تعلیمی تحقیق چوری، الزام حقائق کو مسخ کرنیکی کوشش، ذرائع

  تعلیمی تحقیق چوری، الزام حقائق کو مسخ کرنیکی کوشش، ذرائع

  

رحیم یارخان (بیورو رپورٹ) گذشتہ کچھ دن سے سوشل میڈیا اور اخبارات میں خبر گردش کر رہی ہے جس میں فرخ اقبال نامی شخص کی طرف سے وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر, ڈاکٹر صغیر اور ڈاکٹر بلال پر ان کے فیول جرنل میں اکتوبر 2020 میں شائع ہونے والے ریسرچ آرٹیکل کے حوالے سے ڈیٹا plagiarism کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ ذاتی مفاد کے لئے محض حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کی کوشش ہے جس کا حقیقت سے کوئی(بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

 تعلق نہیں ہے۔ اصل حقائق یہ ہیں کہ نمیر منظور سیشن 2017-2019 پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر کا یونیورسٹی آف گجرات میں ایم ایس کا سٹوڈنٹ تھا جس کی ریسرچ سپروائزری کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر، ڈاکٹر بلال اور ڈاکٹر صغیر شامل تھے۔نمیر منظور نے اپنے تھیسز سے دو ریسرچ پیپر چھپوائے جن میں سے ایک جنوری 2020 میں سپروائزر کے نام کے بغیر چھپا اور دوسرے پیپر کو چھپوانے کے لئے نمیر منظور نے ڈاکٹر بلال طاہر سے مدد کی درخواست کی اور پیپر انہیں ای میل کیا۔ ڈاکٹر بلال طاہر اور ڈاکٹر صغیر نے ریسرچ پیپر میں مزید بہتری کے بعد 31 جنوری 2020 کو فیول نامی ریسرچ جرنل کو بھجوا دیا جو کہ 11 اکتوبر 2020 کو شائع ہوا۔ یاد رہے اس وقت پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر یونیورسٹی آف گجرات میں نہیں بلکہ بطور وائس چانسلر رحیم یار خان میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے اور ان کی غیر موجودگی میں سپروائزری کمیٹی نے ریسرچ پیپر بھجوایا۔ اسی دوران فرخ اقبال کا ایک ریسرچ پیپر مارچ 2020 میں شائع ہوا۔ اکتوبر میں شائع ہونے والے پیپر کے فورا بعد فرخ اقبال جو کہ یونیورسٹی آف گجرات کا سٹوڈنٹ نہیں تھا اس نے دعوی کیا کہ اس ریسرچ میں شائع ہونے والا ڈیٹا اس کا ہے اور اس ضمن میں ڈاکٹر بلال طاہر اور ڈاکٹر صغیر سے 19 اکتوبر کو بذریعہ  ای میل رابطہ کیا۔ ڈاکٹر بلال طاہر نے بذریعہ ای میل فرخ اقبال سے اس کے دعوے کے متعلق ثبوت مانگے مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ڈاکٹر بلال طاہر نیپہلے ہی 16 اکتوبر 2020 کو فیول جرنل جس میں پیپر شائع ہوا تھا کو ای میل کی جس میں پیپر کو withdraw/retractکرنے کی درخواست کی۔ جس پر بعد میں جرنل کے ایڈیٹر نے بذریعہ کمیٹی decision دیا اور ان کی درخواست منظور کر لی۔ اس ضمن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ معاملہ تو یونیورسٹی آف گجرات کے سٹوڈنٹ کا ہے جبکہ اسے خواجہ فرید یونیورسٹی سے جوڑا جا رہا ہے۔دوسرا ڈاکٹر بلال نے نمیر منظور کا پیپر فیول جرنل کو 31 جنوری2020 کو بھجوایا جبکہ فرخ کا ریسرچ پیپر مارچ 2020 میں چھپتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرخ کا ڈیٹا چھپنے سے پہلے نمیر منظور کے پاس کیسے آیا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرخ اقبال کا plagiarism کا دعویٰ بے بنیاد اور بددیانتی پر مبنی ہے۔ تیسرا ڈاکٹر بلال جو کہ ریسرچ پیپر کے corresponding authorہیں پیپر ان کی پہلے سے بھجوائی گء درخواست پر retract ہوا نہ کہ فرخ کی درخواست پر۔ چوتھا فرخ اقبال نمیر منظور کے تھیسز پر مبنی ریسرچ پیپر کے باقی رائیٹرز پر اعتراض اٹھاتا ہے مگر نمیر منظور پر، اس کے جنوری 2020 میں چھپنے والے پیپر پر جس میں NUST یونیورسٹی سے co-authors شامل ہیں ان پر اور اس کے ایم ایس تھیسز پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرخ اقبال سازش کا حصہ بن کر مفادات حاصل کرنے کے لئے پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر اور باقی لوگوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پانچواں یہ کہ نمیر منظور کے پہلے چھپنے والے ریسرچ پیپرز اور فرخ کے اس کے بعد چھپنے والے پیپرز کے co-authors ایک ہی ہیں جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سازش میں اور لوگ بھی ملوث ہیں جو نہ صرف حقائق کو مسخ کر رہے ہیں بلکہ گمراہ کن پراپیگینڈے میں بھی ملوث ہیں۔ ایچ ای سی کی تھیسز سپروائزری پالیسی کے مطابق اگر تھیسز میں اس طرح کا کوئی پرابلم ہو تو اس کا ذمہ دار سٹوڈنٹ ہوتا ہے نہ کہ سپروائزر۔ اس ضمن میں پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر نے یونیورسٹی آف گجرات کو بذریعہ ای میل معاملے کی قانون کے مطابق تحقیقات کی اور تھیسز کو دوبارہ سے evaluate کرنے کی درخواست کی ہے۔ فرخ منظور نے جھوٹی اور من گھڑت درخواستیں مختلف محکموں میں جمع کروائیں اور کسی کاروائی سے  پہلے خود ہی سوشل میڈیا پر بے بنیاد منفی پروپیگینڈا شروع کر دیا۔ اس لئے فرخ کے خلاف Defamation کے قانون اور ضابطے کے مطابق کاروائی بھی کی جائے گی۔ ۔ گذشتہ دور کے تین سو سے زائد آڈٹ پیرا ز، بے ضابطگیوں، نیب اور اینٹی کرپشن انکوئریز سے توجہ ہٹانے کے لئے سابقہ دور میں فائدہ اٹھانے والے لوگ فرخ  اقبال کو استعمال کر رہے ہیں  جس کا مقصد ادارے کی تیز رفتار ترقی کو روکنا، انتظامیہ کا وقت ضائع کرنااور انتظامیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ ایک بے بنیاد پراپیگنڈا ہے جو کہ نہ تو حقائق پر مبنی ہے اور نہ ہی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے۔

ذرائع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -