بانڈی پورہ‘ طالب علم کی ہلاکت کےخلاف ہڑتال کے بعد معمولات زندگی بحال

بانڈی پورہ‘ طالب علم کی ہلاکت کےخلاف ہڑتال کے بعد معمولات زندگی بحال

بانڈی پورہ(این این آئی) نائد کھئے اور حاجن میں 5ویں روز بھی احتجاجی ہڑتال رہی جس دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں اور مشتعل ہجوم نے ایک ایس پی او کے مکان پر دھاوا بول دیا۔ ادھربانڈی پورہ میں4روز بعد معمول کی زندگی بحال ہوگی۔ نائید کھئے میں شاہ گنڈکے نوعمرطالب علم فرحت احمد ڈار کے بعد بانڈی پورہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں عوامی احتجاج کے دوران امن و قانون بحال رکھنے کیلئے انتظامیہ نے قصبہ بانڈی پور کے ساتھ ساتھ حاجن اور نائید کھئے میں کرفیو لگایا۔ مسلسل 4روز تک کرفیو کے باوجود ان علاقوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ بانڈی پورہ اور دیگر علاقوں میں کرفیو ہٹا لیا گیا جس کے ساتھ ہی بانڈی پورہ قصبہ میں معمول کی زندگی بحال ہوگئی تاہم حاجن اور نائد کھئے میں ہڑتال رہی جس دوران دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور ٹریفک معطل رہا۔ ہڑتال کے دوران کئی مقامات پر لوگوں نے کرفیو کے دوران پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مظاہرے کئے۔ حاجن میں مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں

جس دوران خشت باری اور شلنگ کے واقعات پیش آئے ۔حاجن میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے قصبے میں پابندیوں کے دوران مکانوں کی توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ کئی افراد کا زد و کوب کیا۔ ہاکہ بارہ میںمشتعل ہجوم نے ایس پی او نثار احمد وگے کے مکان پر دھاوا بول کر گھریلو سامان کو تہس نہس کیا۔لوگوں نے الزام لگایا ہے کہا کہ فورسز اور پولیس اہلکاروں نے گھروں میں داخل ہوکر مکینوں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ خواتین سمیت بزرگوں اور دیگر اہل خانہ کی ہڈی پسلی بھی ایک کر دی ۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ فورسز نے گھروں میں داخل ہو کر جو نقصان کیا ہے اس کا معاوضہ فراہم کیا جائے ۔ مظاہرین نے کہا کہ طالب علم کی ہلاکت کے بعد سمبل ، حاجن اور نائد کھئے کے علاوہ دیگر علاقوں میں گرفتاریوں کا تازہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے جبکہ انہوںنے مطالبہ کیا کہ نہ صرف اس کارروائی کو روکا جائے بلکہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو بھی رہا کیا جائے ۔

مزید : عالمی منظر