حکومتی پالیسیوں سے ملکی معیشت تباہ، تبدیلی سرکار کاجانا ضروری، فیاض الدین

  حکومتی پالیسیوں سے ملکی معیشت تباہ، تبدیلی سرکار کاجانا ضروری، فیاض الدین

  

خان پور(نامہ نگار)مسلم لیگ ن کے ایم این اے شیخ فیاض الدین مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شیخ وقار الدین شیخ حمادالدین شیخ زیشان علی مسلم لیگی کونسلر سید مظہر شاہ۔مرزا عادل سہیل چوہدری نوید. نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے عمران خان کو بجلی کے بل بڑھانے کی ہدایت کی اور پی ٹی آئی حکومت نے بجلی مہنگی کرنے کا آرڈیننس جاری کردیا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے آئی ایم ایف کی ہدایات پر پاکستانی معیشت کو چلاکر ملکی وقار کو ملیامیٹ کردیا ہے، پاکستان کے عوام اپنے بجلی اور گیس کے مہنگے بلوں کے ذریعے عمران خان کی آئی ایم ایف ڈیل(بقیہ نمبر2صفحہ6پر)

 میں نااہلی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہنگی بجلی کے صدارتی آرڈیننس اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے بعد عمران خان عوام کی جیبوں سے 700 ارب روپے سے زائد نکالنے کا منصوبہ بناچکے ہیں۔   اپنی اس کارکردگی پر فخر ہوچکا ہے، عوام ہاتھوں میں بجلی اور گیس کے مہنگے بل لئے اس کارکردگی ماسٹر کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آٹھ روپے فی یونٹ پر بجلی کا بل پھاڑدینے والے عمران خان 21 روپے فی یونٹ تک بجلی مہنگی کرکے اپنی کارکردگی کے گن گارہے ہیں۔  مدینہ کی ریاست میں متوسط طبقے کے ایک عام آدمی کی جمع پونجی صرف بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی میں گزر جاتی ہے وزیراعظم گیس اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کرکے غریب آدمی پر معاشی بم گرانے کے بجائے اپنی جہازی سائز کابینہ کے شاہانہ خرچے کم کریں، بجلی اور گیس کے مہنگے بلوں کی صورت میں پاکستان کے عوام تبدیلی کی خوف ناک قیمت ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی ظالم حکومت کا 300 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے عام صارفین کیلئے بھی بجلی مہنگی کرنا غریب دشمنی کی انتہا ہے، عمران خان کم از کم بجلی کے300 سے کم یونٹ استعمال کرنے والے عام آدمی کیلئے فی الفور نرخوں میں کمی کا اعلان کریں۔  بجلی اور گیس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے نے ملک میں مہنگائی کا سونامی لاکر تباہی مچادی ہے۔ بجلی اور گیس مہنگی ہونے کی وجہ سے بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی سے برآمدات کا شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ کھاد کو مہنگا کردے گا جس سے زراعت سے وابستہ ملک کی 43 فیصد افرادی قوت اور جی ڈی پی کا 20 فیصد حصہ متاثر ہوگا۔

فیاض الدین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -