ملائیشین طیارے ایم ایچ 17کی تباہی ، ایوی ایشن کی ماہر خاتون نئی تھیوری سامنے لے آئیں

ملائیشین طیارے ایم ایچ 17کی تباہی ، ایوی ایشن کی ماہر خاتون نئی تھیوری سامنے ...
ملائیشین طیارے ایم ایچ 17کی تباہی ، ایوی ایشن کی ماہر خاتون نئی تھیوری سامنے لے آئیں
سورس: Wikimedia Commons

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ملائیشین ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 17، 17جولائی 2014ءکو ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ یوکرین کے اوپر سے گزرتے ہوئے اسے میزائل سے نشانہ بنا کر مارگرایا گیا جس سے اس میں سوار تمام 283مسافر اور عملے کے 15افراد موت کے گھاٹ اتر گئے تھے۔ اب ایوی ایشن انڈسٹری کی ایک ماہرخاتون نے اس واردات کا الزام روسی صدر ولادی میر پیوٹن پر عائد کر دیا ہے۔

دی سن کے مطابق فلورنس ڈی شینگی نامی یہ ماہر 2014ءسے ملائیشین ایئرلائنز کی لاپتہ ہونے والی پرواز ایم ایچ 370پر تحقیقات کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم ایچ 370کی گمشدگی کا ایم ایچ 17کی تباہی سے تعلق ہو سکتا ہے، جسے ایم ایچ 370کی گمشدگی کے محض چار ماہ بعد یوکرین میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ 

اپنی کتاب The Disappearing Act: The Impossible Case of MH370میں فلورنس ڈی شینگی نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ طور پر روسی صدر پیوٹن نے ایم ایچ 17کو مارگرانے کا حکم دیا تھا، جس کا مقصد امریکہ سے انتقام لینا اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ قربت بڑھانا تھا۔ 

فلورنس کا دعویٰ ہے کہ ایم ایچ 370کو دراصل امریکی ایئرفورس نے تباہ کیا تھا کیونکہ اس میں خفیہ ٹیک چین منتقل کی جا رہی تھی۔ اس پرواز میں 153چینی شہری بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ خفیہ ٹیکنالوجی کے حصول میں ناکامی اور اپنے شہریوں کی ہلاکت پر چینی صدر شی جن پنگ شدید برانگیختہ تھے، چنانچہ صدر پیوٹن نے مبینہ طور پر چینیوں کا انتقام لینے کے لیے ایم ایچ 17کو مار گرانے کا حکم دیا۔ 

فلورنس نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایم ایچ 370کے لاپتہ ہونے کے بعد صدر پیوٹن نے چینی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”جو کچھ ہوا ہے وہ قطعاً ناقابل قبول ہے۔ آپ یہ معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں۔“اس کے محض 4ماہ بعد ایم ایچ 17کو تباہ کیے جانے کا واقعہ پیش آ گیا۔ اس پرواز میں کوئی ایک بھی چینی شہری سوار نہیں تھاجو کہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس جہازکو منصوبہ بندی سے تباہ کیا گیا۔

فلورنس کا کہنا تھا کہ ”ایک ہی فضائی کمپنی کے دو طیارے، جو دونوں ایک ہی ماڈل کے ہوائی جہاز تھے، محض 4ماہ کے عرصے میں تباہ کر دیئے گئے۔ اسے ہم محض اتفاق نہیں کہہ سکتے۔ ان دونوں واقعات میں ایک تعلق ہے او ر یہ دونوں واقعات محض بدقسمتی نہیں ہیں۔ یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔“

مزید :

برطانیہ -