افغانستان میں مسلح جھڑپیں، پولیس سربراہ سمیت11افراد ہلاک

افغانستان میں مسلح جھڑپیں، پولیس سربراہ سمیت11افراد ہلاک

  

کابل(شِنہوا،این این آئی)شمالی صوبہ تخار میں ہفتہ کی رات مسلح جھڑپوں کے دوران 4 افغان پولیس اہلکار اور7 طالبان عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے مضافاتی ضلع نمک آب پر دھاوابولنے کے بعد شدید جھڑپیں شروع ہوئیں۔مقامی حکومت کے ترجمان حامد مبریز نے گزشتہ روز شِنہوا کو بتایا کہ عسکریت پسندوں کو پیش (بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

قدمی سے روکنے کی کوشش میں ضلعی پولیس سربراہ عبدالظاہر اور 3پولیس افسران شہید ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ 2پولیس اہلکار اور 3عسکریت پسند زخمی ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسند نمک آب پر چڑھ دوڑے اور باقی سکیورٹی فورسز قریبی ضلع کی جانب پسپاہوگئیں۔علاوہ ازیں ضلعی سربراہ نازکمیر امیری نے بتایا کہ صوبہ قندوز میں ہفتہ کی رات کو سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کے دوران طالبان کا ایک مارٹر گولہ ضلع امام صاحب پر گرنے کے باعث ایک بچے سمیت 3 شہری جاں بحق جبکہ 4زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب قبائلی عمائدین افغان فوجیوں کو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دینے لگے، سکیورٹی فورسز نے درجنوں عمائدین کو گرفتار کرلیا گیا۔افغان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ گزشتہ دو ہفتے سے جاری ہے اور یہ گرفتاریاں اس لیے کی جارہی ہیں کہ افغان فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دینا دراصل دشمن کی براہ راست معاونت ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے تین سو کے قریب افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈالے تھے، افغان رکن پارلیمنٹ فوزیہ رافی کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے ہوائی مددکیلئے کئی روز تک مطالبہ کیا، مگر کچھ نہیں ہوا، یہ ایک المیہ طالبان کی مزید تقویت کا باعث بنا کہ 84 گاڑیاں، گولہ بارود اور دیگر ہتھیار طالبان کے قبضے میں چلے گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان مئی 2021 کے آغاز سے اب تک 20 اضلاع پر قبضے کرچکے ہیں، جن سے متعلق حکومت نے کچھ اضلاع پر قبضہ تسلیم کیا ہے تاہم تفصیلات نہیں بتائیں۔

مسلح جھڑپیں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -