دیو مالائی حسن کا شاہکار 

دیو مالائی حسن کا شاہکار 
دیو مالائی حسن کا شاہکار 

  

تبت میں قیام کے دوران یہ کوشش رہی کہ یہاں اقتصادی سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ فطری ماحول کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی دیکھا جائے اور ایسے عوامل کو اجاگر کیا جائے جس سے پتہ چلے کہ تبت جیسے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں چینی حکومت کیسے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے۔

چھنگ ہائی۔ تبت سطح مرتفع کو "ایشیاء کا واٹر ٹاور" بھی کہا جاتا ہے لہذا  تبت کو چین کی ماحولیاتی سلامتی کا ایک اہم ضامن سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چینی حکومت تبت میں  ماحولیاتی تحفظ کو  نمایاں اہمیت دیتی ہے۔ انسانیت اور فطرت کے مابین ہم آہنگ ترقی پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے مقصد کے تحت چینی حکومت نے تبت میں اداروں کی استعداد کار میں اضافے ، مضبوط سائنسی و تکنیکی حمایت سمیت  ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے مستقل اقدامات کیے ہیں۔

اس وقت تبت کا ماحولیاتی نظام مجموعی طور پر مستحکم ہے۔ ماحولیاتی معیار میں مسلسل بہتری آرہی ہے ، ایک سبز ترقیاتی نمونہ موجود ہے اور  شہریوں کے ماحولیاتی حقوق اور مفادات زیادہ محفوظ ہیں۔ تبت کے شہریوں کے دلوں میں یہ تصور زندہ ہے کہ صاف پانی اور سبز رنگ کے پہاڑ انمول اثاثے ہیں۔انہی کوششوں کے نتیجے میں  تبت ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جو عالمی سطح پر بہترین ماحولیات کا حامل ہے۔

تبت میں2012  کے بعد سے تحفظ ماحول  کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے متعدد ضوابط جاری کیے گئے ہیں۔ یہاں پہاڑوں ، ندیوں ، جنگلات ، کھیتوں ، جھیلوں اور چراگاہوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع نقطہ نظر اپنایا گیا ہے۔ پانی اور مٹی کے تحفظ اور مٹی کے کٹاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔آبی زخائر کے بہتر انتطام کو یقینی بنانے کے لیے ذمہ داری کا ایک نظام وضع کیا گیا ہے جس میں مختلف سطحوں کے عہدیداروں کو مخصوص ندیوں اور جھیلوں کی گورننس کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ اس نظام میں شہر ، کاؤنٹی ، بستی اور دیہات کی سطح پر 14,800 اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آبی وسائل کی صفائی کے لیے دریا کنارے غیرقانونی قبضے و تعمیرات کے خاتمے ، کان کنی اور فضلے کے بہتر انتظام  کے لیے ایک منظم اور معیاری عمل اپنایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑے دریاؤں اور جھیلوں کے پانی کا معیار عمومی طور پر اچھا ہے۔ 

آبی وسائل کے تحفظ کی بات کی جائے تو تبت کے شہر   شان نان میں واقع یام دروک جھیل جانے کا ایسا منفرد اور حیرت انگیز تجربہ ہوا جسے کافی عرصے تک بھلایا نہیں جا سکے گا۔ اس جھیل کا شمار تبت میں تین انتہائی مقدس جھیلوں میں کیا جاتا ہے ،  سطح سمند سے تقریباً 4800میٹر بلندی پر واقع یہ جھیل قدرت کا ایک دلکش شاہکار ہے اور یہاں آنے والے سیاح اس کے دیومالائی حسن میں کھو جاتے ہیں۔اس جھیل کی لمبائی تقریباً 72کلومیٹر ہے جبکہ گہرائی 40میٹر ہے ۔ اس کا شمار چین میں تازہ پانی کی بڑی ترین جھیلوں میں کیا جاتا ہے۔ یام دروک جھیل چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے ، مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش سیاحت اور جانوروں کی افزائش ہے۔جھیل کے پاس چراگاہوں میں یاک دیکھے جا سکتے ہیں اور  نیلے شفاف پانی کے اوپر مختلف رنگ کے پرندے بھی ماحول کو مزید دلفریب بنا دیتے ہیں۔اچھی بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ جھیل کے آس پاس آپ کو کسی قسم کے پلاسٹک شاپر  کوڑا کرکٹ یا گندگی نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی کسی کو جھیل میں نہاتے یا پانی میں جاتے دیکھا۔سب لوگ جھیل کنارے بیٹھ کر فطری خوبصورتی کے گن گاتے اور تصاویر اتارتے نظر آئے۔ چینی سماج کی اسے خوبی کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ فطرت کے حقیقی روپ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ 

تبت میں مجموعی طور پر گیارہ  نیچرل ریزرو  ، چار قومی سیاحتی مقامات، تین قومی ارضیاتی پارکس ، نو قومی جنگلاتی پارکس ، اور بائیس قومی ویٹ لینڈ پارکس ہیں۔ اس خطے کی مجموعی اراضی کا تقریباً 40 فیصد محفوظ قدرتی علاقوں پر مشتمل ہے۔ تبت میں صحرا کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ایک جامع مثالی زون موجود ہے اور بروقت اقدامات کی بدولت صحرائی رقبے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تبت میں 2020 تک جنگلات کا رقبہ 12.3 فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔

تبت بھر میں جنگلی جانور اور ان کے مسکن بہتر طور پر محفوظ ہیں۔یہاں تبتی ہرن سمیت دیگر جانداروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ تحفظ ماحول کی خاطر تبت میں شفاف توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔قابل زکر طور پر تبت میں 2015 تا 2020 کے آخر تک  6.5 بلین کلو واٹ شفاف توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی پیدا  کی گئی ہے ، جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ٹھوس کچرے کو تلف کرنے کے لیے ضوابط متعارف کروائے گئے ہیں جبکہ کاونٹی سطح پر گھریلو فضلے کو محفوظ طور پر ٹھکانے لگانے کی شرح 97.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے ،  تمام طبی فضلے کو بھی مناسب طور پر اکھٹا کرتے ہوئے تلف کیا جاتا ہے۔تبت میں خوراک کی بچت کی حوصلہ افزائی اور خوراک کے ضیاع کی حوصلہ شکنی کی مہم جاری ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے باسی پانی اور بجلی جیسے وسائل کی بچت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ نئی توانائی سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اورگرین لائف اسٹائل شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جارہا ہے۔اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جس ہوٹل میں ہمارا قیام ہے وہاں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی ہے اور پلاسٹک شاپر آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گا۔

مجموعی طور پر ایک خوبصورت تبت کی تعمیر کا اقدام تیزی سے آگے بڑھا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آئندہ برسوں میں ایک مزید گرین ،ماحول دوست اور صاف ستھرا تبت تعمیر کیا جائے تاکہ نا صرف مقامی لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری لائی جا سکے بلکہ دنیا بھر سے سیاحوں کو تبت کی جانب راغب کیا جا سکے۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -