صدا کار احسان چھینہ، اداکار ننھا، گائیک اختر علی خان کو زبردست خراج تحسین

صدا کار احسان چھینہ، اداکار ننھا، گائیک اختر علی خان کو زبردست خراج تحسین

  

حسن عباس زیدی

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) کے زیر اہتمام پِلاک لوک سٹوڈیو میں معروف کالم نگار، شاعر، صداکار محمد احسان چھینہ کے اعزاز،نامور اداکار رفیع خاور عرف ننھا کی سالگرہ اورکلاسیکل گائیک استاد اختر علی خاں کی موسیقی کیلئے خدمات کے سلسلہ میں تقاریب کا اہتمام کیا گیا جس میں  زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی۔صداکار محمد احسان چھینہ کی تقریب میں میاں عمران مسعود (سابق وزیر تعلیم)، کاشف ادیب جاودانی ماہر تعلیم، مسٹر رائے اور ڈاکٹر صغرا صدف ڈی جی پِلاک نے شرکت کی۔ مقررین نے محمد احسان چھینہ کے شخصیت اور فن کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت ہی مؤدب اور ملنسار انسان ہیں۔ ریڈیو پر ان کے پروگراموں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ لاہور کے ادبی ماحول کی گہما گہمی سے دوری کے باوجود ادبی حلقوں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ اُن کی شاعری معاشرے کے پسماندہ طبقے کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ انھوں نے اپنا کلام سامعین کے سامنے پیش کر کے خوب داد وصول کی۔رفیع خاور ننھا کی سالگرہ کی تقریب کے دوران ایک مکالماتی نشست میں ہدایتکار الطاف حسین اور خاقان حیدر غازی نے اداکار ننھا کی شخصیت اور فن کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی۔ الطاف حسین نے کہا کہ وہ جتنے اچھے فنکار تھے اتنے ہی اچھے انسان بھی تھے۔ انہوں نے بغیر معاوضہ کے میری فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے ہمیشہ جاندار کردار نبھائے۔ کئی فلمیں ان کے کردار کی وجہ سے بہت ہِٹ ہوئیں۔ ہر انسان سے خوش مزاجی سے پیش آتے، اَنا پرستی نام کی کوئی چیز ان میں نہیں تھی۔پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے زیر اہتمام پلاک سٹوڈیو میں شام چوراسی گھرانے کے نامور سپوت استاد اختر علی خاں کی شخصیت اور فن موسیقی کے بارے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک مکالماتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں استاد ریاض علی خاں، پرویز پارس، اعجاز علی خاں، ہمایوں شوکت بٹ، سجاد بری، ناصر بیراج اور ان کے بیٹے شان اختر علی نے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام چوراسی گھرانے کی تاریخ 500 سو سال پرانی ہے جس کا آغاز اکبر بادشاہ کے دور میں ہوا۔ چاند خان اور سورج خان سے موسیقی کا آغاز ہوا سورج خان کی اولاد پاکستان میں رہائش پذیر ہوئی جن میں استاد سلامت علی خاں، ذاکر علی خاں اور اختر علی خاں کے نام قابل ذکر ہیں۔استاد اختر علی خاں پڑھے لکھے گریجوایٹ موسیقار تھے انہوں نے موسیقی پر تین کتابیں لکھیں جن میں سے ”نورنگِ موسیقی“ کافی مقبول ہوئی اور اس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اختر علی خاں بہت اچھے لے کار اور غزل گائیکی میں مہارت رکھتے تھے، کلاسیکل موسیقی میں بہت مشہور ہوئے۔ تمام گائیکوں نے کچھ کلام ترنم کے ساتھ پیش کیا۔ موسیقی کی ترویج و ترقی کے حوالے سے کہا کہ حکومت کی سرپرستی میں موسیقی کی تعلیم کے لئے ثقافتی ادارے اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ کلاسیکل موسیقی کے فن کو زندہ رکھا جاسکے۔ اس کو سیکھنا ایک محنت طلب کام ہے جس سے آج کی نوجوان نسل بھاگتی ہے۔موسیقی کی تاریخ اور گائیکوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سجاد بری کا کہنا تھا کہ استاد اختر علی خاں ہمارے وطن کا ایک بڑا نام تھا ان کی کمی ہمیشہ رہے گی ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پاکستان میں کلاسیکل اور لوک موسیقی کی پذیرائی نہایت کم ہو گئی تھی۔ کیونکہ استادان موسیقی جیسے استاد عاشق علی خاں، استاد وحید خاں وغیرہ ایک ہی عشرے میں یکے بعد دیگرے وفات پا گئے تھے، جبکہ شہر آفاق کلاسیکل گائیک بڑے غلام علی خاں، انڈیا ہجرت کر گئے تھے۔ پاکستان میں موسیقی کے مشہور خانوادے روشن آراء بیگم جن کا تعلق کیرانہ گھرانے سے تھا۔ اور سلامت علی خاں جن کا تعلق شام چوراسی سے تھا ایسے فنکاروں کے چلے جانے کے بعد ہمارے ملک میں چند ہی لوگ بچے ہیں جو کلاسیکل گائیکی کو سمجھتے ہیں۔سجاد بری کا مزید کہنا تھا کہ مسلمانوں نے موسیقی کو باقاعدہ ایک معتدل فن کے طور پر باقاعدہ استعمال کیا۔ ستار اور طبلہ جن کی ایجاد مسلمانوں کا کارنامہ ہے جوبہت جلد مقبول ہو گئے۔ مسلمانوں نے اپنا نظام موسیقی ریاضی کے اصولوں پر مرتب کیا۔ عربی کا لفظ موسیقی یونانی زبان سے اس زمانے میں مستعار لیا گیا جبکہ عرب دانشور یونانی فلسفے کا عربی زبان میں ترجمہ کر رہے تھے۔ مسلمان مفکر فارابی نے علم موسیقی پر بہت کام کیا۔ لیکن عام مفہوم میں موسیقی کو غنا کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ اور گلوکار کو مغنی اور گلوکارہ کو مغنیہ کہتے تھے۔ عربوں نے اپنی علم موسیقی میں اضافے روم اور ایرا ن کے موسیقاروں کے تعاون سے کئے۔ شروع میں نامور مسلم موسیقاروں میں پیشہ وارانہ حیثیت سے طوپس، غرت المیا اور صاحب خاطر کے نام سے بہت مشہور ہوئے۔ ابن مسیحا باز نطینی اور ایرانی موسیقی عالم کی حیثیت سے نامور ہوا۔ اس میں ایرانی اور رومن دھنوں کو اہم بخشا۔ بعد ازاں عرب موسیقاروں نے یہ ایرانی بریط کے استعمال کے ذریعے سروں کا نیا نظام مرتب کیا۔ جو زیروہ بم کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ مجازیر کے بیٹے مسلم نے جو ابن مسیحا کا شاگر د تھا انہوں نے شام اور ایران کا سفر کیا۔ اور موسیقی کی نئی دھنیں مرتب کیں۔

پلاٹ کے زیر اہتمام معروف فنکاروں کی خدمات کا اعتراف

مزید :

ایڈیشن 1 -