نظریہءپاکستان اور حافظ محمد سعید کی مشاورتی مجلس

نظریہءپاکستان اور حافظ محمد سعید کی مشاورتی مجلس
نظریہءپاکستان اور حافظ محمد سعید کی مشاورتی مجلس

  


  وطن عزیز پاکستان اس وقت سنگین مسائل اور نازک صورت حال سے دوچار ہے۔ ایک طرف امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادی چاروں اطراف سے پاکستان کا گھیراﺅ کر رہے ہیں‘ اس کا وجود مٹانے کے درپے ہیں تو دوسری طرف ملک میں تخریب کاری ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ پاکستان کا کوئی کونہ دہشت گردی کی وارداتوں سے محفوظ نظر نہیں آتا۔ سندھ اور بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں پروان چڑھائی جارہی ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے ملک کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ہر طرف فکری انتشار اور خلفشار پھیلا ہوا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم ایک قوم نہیں بلکہ بکھرے ہوئے لوگ ہیں جن کی کوئی منزل نہیں ہے۔ مفاد پرستی کی سیاست نے لوگوں کو اندھا کر کے رکھ دیا ہے۔ہر شخص پریشان ہے کہ اس انتشاروافتراق کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

انہی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے امیر جماعت الدعوة حافظ محمد سعید نے مرکز القادسیہ میں سینئر کالم نگاروں اور اخبارات کے مدیران کی ایک مشاورتی مجلس رکھی جس میں مجیب الرحمن شامی،عطاءالرحمن، جمیل اطہر، عارف نظامی، سجاد میر، سلمان غنی، حفیظ اللہ نیازی، عابد تہامی، محمد سعید اظہر،پروفیسر یوسف عرفان، فضل حسین اعوان، اسرار بخاری،عزیزظفر آزاد ، رﺅف طاہر،قیوم نظامی، ایثار راناو دیگراحباب نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر جماعت الدعوة کے مرکزی قائدین پروفیسرحافظ عبدالرحمن مکی، مولانا امیر حمزہ،مولانا سیف اللہ خالد، قاری یعقوب شیخ، محمد یحییٰ مجاہد اور حافظ خالد ولید بھی موجود تھے۔ یہ ایک انتہائی فکر انگیز مجلس تھی، جس میں شریک سب لوگ پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لئے فکر منددکھائی دیے۔حافظ محمد سعید نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ہی پاکستان کو درپیش ان مسائل کا تذکرہ کیا اور درد بھرے لہجے میں کہاکہ ہمارے آباﺅ اجداد نے لاالہ الااللہ کے آفاقی نظریہ کے تحت لاکھوں جانوںکے نذرانے پیش کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا ،مگر افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد یہاں برسراقتدار آنے والے حکمرانوں نے قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے تصورات کے مطابق عمل نہیں کیا، جس کی وجہ سے آج ملک مصائب و مشکلات میں مبتلا اور مسائل سے دوچار ہے۔

اس وقت حالات بہت زیادہ گھمبیر ہیں۔ اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کے مقابلے کے لئے قوم میں اتحاد ویکجہتی کا وہ ماحول نظر نہیں آرہا جو ہونا چاہئے اور کلمہ طیبہ ہی ایک ایسی بنیاد ہے، جس پر مسلمان کل بھی متحد ہوئے تھے، آج اور آئندہ بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکتے ہیں، اس لئے ہم نے ملک میں پھیلے ہوئے فکری انتشار اور فرقہ واریت ختم کرکے قومی اتحاد کی فضا پیدا کرنے کے لئے پانچوں صوبوں و آزاد کشمیر میں احیائے نظریہ پاکستان مہم کاآغاز کیا ہے اور جس طرح 5 فروری کے موقع پرپنجاب کی طرح بلوچستان ، سندھ و خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوںمیں یکجہتی کشمیرکانفرنسوں کا انعقاد کیا اسی طرح یوم پاکستان کے موقع پر بھی ہم نے نوجوان نسل میں نظریہ پاکستان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے وسیع پروگرام تشکیل دیا ہے تاکہ دشمن، جو ہمارے نونہالوں کے ذہنوں سے اس نظریہ کو کھرچنے کی کوششیں کر رہا ہے اسے ناکام بنایاجائے اور قوم میں ایک بار پھر سے وہی تحریک پاکستان والے جذبے پیدا کئے جاسکیں۔حافظ محمد سعید نے اپنی گفتگو میں ملک میں ہونے والی دہشت گردی، تخریب کاری، دھماکوں، فرقہ واریت و فکری انتشار کا تفصیل سے تذکرہ کیا اوراحیائے نظریہ پاکستان مہم کو کس طرح مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے‘ اس پر شرکاءکی آراءطلب کیں اور واضح طور پر کہا کہ ہماری اس نظریہ پاکستان مہم کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔

ہم نے ماضی میں بھی دیکھا ہے کہ جب کبھی ملک مشکل حالات سے دوچار ہوا، جماعةالدعوة کی طرف سے ہمیشہ مرکزالقادسیہ میں ایسی ہی مجلس کا انعقاد کیاجاتا ہے اور پھر قائدین اور دانشوروں سے مشورے لے کر کام میں بہتری لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک بہت اچھا انداز ہے جسے سبھی پسند کرتے ہیں۔تحریک حرمت قرآن، تحریک حرمت رسولﷺ ہو یا دفاع پاکستان کونسل جماعة الدعوة اور حافظ محمد سعید کی کوشش رہی ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے، یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ا ن کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اورہر موقع پر ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اب ایک بار پھر، جب لاالہ الااللہ کی جاگیر ملک پاکستان کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں۔ ہر طرف فتنہ و فساد پھیلایاجارہا ہے۔ وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدیں کمزور کرنے کے لئے بے پناہ وسائل خرچ کئے جارہے ہیں۔

تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کروا کے نوجوانوں کے اخلاق و کردار برباد اور دین سے دور کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیںتو جماعت الدعوة نے احیائے نظریہ پاکستان کاجو بیڑہ اٹھایا ہے اور بکھری ہوئی قوم کو ایک بار پھر اسی دوقومی نظریہ کی بنیاد پر یکجا کرنے کے لئے جن کوششوںکا آغاز کیا گیا ہے، وہ یقینا لائق تحسین ہے۔اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ملک میں اتحاد ویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی ہے ، جب پاکستان بنا تھا تو اسلامیان ہندکلمہ طیبہ کی بنیا دپر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے انگریز و ہندو کے خلاف میدان میں کھڑے ہوئے اور ایک قوم‘ ایک وحدت بنے تھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 23مارچ 1940ءکو منٹو پارک (اب مینار پاکستان)میں قراردار پاس ہوئی اور محض سات سال کے مختصر عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک الگ وطن عطا کر دیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ احیائے نظریہ پاکستان مہم کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل دیکر قوم میں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک پاکستان ایک مشن اور ایک نظریہ کے تحت حاصل کیا گیا تھااس لئے ہمیں قیام پاکستان کے مقاصد کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

مشاورتی مجلس کے دوران سبھی شرکاءنے استحکام پاکستان کے لئے جماعةالدعوة کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم کو خوش آئند قرار دیا اور کہاکہ اس عمل کویکسوئی کے ساتھ مسلسل جاری رکھتے ہوئے نوجوان نسل کو گمراہیوں سے بچانا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی روشن روایات کو بھول چکے ہیں۔قائدؒ اور اقبالؒ کے جذبے پیدا کئے بغیر ہم دشمنان اسلام کی سازشوںکا مقابلہ نہیں کر سکتے۔مجلس کے دوران جماعةالدعوة کی ملک میں آنے والے زلزلوں ، سیلاب اور تھرپارکر میں حالیہ قحط سالی کے موقع پربلا تفریق مذہب مسلمانوںکی طرح ہندوﺅں کے لئے بھی بھرپور انداز میں امدادی سرگرمیاں سرانجام دینے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ جماعةالدعوة کے رضاکار، ان دور دراز علاقوں و دیہاتوں میں بھی پہنچ جاتے ہیں، جہاں اور کوئی نہیں پہنچتا۔ اس دوران حافظ محمد سعید نے جب بتایاکہ آواران جیسے وہ علاقے جو علیحدگی پسندوں کا گڑھ سمجھے جاتے اور جہاں اعلانیہ طور پر پاکستان کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھے جاتے ہیں، جب ان کے رضاکاروں نے وہاں لوگوںکو پکا پکایا کھانا دیا، خشک راشن تقسیم کیا اور انہیں گھر بنا کر دیئے تو انہی لوگوںنے اپنے ہاتھو ں سے پاکستان زندہ باد کے نعرے دیواروں پر لکھے ہیں۔ ان کی اس بات پر شرکاءکی طرف سے بہت زیادہ خوشی و مسرت کا اظہار کیا گیا۔ بہر حال ہم سمجھتے ہیں کہ جماعةالدعوة کی طرف سے شروع کی گئی احیائے نظریہ پاکستان مہم وقت کی بہت بڑی ضرورت اور ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ ملک بھر کی مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتیں اور پوری قوم ان کے ساتھ اور قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہے۔لاالہ الااللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا اور اس کے خلاف کی جانے والی سازشیں ان شاءاللہ بہت جلد دم توڑ جائیں گی۔ 

مزید : کالم