی بھی کی گئی، جس پر سخت ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ہم آہستہ آہستہ بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے ووٹ بینک کا بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے لہٰذا ہم پہ یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کی سیاسی، سماجی اور معاشی شرکت کو یقینی بنائیں۔اس میں سب سے اہم پارلیمنٹ ہے۔ اگر پارلیمینٹ میں ان کی موثر نمائندگی ہوگی تو وہ اپنی آواز بھرپور طریقے سے اٹھا سکیں گی۔ ہم خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ وہ اس سسٹم میں رہتے ہوئے نہ صرف مخصوص نشستوں پر، بلکہ جنرل نشستوں پر بھی الیکشن لڑ کر اسمبلیوں میں آئیں اور جمہوریت میں اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کریں۔ آج کل پارلیمنٹ جو ہنگامہ آرائی اور گالم گلوچ ہو رہی ہے اور اسمبلی کا ماحول جتنا آلودہ ہو چکا ہے اسے ساز گار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اسمبلیوں میں خواتین کی نشستیں زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئیں تاکہ حکومتی سطح پر خواتین کی فیصلہ سازی میں بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا جائے، لیکن دوسری جانب حکومت کے بنائے گئے قوانین اور پالیسیوں کا احترام بھی ہم سب پر لازم ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے خواتین کو معاشی و اقتصادی پذیرائی اور معاشرتی لحاظ سے اتنا بااعتماد و پروقار بنانا از حد ضروری ہے کہ وہ  براہِ راست الیکشن لڑ کر حکومتی فلورز پر ملکی قوانین وقواعد کی تخلیق و عملدرآمد میں اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کرسکیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -