خوش نما تصویر

خوش نما تصویر
 خوش نما تصویر

  


ڈاکٹر سرجن راحیل حسین نے حیدرآباد میں وہ کام کر دکھایا ہے جو حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ حیدرآباد کیا، اندروں سندھ کے تمام اضلاع سے امراض قلب کے مریض علاج اور آپریشن کے لئے کراچی جاتے ہیں جہاں ایک جانب علاج و معالجہ کے اخراجات اور مریض کے تیمارداروں کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ بائی پاس کے ایک آپریشن پر دو سے چھہ لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ اگر یہ یہی آپریشن حیدرآباد میں کسی خرچے کے بغیر ہوجائے تو مریض مالی بوجھ تلے دبنے سے محفوظ رہتا ہے۔ ڈاکٹر راحیل ائر لینڈ، انگلینڈ اور سعودی عرب جیسے ممالک میں ملازمت کرنے کے بعد کراچی آگئے جہاں ان کے دل میں خیال آیا کہ اپنے آبائی شہر حیدرآباد میں اوپن ہارٹ سرجری کا انتظام کیوں نہیں کیا جائے۔ انہوں نے حیدرآباد کے سرکاری اسپتال لیاقت یونی ورسٹی اسپتال میں اپنی تقرری کرا لی اور اپنے خواب کی تعبیر کی تلاش میں جت گئے۔ 18مارچ 13 وہ دن تھا جب انہوں نے اپنے ہاتھوں سے قائم ا مراض قلب کے ا دارے“ یونٹ آف کارڈیو سرجری“ میں پہلا کامیاب آپریشن کیا۔

 یونٹ کے قیام کی پہلی سالگرہ پر بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران ©62 مریضو ں کے مفت آ پر یشن کئے گئے ہیں۔ مریضوں میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جن کے لئے علاج کے لئے رقم کا بندوبست کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں تھا۔ ڈاکٹر راحیل تنہا سرجن ہیں جنہیں اپنی ٹیم تیار کرنے میں وقت تو لگے گا۔ انہیں ڈاکٹر خالد چنہ جیسے ساتھیوں کا رات دن تعاون حاصل ہے ۔ پیسے کی چمک ، دمک اور دھمک سارے ہی ڈاکٹروں کو کواچی کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اسی وجہ سے تو ریگستانی علاقے تھر پارکر میں ایک سو سے زائد بچے ہلاک ہو گئے۔ زائد مےعاد دوائیں بھی ان بچوں کی ہلاکت کا سبب بنیں۔ جہاں علاج و معالجہ کی بد نما تصویر تھرپارکر میں ابھری وہیں حیدرآباد میں ڈاکٹر راحیل حسین کا ہارٹ سرجری یونٹ ایک خوش نما تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ تصویر جنون کی تصویر ہے۔ یہ تصویر اپنے لوگوں کے ساتھ محبت کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ خدا کی مخلوق سے محبت خدا سے محبت ہوتی ہے ۔ کہاوت ہے کہ عبادت، محبت ، خدمت، دیانت کا صلہ بندے نہیں دیا کرتے۔ یہ صلہ تو وہ خالق و مالک ہی دیا کرتا ہے۔

ڈاکٹر راحیل حسین کہتے ہیں کہ انہوں نے دو سال قبل جن حالات میں کام کا آغاز کیا اور جس قسم کی رکاوٹوں اور پریشانیوں کا انہیں سامنا رہا انہیں دیکھ کر تو یہاں کوئی کام سر انجام دینا ممکن نہیں تھا لیکن بقول ان کے ” اللہ کا کرم ہے کہ میں نے ہمت نہیں ہاری اور جو عہد کرکے لیاقت میڈیکل اسپتال حیدرآباد منتقل ہو ا تھا اسمیں اللہ نے مجھے ثابت قدم رکھا “۔ ڈاکٹر راحیل نے ” سوسائٹی آف ہارٹ کیئر “ کی بنیاد رکھی اور ایسے لوگوں کو تلاش کیا جو سوسائٹی کی مالی مدد کر سکتے تھے۔ ممتاز سماجی کارکن اور تاجر تراب علی پیش پیش تھے۔ لاکھوں روپے اس طرح جمع ہوگئے جیسے روپیہ ٹپک رہا ہو۔ اس یونٹ میں ناکافی سہولتوں کے باوجود 18کورنری بائی پاس ‘والو ریپلیسمنٹ کے15،پیدائشی دل کی تکلیف کے19اور پھیپھڑوں کے10آپریشن کئے ہیں کل 101مریض یہاں داخل ہو ئے جن میں 2سال کی عمر سے 78سال کی عمر کے مریض شامل ہیں ۔ ان مریضوں کا مفت علاج کیا گیا ۔ 62کا آپریشن اور بقیہ کو طبی امداد سے فارغ کیا گیا تاہم 10مریض انتقال بھی کر گئے جس کے بارے میں ڈاکٹر راحیل کا کہنا تھا کہ یہ مریض انتہائی پےچیدگی کا شکار تھے، تاہم اگر یہاں مناسب سہولتیں ہو تیں تو وہ بھی شفایاب ہو سکتے تھے ۔ ڈاکٹر راحیل کا عزم ان کی ہی طرح جوان ہے۔ وہ ایک ایسے جفا کش، محنتی اور پر خلوص شخص کے اکلوتے صاحبزاے ہیں جن کی کہانی باعث رشک ہے۔

 ڈاکٹر ضامن حسین خود بھی میڈیکل کی تعلیم سے آراستہ تھے۔ سندھ کے کئی علاقوں میں ملازمت کرنے کے بعد حیدرآباد میں نجی کلینک کھول کر بیٹھ گئے تھے۔ ان کا دوا خانہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے مخصوص تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا پانچ سال قبل جب انتقال ہوا تو بھی بیس روپے سے زیادہ قیمت کی دوا نہیں دیا کرتے تھے۔ ہنستے ہنستے لوگوں کا علاج کر دیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیشے کو کبھی پیسہ کمانے کو ذریعہ نہیں بنایا۔ پیشے کے علاوہ شہر کے بلدیاتی امور میں دلچسپی لیا کرتے تھے۔ کینٹونمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے اور پورا عرصہ لوگوں کی سہولتوں کے لئے لڑتے لڑتے گزار دیا۔ نام اور نمائش سے دور رہا کرتے تھے اور اپنے مقصد سے مقصد رکھتے تھے۔ بیٹے کا عزم بھی جوان ہے۔ راحیل حیدرآباد میں دل کی سرجری کا ایک ایسا معیاری ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کے مریضوں کو کراچی کا رخ نہ کرنا پڑے ۔ ڈاکٹر راحیل حسین ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب نے کراچی سول اسپتال میں جزیر ہ قائم کرکے شمع روشن کی ہے۔ اس جزیرے میں گردوں کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور گردے بھی تبدیل بھی کئے جاتے ہیں ۔ ایک شمع سے دوسری شمع ضرور روشن ہوتی ہے۔

ایک طرف ڈاکٹر راحیل کو جہاں مختلف مسائل کا سامنا ہے وہاں انہیں ایک ایسی مافیا سے بھی لڑائی درپیش ہے جو اول تو سندھ کے سب سے بڑے لیاقت یونی ورسٹی اسپتال میں کوئی ایسا کام دیکھنا نہیں چاہتی جس سے مخلوق خدا فیضیاب ہو سکے۔ یہ مافیا اس لئے بھی بر سر پیکا ر ہے کہ ڈاکٹر راحیل کو کسی بھی حالت میں اس لئے ناکام کرے کہ وہ لوگوں کو بلا معاوضہ وہ سہولتیں فراہم کر رہے ہیں جس کے لئے بڑی بڑی رقم درکار ہوتی ہیں۔ یہ ہی مافیا ہے جو لیاقت میڈیکل اسپتال میں آئے ہوئے مریضوں کو کراچی جانے کا راستہ یہ کہہ کر دکھاتی ہے کہ ڈاکٹر راحیل کے یونٹ میں وہ سہولتیں موجود نہیں ہیں جو کراچی کے اسپتالوں میں ہیں ۔ اپنی اس ’خدمت‘ کے عوض مافیا کے لوگوں کو کراچی کے اسپتالوں میں مریض بھیجنے کا کمیشن ملتا ہے۔ کس قدر نادان ہیں یہ لوگ۔ اسپتال میں 2012ءسے انجیو گرافی کی مشین خراب پڑی ہے اس کی مرمت پرایک کروڑ 50لاکھ روپے کی لاگت کی نوید سنائی گئی لیکن لیاقت میڈیکل اسپتال کے میڈیکل سپر نٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد شیخ نے مرمت کے تخمینے دوبارہ طلب کئے اور وہ اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ کم سے کم لاگت میں یہ مشین درست ہو جائے تا کہ ڈاکٹر راحیل کا سرجری یونٹ مکمل ہوسکے ۔ مشین بھی دانستہ خراب کی گئی تاکہ پرائیوٹ مشینوں سے کام لیا جا سکے۔

 دل کے وارڈ کو فلٹر پانی کی سہولت نہیں تھی ۔ یہاں زیر زمین بورنگ کا پانی آتا تھا جس کی وجہ سے آلات خراب ہو جاتے تھے ۔ سوسائٹی نے اپنے ذرائع سے میٹھے پانی کا انتظام کیا۔ ترکی کی حکومت نے قیمتی آلات اور مشینیں تحفہ میں دیں جو 7سال سے ڈبوں میں بند پڑی تھیں۔ ڈاکٹر راحیل نے ان کا استعمال شروع کیا۔ حیدرآباد کے ایک اور اسپتال شاہ لطیف بھٹائی میں بھی ترکی حکومت سے تحفے میں حاصل کی گئی دس کروڑ روپے کی مالیت کی مشینیں ڈبوں میں بند پڑی ہیں ۔ کوئی انہیں استعمال کرانے والا نہیں ہے۔ ہم بھی کتنے بد بخت لوگ ہیں۔

اس تماش گاہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو با مقصد جذبہ کے تحت کام کرتے نہیں تھکتے۔ لیاقت میڈیکل یونیورسٹی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈ اکٹر خالد شیخ ہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ جو ایک مرتبہ ڈاکٹر راحیل حسین کے بنائے گئے ” یونٹ آف کارڈیو اینڈ تھیروسس سرجری“ کا دورہ کر لیتے ہیں ، ڈاکٹرراحیل حسین کی خدمات کے معترف ہو جاتے ہیں ۔ یہ اعتراف ہی تو لوگوں کو تاریخ میں زندہ رکھتا ہے ۔ انسان کو تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ ورنہ قبرستانوں میں سوئے ہوئے کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ میں بھی زندہ ہیں۔

مزید : کالم