گالف کا کھیل ہے زندگی کی مانند ہے، نتیجہ منشا ء کے مطابق آ جائے تو آپ خوش ہو جاتے ہیں ناکامی کی صورت میں افسردگی چھا جاتی ہے

 گالف کا کھیل ہے زندگی کی مانند ہے، نتیجہ منشا ء کے مطابق آ جائے تو آپ خوش ہو ...
 گالف کا کھیل ہے زندگی کی مانند ہے، نتیجہ منشا ء کے مطابق آ جائے تو آپ خوش ہو جاتے ہیں ناکامی کی صورت میں افسردگی چھا جاتی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:139
گالف بلا شبہ ایک خوبصورت کھیل ہے۔ یہ زندگی ہی کی مانند ہے کیوں کہ یہاں بھی گیند کو آپ ایک مخصوص سمت اور اور مقررہ فاصلے کی طرف پھینکتے ہیں۔ اگر نتیجہ آپ کی منشا ء کے مطابق آ جاتا ہے تو آپ بہت خوش ہو جاتے ہیں لیکن ناکام ہو جانے کی صورت میں افسردگی چھا جاتی ہے۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ دونوں صورتوں میں آپ کو اپنا مزاج ٹھنڈا اور معتدل رکھنا چاہئے۔ گالف کسی انسان کی شخصیت کی آئینہ دار بھی ہے۔ ایک فائدہ اس کھیل کا یہ بھی ہے کہ گالف کورس عموماً شہر کے سب سے خوبصورت علاقے میں ہوتے ہیں جہاں خوبصورت باغات، گھنے درخت ہریالی اور بہترین قدرتی ماحول ہوتا ہے۔ جو ذہن کو تازگی دیتا ہے اور تناؤ کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں آپ ہر شعبے سے آئے ہوئے افراد سے ملتے ہیں جن سے نہ صرف آپ کی نئی نئی دوستیاں جنم لیتی ہیں بلکہ کاروباری یا آپ کے شعبے سے منسلک  لوگوں سے بھی مثبت بات چیت ہوتی رہتی ہے جواکثر اوقات بڑی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ جم خانہ میں گو ہمارے ساتھ ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں جو ساری سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن چونکہ یہ کھیل بڑا مہنگا ہے اس لیے یہاں زیادہ تر کھاتے پیتے لوگ ہی آتے ہیں۔ آپ کھلاڑیوں کے گروہ میں سے اپنی پسند کے وہ ساتھی منتخب کر سکتے ہیں جن کے ساتھ آپ کھیلنا پسند کریں گے۔
 یہاں میں بہت شاندار لوگوں سے ملا اور ان کی رفاقت میں کھیل کر بہت لطف آیا۔ میرے آج کل کے ایسے ہی ساتھیوں میں ڈاکٹر خالد،  الیاس چوہدری،ڈاکٹر ظفر کھوکھر اور اعظم خان ہیں۔ گالف کے کھیل میں ایک ٹیم میں 4 کھلاڑی ہوتے ہیں اس لیے ہمیں ناگہانی صورتحال سے نبٹنے کے لیے ایک اضافی کھلاڑی کو تیار رکھنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر خالد سے دوستی کی بھی ایک کہانی ہے،  2004 میں ایک دن میں نے  T۔1سے اپنا کھیل شروع کیا تو میں نے ایک بندے کو گرین میں کھڑا دیکھا، یہ وہ جگہ ہوتی ہے جو ہول کا اختتامی پوائنٹ ہوتا ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہ میرے قریب آیا  اور مسکراتے ہوئے مجھے کہنے لگا کہ کیا میں آپ کے ساتھ کھیل سکتا ہوں۔ میں نے ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر فوراً ہی اثبات میں سر ہلا دیا اور ان کو خوش آمدید کہا۔ راستے میں ہم نے آپس میں گپ شپ بھی شروع کر دی۔ گالف کے کھیل میں یہی ایک مزیدار بات ہوتی ہے کہ آپس میں بات چیت کا مسلسل موقع ملتا رہتا ہے۔اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور حکومت کی ملازمت سے ریٹائر ہو کر اپنا مطب چلا رہا ہے جس کا نام ڈاکٹر خالد کلینک ہے۔ ہم جب نویں ہول کے خاتمے تک پہنچے تو ہم ایک دوسرے کے بارے میں اچھی طرح جان کر گہری دوستی کے ناطے میں بندھ گئے تھے، جو بھائیوں کی طرح ہے اور آج بھی قائم ہے۔ اور اب وہ ہمارے خاندانی طبیب بھی ہیں۔ الیاس چوہدری ایک کاروباری شخصیت ہیں اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر بھی ہیں۔ وہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں۔ ان کو مختلف قسم کی معلومات جمع کرنے کا جنون ہے، جو اکثر اوقات دوسروں کے کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً وہ آپ کو شہر کے تمام اچھے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے بارے میں بتائیں گے اور اگر ضرورت ہوئی تو آپ کو وہاں لے بھی جائیں گے۔ بہت ہی نفیس اور شریف انسان ہیں میں اُنھیں پیار سے انسائیکلوپیڈیا کہتا ہوں۔ کھانے کے معاملے میں بھی ان کا معیار بہت اعلیٰ ہے۔ وہ طرح طرح کے مزیدار کھانوں سے دوستوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں۔ میں ڈاکٹر خالد کی وساطت سے اعظم خان سے بھی ملا۔ یہ دونوں  45 سال سے بھی زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ اعظم خان ایک خوش لباس اور اشرافیہ روایتوں کے امین ہیں جن میں کبھی کبھار ایک بیوروکریٹ کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ ہمارے گروپ میں تازہ ترین اضافہ ڈاکٹرکھوکھر ہیں۔ ہیں تو وہ ایک قابل ڈاکٹر مگر ان کا زیادہ تر تجربہ انتظامیہ سے متعلق ہے۔ وہ کچھ برس پہلے ہی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے کوچ سے کچھ ایسے جوش و خروش سے سیکھا کہ اب وہ ہم سب کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -