تعلیمی نظام میں بڑا نقص یہ ہے کہ ہم بولنے پر زیادہ زور دیتے ہیں ”سننے“ پر کم جبکہ ”بات کرنے کے فن“ پر دنیا بھر میں تعلیم دی جاتی ہے

 تعلیمی نظام میں بڑا نقص یہ ہے کہ ہم بولنے پر زیادہ زور دیتے ہیں ”سننے“ پر ...
 تعلیمی نظام میں بڑا نقص یہ ہے کہ ہم بولنے پر زیادہ زور دیتے ہیں ”سننے“ پر کم جبکہ ”بات کرنے کے فن“ پر دنیا بھر میں تعلیم دی جاتی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:126
ہمارا یہ رویہ درست نہیں ہے کہ ہم زیادہ سے بولتے ہیں اور دوسروں کی بات کرنے کی حد تک نہیں سنتے:
ہمارے تعلیمی نظام میں ایک بہت بڑا نقص اور خرابی یہ ہے کہ ہم بولنے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں جبکہ ”سننے“ پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ ”بات کرنے کے فن“ کے متعلق دنیا بھر میں تعلیم دی جاتی ہے، اس موضوع پر اس قدر زیادہ کتابیں موجود ہیں کہ لائبریریاں بھری پڑی ہیں لیکن مخاطب کی بات مؤثر اور مناسب طور پر سننے یا کسی کتاب کو موثر اور مناسب طور پر پڑھنے کے موضوع کے حوالے سے تراکیب کے متعلق بہت کم تحقیقی کا وشیں کی گئی ہیں۔
ایک معروف سیاستدان نے کانگرس میں اس بنا پر نشست جیت لی اور اسے دوسروں کی بات سننے کا فن آتا تھا:
میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ دوسروں کی بات کو مؤثر اور مناسب طور پر سننے کے ضمن میں ایک ترکیب آزمانے کے ذریعے اس نے کیسے اپنے انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔
اس نے مجھے بتایا ”اکثر سیاستدان اپنے حلقہ انتخاب میں ایک مخصوص جماعت یا تنظیم کا سہارا لے کر انتخاب کنندگان کے سامنے تقریر کر تے ہیں اور اس تقریر کے ذریعے وہ اپنے متعلق کچھ بتاتے ہیں، لوگوں کے مطالبات کے متعلق بات کرتے ہیں اور ادھر ادھر کی ہانک کر چلے جاتے ہیں لیکن درحقیقت انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ووٹر (انتخاب کنندگان) کیا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں میں نے ایک دوسرا اور علیحدہ طریقہ استعمال کیا۔ میں نے اپنی تمام تر انتخابی مہم کے لیے صرف ایک محوری نکتہ مقرر کیا یعنی ”اپنے مسائل مجھے بتائیے میں انہیں حل کرنے کی کوشش کروں گا“۔ اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں، میں جہاں کہیں بھی گیا، میں نے اپنے انتخاب کنندگان سے یہی کہا کہ وہ مجھے اپنے مسائل بتائیں۔ اور پھر میں نے انہیں ان کے مسائل کا فوری حل بتانے سے گریز کیا اور انہیں تسلی تشفی پر ٹرخا دیا۔“
اس نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا ”تم یقین نہیں کر سکو گے کہ انہوں نے کیسے کیسے مسائل میرے سامنے پیش کیئے“ مثلاً: 
1:”کیا تم میرے بیٹے کی قید کی مدت کم کروانے میں میری مدد کر سکتے ہو؟“
2:”میری بیٹی کی بینائی ختم ہو رہی ہے لیکن لیرز سرجری کرانے کے لیے میرے پاس رقم نہیں ہے۔“
3:”عدالت، مجھے اپنے بیٹے سے ملنے نہیں دیتی۔“
4:میرے مزارعے میری زمین پر کاشتکاری کر رہے ہیں لیکن جب میں ان سے زمین کا کرایہ وصول کرنے جاتا ہوں تو وہ میری ہنسی اڑاتے ہیں۔“
اس طرح اپنی انتخابی مہم کے دوران میرے پاس ہزاروں شکایتیں اور مسائل جمع ہوگئے۔ جن لوگوں نے اپنے مسائل کے ضمن میں مجھ سے مدد طلب کی تھی، میں نے ان کے نام اور پتے حاصل کیے اور پھر میرے عملے نے انہیں شکریے کے خطوط لکھے اور انہیں یہ بتایا کہ اگر انہوں نے مجھے منتخب کر لیا تو میرا وعدہ ہے کہ میں یہ تمام مسائل حل کروں گا۔“
میرے دوست نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا: ”تمہیں بھی معلوم ہے کہ میں واضح اکثریت سے منتخب ہوگیا۔ یہ حقیقت کہ میں ابھی کانگرس میں موجود ہوں، اس امر کا ثبوت ہے کہ میں لوگوں کی شخصیات کے قطع نظر ان کے پیش کردہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، اور ابھی تک کر رہا ہوں۔“
شہری، گاہک، ملازمین، افراد خانہ، پڑوسی، ہر طرح کے لوگ اپنی بات سنانا چاہتے ہیں، انہیں بولنے دیں، اور اس طرح آپ ان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -