بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کیلئے مذاکرات کا ڈرامہ رچانا چاہتا ہے: صدر آزاد کشمیر

  بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کیلئے مذاکرات کا ڈرامہ رچانا چاہتا ...

  

 اسلام آباد(این این آئی)آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے، مقبوضہ جموں وکشمیر کے بارے میں اپنے غیر قانونی اقدامات کی سند جواز حاصل کرنے اور وہاں اپنے قبضہ کو مزید مستحکم کرنے کیلئے  وقت حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کی بساط بچھانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے عوام اگست 2019ء کے بعد نسل کشی سمیت غیر انسانی مظالم کی بھٹی میں مسلسل جل رہے ہیں اور اپنے تاریخ کے اس تاریک ترین وقت میں وہ جس ملک کی طرف مدد کے لئے دیکھ رہے ہیں وہ صرف پاکستان ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ایک قومی انگریزی جریدے کیلئے لکھے گئے اپنے ایک خصوصی مضمون میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اگرچہ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل پر یقین رکھتا ہے لیکن اس مرحلہ پر بھارت کے ساتھ دوطرفہ بات چیت سے ہماری طرف سے غیر دانستہ طور پر یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں لائی گئی تبدیلیوں کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کا مسئلہ براہ راست یا باالواسطہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ہندو مسلم فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بھی ہے جس کی بھارت کو ایک قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات معمول پر آنے سے بھارت کو سلامتی کونسل کے مستقل رکن بننے کی راہ ہموار ہوتی نظر آرہی ہے جس کے لئے سابق امریکی صدر اوباما کی طرح موجودہ جو بائیڈن انتظایہ بھی آمادہ ہو سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ اور کچھ بااثر خلیجی ریاستیں بھی پاکستان کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کشمیر میں اس سے پہلے جو ہوا سو ہوا پاکستان اس معاملے کو سرد خانے میں ڈال دے یا کم از کم فیس سیونگ کے لئے کسی مصنوعی فارمولے پر اتفاق کر لے۔ صدر آزادکشمیر نے تحریر کیا ہے کہ ہمارا جواب بالکل واضح اور دوٹوک ہونا چاہیے کہ کشمیر کی قیمت پر بھارت کے ساتھ تعلقات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان فائر بندی کے اقدام کو چھوڑ کر ہمیں اور کوئی قدم اٹھانے سے پہلے بار بار سوچنا ہو گا اور ہماری یہ پالیسی اُس وقت تک قائم رہنی چاہیے جب تک بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بحال اور اپنے آئین کی دفعہ 35-Aکو بحا ل کر کے اس میں دئیے گے کشمیریوں کے حقوق کو لوٹا نہیں دیتا۔ 

 صدر آزاد کشمیر

مزید :

صفحہ آخر -