پاکستان میں عجیب تبدیلی آئی ہے لوگ امیر ملک غریب ہو گیا: پروفیسر ڈاکٹر خورشید الحسن رضوی

    پاکستان میں عجیب تبدیلی آئی ہے لوگ امیر ملک غریب ہو گیا: پروفیسر ڈاکٹر ...

  

 لاہور (خصوصی رپورٹ)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی خود نوشت ”عمر رواں“ کی تعارفی تقریب الخدمت فاؤنڈیشن کمپلیکس میں صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میاں عبدالشکور کی زیر صدارت منعقد ہو ئی۔ مقررین نے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی خود نوشت ”عمراں رواں“ کو بے حد سراہا۔ تقریب سے میاں عبدالشکور سمیت کتاب کے مصنف ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پروفیسر ڈاکٹر خورشید الحسن رضوی، مجیب الرحمن شامی، حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ، سید احسان اللہ وقاص، محمد انور گوندل، مسعود کھوکھر، جسٹس (ر)رؤف احمد شیخ، ڈاکٹر صغریٰ صدف، جمشید خان نے خطاب کیا۔صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میاں عبدالشکور احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپنے مشن کے ساتھ ہمہ تن جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لیاقت بلوچ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، سید احسان اللہ وقاص اور جماعت اسلامی کے دیگر افراد جو پاکستان کی پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں ان کے صالح کردار سے پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرونا وبا میں الخدمت فاؤنڈیشن نے پاکستانی عوام کی خدمت کا گراں قدر کارنامہ سر انجام دیاہے۔ پاکستانی کمیونٹی کی خدمت الخدمت فاؤنڈیشن کا ماٹو ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر خورشید الحسن رضوی نے اپنے خطاب میں کہاکہ عمر رواں بہت ہی پرکشش خود نوشت ہے۔ پاکستان میں عجیب تبدیلی آئی ہے کہ لوگ امیر ہو گئے ملک غریب ہوگیا۔ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی زندگی بے داغ ہے ان کی کتاب پاکستان کی خود نوشت ہے۔عمررواں کے مصنف نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ زندگی میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ وابستہ رہنے پر اللہ کا شکر بجا لاتاہوں۔ دھن، دھونس، دھاندلی کے زور پر جو لوگ اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں،اللہ نے ہمیں اس غلاظت سے محفوظ رکھا۔ جماعت اسلامی کے جو افراد اسمبلیوں میں پہنچے ہیں وہ پاکستان کا فخر ہیں۔ممتاز و سینئر کالم نگار مجیب الرحمن شامی نے خطاب میں کہا کہ کتاب عمر رواں حقیقت میں پڑھنے کے لائق ہے۔ فرید احمد پراچہ کی سیاست اور صحافت ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ عمررواں نوجوانوں کو اس لحاظ سے پڑھنی چاہیے کہ آپ کم وسیلہ ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ حفیظ اللہ نیازی نے کہاکہ کتاب میں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کاانداز بیاں انتہائی شائستہ اور ممتاز ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں میرا تعارف ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی وساطت سے ہوا۔ڈاکٹر حسین پراچہ نے کہاکہ عمر رواں میں اخوت و بھائی چارے کا پہلو پایا جاتاہے۔ اس کتاب کو بین الاقوامی آٹو بائیوگرافک میں شامل کیا جانا چاہیے۔ڈاکٹر سمیحہ رحیل قاضی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے حقوق اللہ و حقوق العباد کو شعار بنایا ہے۔ جسٹس (ر)رؤف احمد شیخ نے کہاکہ ڈاکٹر فرید پراچہ کی خدمات یہ ہیں کہ انہوں نے طلبہ کو راہ حق پر چلایا اور تحریک اسلامی کی ترویج کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کہاکہ عمر رواں کتاب نوجوا ن نسل کو ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ ہمارے ملک کے ساتھ کیا کیا ہوا اور اب ہماری کیا قومی ذمہ داری بنتی ہے۔

کتاب عمر رواں 

مزید :

صفحہ آخر -