زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر زرعی پالیسیاں بنائی جائیں، صنعت کار

  زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر زرعی پالیسیاں بنائی جائیں، صنعت کار

  

ہارون آباد (نامہ نگار)  فیڈریشن آف پاکستان کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریجنل آفس میں ایک اجلاس زیر صدارت ریجنل چیئرمین محمد سلیم بھلر منعقد ہوا، جس میں کنوینیر کاٹن اینڈ ٹیکسٹائل کمیٹی ملک طلعت سہیل، ممبرز کاٹن اینڈ ٹیکسٹائل کمیٹی ملک سجاد احمد علوی، چوہدری عبدالغفار، رانا ندیم سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی، اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر خصوصی (بقیہ نمبر43صفحہ7پر)

برائے فوڈ سیکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے خصوصی طور پر شرکت اور کپاس و دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، معروف صنعت کار اور ممبر کاٹن اینڈ ٹیکسٹائل کمیٹی ملک سجاد احمد علوی نے ضلع بہاولنگر کے کپاس کے کاشت کاروں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے حل کیلئے سنجیدہ اور قابل عمل اقدامات تجویز کیے اور کہا کہ ضلع بہاولنگر سمیت بہاول پور ڈویژن کی کاٹن بیلٹ نے پاکستان کے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو عالمی معیار کی کپاس پیدا کرنے میں اپنا نمایاں مقام حاصل کر رکھا ہے لیکن حکومت نے اس علاقے کے کاشت کاروں کو نظرانداز کر دیا ہے جس کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کمی کا سامنا کرنا پڑا،گزشتہ برس ملک بھر میں صرف 56چھپن لاکھ گانٹھیں پیدا ہوئیں اور ان میں اکیلے ضلع بہاولنگر کا حصہ دس لاکھ گانٹھیں رہا اور حکومتی عدم سرپرستی کے باوجود یہ بہت بڑا کارنامہ ہے،افسوس کا امر یہ ہے کہ حکومت پانی کی کمی کے شکار بہاولنگر ضلع میں چاول کی کاشت کا نکتہ نظر رکھتی ہے جو کسی بھی پہلو سے کاشت کاروں کے لیے مفید نہیں ہے،حکومت غیر حقیقی اور ناقابل عمل پالیسیوں کی بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر زرعی پالیسی اختیار کر ے تاکہ زراعت ترقی کے راستے پر گامزن رہ سکے،جذباتی اور کاغذی پالیسیوں سے زراعت کو پہلے ہی نقصان کا سامنا ہے،حکومت کو سب سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ملک میں کپاس اتنی کم کیوں پیدا ہوئی ہے۔

زمینی حقائق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -