سری لنکا میں انسانی حقوق کے دو سرکردہ کارکنوں کو رہا کر دیا گیا

سری لنکا میں انسانی حقوق کے دو سرکردہ کارکنوں کو رہا کر دیا گیا


کو لمبو (آن لائن)سری لنکن حکومت نے اْن دو افراد کو رہا کر دیا ہے جو انسانی حقوق کے لیے متحرک اور فعال ہیں۔ ان افراد کی گرفتاری کے خلاف کولمبو حکومت کو ملک کے اندر اور عالمی سطح پر کڑی تنقید اور مذمت کا سامنا تھا۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق سری لنکا میں نافذشدہ سخت انسداد دہشت گردی کے قوانین کے خلاف اندرون ملک صدائے احتجاج کے ساتھ ساتھ کئی عالمی انسانی حقوق کے ادارے بھی مذمتی آوازیں بلند کر رہے ہیں۔ اسی قانون کے تحت سری لنکن حکومت نے ایک کیتھولک پادری پراوین مہیسن اور ایک ایڈوکسی تنظیم انفارم کے اہلکار رْوکی فرنانڈو کو حراست میں لیا تھا۔کیتھولک پادری پراوین مہیسن تامل خانہ جنگی سے متاثرہ علاقے جافنا میں ایک ادارے امن و مصالحتی مرکزکے سربراہ ہیں۔ ان دونوں افراد کی گرفتاری کا سبب گزشتہ اتوار کے روز کی اِن کی وہ ملاقات تھی جس میں تامل خانہ جنگی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار موجود تھے۔

اِس ملاقات کے فوری بعد ہی مہیسن اور فرنانڈو کو پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا تھا۔سری لنکن پولیس کے ترجمان اجیت روہانا کا کہنا ہے کہ پراوین مہییسن اور رْوکی فرنانڈو کو عدالتی حکم پر رہا کیا گیا ہے۔ روہانا نے یہ بھی بتایا کہ اِنسانی حقوق کے اِن سرگرم کارکنوں کو ملک کے شمالی ضلع کلینوچی سے حراست میں لیا گیا تھا اور حراست کے دوران اْن سے پولیس نے کئی پہلوؤں سے پوچھ گچھ کی ہے اور اِس مناسبت سے دونوں افراد مستقبل میں بھی تفتیشی عمل کا حصہ بنائے جائیں گے۔دوسری جانب انسانی حقوق سے متعلق آگہی دینے والی تنظیم اِنفارم کے ڈائریکٹر اْدے کالْوپاتھیرانا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دونوں افراد کو پولیس نے بغیر کسی فوجداری دفعہ کے رہا کیا ہے۔ اْدے کالْوپاتھیرانا نے یہ بھی کہا کہ اب وہ عدالت میں اسی گرفتاری کے حوالے سے پیش نہیں کیے جائیں گے۔ ان گرفتاریوں کے حوالے سے سری لنکن حکومت کو امریکا سمیت کئی دوسری بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے مذمت اور تنقید کا سامنا رہا۔ادھر سری لنکا کے خلاف اگلے ماہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں تامل خانہ جنگی کے اختتامی دور میں ہونے والی سویلین ہلاکتوں کے تناظر میں ایک مذمتی قرارداد پیش کی جانے والی ہے۔ اس قرارداد کی مناسبت سے سری لنکا نے اقوام متحدہ کے ادارے انسانی حقوق کونسل کی سربراہ ناوی پلے کی تیار کردہ قرارداد پر بھی تنقید کرتے ہوئے اْسے ملکی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ تامل خانہ جنگی کے آخری دور میں حکومتی فوج نے آپریشن کے دوران چالیس ہزار سویلین کو ہلاک کر دیا تھا۔

مزید : عالمی منظر