یوکرائن نے کریمیا سے اپنی افواج کے انخلاءکا اعلان کر دیا

یوکرائن نے کریمیا سے اپنی افواج کے انخلاءکا اعلان کر دیا

 کیف (آن لائن) یوکرائن نے کریمیا سے اپنی افواج کے انخلاءکا اعلان کر دیا ہے۔ کیف حکام کے مطابق روس کی جانب سے جزیرہ نما کریمیا پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد فوجی اہل کاروں اور ان کے اہل خانہ کو علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔یوکرائن کی حکومت کی جانب سے کریمیا سے اپنے فوجیوں کے انخلاءکے اعلان سے قبل کریمیا میں روسی فوجیوں اور روس کے حامیوں نے یوکرائنی نیوی کے دو اڈوں پر قبضہ کرتے ہوئے ان پر روسی پرچم لہرا دیا تھا۔ ساتھ ہی یوکرائن کی نیوی کے سربراہ کو قیدکیے جانے کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس صورت حال کے بعد یوکرائن کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ روسی شہریوں کے لیے یوکرائن کے ویزے کا قانون لاگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔جبکہ یوکرائن کے قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے سربراہ اینڈری پیروبی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یوکرائن اپنی افواج کو کریمیا سے مرکزی یوکرائن منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرائن اقوام متحدہ سے مطالبہ کرے گا کہ کریمیا کو غیر فوجی علاقہ قرار دیا جائے۔ یوکرائن کی حکومت نے اس ارادے کا بھی اظہار کیا ہےکہ یوکرائن کے وہ شہری جو کریمیا میں نہیں رہنا چاہتے۔

، انہیں علاقے سے باہر نکال لیا جائے۔قبل ازیں روسی افواج اور غیر مسلح افراد نے کریمیا کی بندرگاہ سیواسٹوپول میں واقع یوکرائنی نیوی کےمرکزی دفتر پر دھاوا بول کر کسی بڑے مسلح تنازعے کے بغیر ہی ہیڈکوارٹر پر روسی پرچم لہرا دیا تھا۔ یوکرائن کے صدر نے کریمیا کے علیحدگی پسند حکام کو اس واقعہ کے دوران یوکرائن کے نیوی کمانڈر ایڈمرل سیرگئی گیڈک سمیت دیگر یرغمالیوں کو تین گھنٹوں کے اندر اندر رہا کرنے الٹیمیٹم بھی دیا تھا۔ کریمیا میں موجود روس کے حامیوں کے مطابق گیڈک کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔کریمیا میں یوکرائن کے فوجیوں کا یہ اب تک کا یہ سب سے بڑا سرینڈر ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں روس نواز فورسز نے، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ روسی فوجی تھے، بدھ کو نیوی ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بولا تھا۔

مزید : عالمی منظر