ہنزائیوں کی ہمت اور جینے کی امنگ فلک بوس پہا ڑوں سے زیادہ بلند اورمضبوط ہے۔ فطرت کے لشکر اس سے ٹکرا کر رخ بدل لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں

ہنزائیوں کی ہمت اور جینے کی امنگ فلک بوس پہا ڑوں سے زیادہ بلند اورمضبوط ہے۔ ...
ہنزائیوں کی ہمت اور جینے کی امنگ فلک بوس پہا ڑوں سے زیادہ بلند اورمضبوط ہے۔ فطرت کے لشکر اس سے ٹکرا کر رخ بدل لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:108

 چشمے کے اوپر، کچھ دور کنکریٹ کا ایک پل تھا۔۔۔ جو کبھی  تھا، جسے یہ چشمہ کچھ عرصہ قبل طغیا نی میں بہا کر لے گیا تھا۔اس کا سارا ڈھا نچا مو جود تھا سوائے اس حصے کے جسے پُل کہتے ہیں۔ یہاں آ ئے دن پُل بنتے اور مونھ زور چشموں سے ٹو ٹتے رہتے ہیں۔ پھر بنتے ہیں پھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ شکست و ریخت اور بود و نا بود بھری زندگی میں صرف ایک چیز پائیدار ہے، جو ہر طغیان اور ہر طوفان کے سامنے ڈٹی رہتی ہے اور اپنی جگہ نہیں چھو ڑتی۔۔۔ ہنزائیوں کی ہمت اور جینے کی امنگ ، جو اِن فلک بوس پہا ڑوں سے زیادہ بلند اورمضبوط ہے۔ فطرت کے لشکر اس سے ٹکرا کر رخ بدل لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن اس سخت جانی اور حو صلے کے قدم نہیں اکھا ڑ پاتے۔ یہ اس راستے کا آٹھواں پل تھا اور شمشال کے راستے کا آ خری پُل۔ اس کا ایک مطلب یہ تھا کہ آگے راستہ صاف ہے۔۔۔لیکن یہ ہماری غلط فہمی تھی۔ 

تھور یُک:

جیپ نے ابھی تھوڑا سا فا صلہ ہی طے کیا تھا کہ ایک بار پھر رک گئی۔۔۔۔۔ سامنے ایک اور چشمہ تھا۔

”اوہ نو!“ عثمان کے مونھ سے سسکی آ میز آواز نکلی۔ اس نے پاؤں کی ٹھنڈ دور کر نے کے لیے ابھی بیگ سے خشک اور مو ٹی جرابیں نکال کر پہنی تھیں۔ 

یہ ”تھور یُک“ تھا۔۔۔ چھو ٹا پانی۔ یہ بھی اسی ملنگو ٹی گلیشئیر کی کوکھ سے نکل کر آ رہا تھا اور نہایت برفیلا تھا۔ اس کی چو ڑائی پُرک یُک سے کم تھی البتہ پانی کی مقدار اور اس کا بہاؤ سہ پہر کی وجہ سے اتنا ہی تھا لیکن اب ہماری جھجھک کم ہو چکی تھی اس لیے نذیر علی کے کہے سے جوتے اتار کر پا نی میں اتر گئے اور ایک بار پھر رانوں تک ادھ پگھلی برف کے نو کیلے اور کانٹوں بھرے دھاروں میں چھو ٹے بڑے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتے، ٹھنڈک سے ٹا نگوں میں اٹھنے والی درد کی مو جو ں کو سہتے پار اتر گئے۔ 

آ گے کا سفر سیدھا تھا۔ علاقہ کھلا تھا۔ دریا ہمیں یہاں تک پہنچا کر نظر سے اوجھل ہو گیا تھا۔ جیپ کچھ پہا ڑی ٹیلوں اور ٹیڑھے میڑھے راستوں پر چل رہی تھی۔ پھر آ بادی کے آ ثار محسوس ہو نے لگے۔ نادیدہ انسانی وجود کا احساس پتھروں سے چنی ان چار دیواریوں سے ہو تا تھا جو کہیں کہیں دکھائی دیتی تھیں۔ زمین پر گھاس بھی دکھائی دینے لگی تھی۔ ہری گھاس اور پتھریلی زمین کے بیچ ہموار اور بے گیاہ راستہ بتا تا تھا کہ اس پر آ مد و رفت رہتی ہے۔ پھر پہاڑوں کے قدموں میں کہیں کہیں خر گوشوں کی طرح دبکے چند گھر دکھائی دیے جن کی کچی چھتوں پر بھی گھاس اگی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا وہ بے آ باد ہیں۔ یہ شمشال کا پہلا گاؤ ں فرمان آباد تھا۔ اس سے آگے امین آباد تھا۔ یہ کشادہ علاقہ تھا۔ یہاں زمین پرگہرے ہرے رنگ کی موجیں ابھرنے لگیں جو آہستہ آہستہ پھیل کر ان کھیتو ں میں تبدیل ہو گئیں، جن میں گندم کاشت تھی اور ابھی تک ہری تھی۔ ان کھیتوں میںاپنے کام میں مگن دو تین کسانوں میں سے ایک نے جیپ کی آواز پر سر اٹھا کر مسافروں کی طرف دیکھا اور پھر پانی کا زیاں روکنے کے لیے نالے کے ٹو ٹے ہو ئے سرے پر پتھر جوڑنے لگا۔ بائیں جانب کھیتوں کے پار دریا پھر دکھائی دینے لگا تھا۔ سڑک کے دائیں جانب بھی کھیتوں کا سلسلہ تھا۔ ایک جگہ کھیتوں کے درمیان ”جماعت خانہ“ نظر آیا۔ حسب ِ معمول عام گھروں کے مقابلے میں عبادت گاہ کی عمارت زیادہ مضبوط اور خوش نماءتھی۔ یہاں آ بادی کچھ زیادہ تھی۔ کسی کسی گھر پر ڈش اینٹینا کا تھال رکھا بھی نظر آتا تھا۔ کچھ بچے اپنے کھیل چھوڑ کر آ نے والے مسافروں کو گھروں کی منڈیرسے جھانک رہے تھے۔ سامنے کھلے نیلے آسمان میں تیرتے سفید بادلوں کے نیچے خشک پہا ڑوں کے دامن پر چھدری گھاس کا ہلکا ہرا رنگ جھلکتا تھا۔گھروں کی پشت پر پہاڑتھے۔ہری بھری فصلوں سے سجی زمین سے متصل پہاڑیوںپر کچھ اونچائی تک گھاس کی ہریالی تھی پھر سوکھے مٹیالے پہا ڑ تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے سبزہ چڑھائی سے تھک کر سستانے کے لیے رک گیا تھا۔

نذیر نے جیپ مٹی کے اونچے ٹیلے پر چڑھاکر ایک کچے صحن میں روک لی۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -