تھر اور چولستان کو گلزار، کالا باغ ڈیم بناﺅ

تھر اور چولستان کو گلزار، کالا باغ ڈیم بناﺅ
تھر اور چولستان کو گلزار، کالا باغ ڈیم بناﺅ

  

تھر کے بعد چولستان میں بھی خشک سالی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے، پانی کی قلت اور چارے کی کمی کے باعث یہاں کے باشندوں کو بھی اپنے گھروں سے ہجرت کرنا پڑ رہی ہے۔ حکومت پنجاب کے چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ حکام یہاں پہنچ گئے اور انہوں نے حالات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے مطابق حالات خراب نہیں ہیں، ان کی بات پر ذرا کم ہی یقین کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ حکام خود وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر گئے اور انہی کو رپورٹ بھی دیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ چولستان کے حالات تھر جیسے تو نہیں تاہم پانی اور چارے کی قلت بہر صورت ہے اور اس کے لئے اہتمام کرنا ہو گا۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد صوبائی حکومت مناسب اور ضرورت کے مطابق امدادی کام کرے گی۔

تھر اور چولستان میں یہ حالات پہلی بار پیدا نہیں ہوئے، جب کبھی بھی بارشیں کم ہوں ان صحراﺅں میں ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے یہاں رہنے والے ان حالات کے عادی بھی ہیں اور ان سے خود ہی نبرد آزما ہوتے چلے آئے ہیں۔ تاہم اس بار تھر میں وباءنے زیادہ پریشانی پیدا کی۔ متعلقہ حکام کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا اور شدید ہنگامی نوعیت بھی پیدا ہوئی۔ تھر میں تو قریباً ایک ڈیڑھ سال قبل کسی نامعلوم وائرس کی نشاندہی ہوئی جسے پہچانا نہ گیا۔ یہاں مور مرنے لگے تھے اور وقفے وقفے سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ میڈیا کی طرف سے توجہ دلانے کے باوجود حکام نے لاپرواہی برتی ورنہ اس کی تحقیق کے لئے ٹیموں کو کام کرنا چاہئے تھا۔ اس کے بعد حال میں جو سردی آئی تو وہ بھی سندھ اور خصوصاً تھر کے لئے غیر معمولی تھی۔ تب بھی احتیاط نہ کی گئی اور نتیجہ مویشیوں کی اموات سے بچوں تک پہنچ گیا اور پھر میڈیا کے شور مچانے پر حکومتوں اور محکموں کو بھی ہوش آیا۔ بہرحال اب تک امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں، صحرائے تھر اور چولستان کے لئے مستقل بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں اور ان علاقوں کو خوشحال بنا کر نہ صرف یہاں کے باشندوں کی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے، بلکہ یہ علاقے ملکی معیشت کے لئے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بات کوئی بڑ یا دیوانے کا خواب نہیں، انہی صحراﺅں سے متصل بھارتی صحرا ہے، جسے راجستھان کہتے ہیں۔ اس صوبے کی ترقی پر غور کر لیں تو بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ ماہر اقتصادیات ہیں اور وہ گزشتہ سے پیوستہ دور میں وزیر خزانہ بھی رہے۔ تین روز قبل اے ٹی وی کے ایک پروگرام میں ان کے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ ان صحراﺅں کو نظر نداز کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ اور موجودہ حکومت کے ماہرین اقتصادیات کے نظریات میں نہ توکوئی ٹکراﺅ ہے اور ہی کچھ زیادہ مختلف ہیں جو نظام موجودہ حکومت کے ماہرین چلا رہے یا چلانا چاہتے ہیں۔ سلمان شاہ بھی ویسے خیالات رکھتے ہیں۔ فرق صرف طریق کار کا ہے۔ ڈاکٹر سلمان عملی شکل میں مختلف طریقے بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحرائے تھر کوئلے کے قیمتی ذخائر سے مالا مال ہے، تو یہ الگ اور اضافی صفت ہے۔ اصل میں تو تھر اور چولستان ایسے خطے ہیں، جو مناسب سہولتوں کے بعد ملک کی غذائی ضروریات پورا کرنے میں زبردست معاونت کر سکتے ہیں اور اس کے لئے ضرورت صرف پانی کی ہے اور یہ مہیا بھی کیا جا سکتا ہے، اس کے لئے تعصبات مفادات اور علاقائی سوچ کو پس پشت رکھنا ہو گا۔

اس سلسلے میں جب تفصیل کے حوالے سے سوال کئے گئے تو ان کا جواب تھا کہ اس مقصد کے لئے کالا باغ ڈیم انتہائی ضروری ہے کہ یہ ایک بنیادی زرعی ڈیم ہو گا، بجلی تو اضافی ملے گی۔ انہوں نے کہا کالا باغ ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کرنے سے تھر اور چولستان کو سرسبز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کافائدہ اٹھایا، بیاس اور راوی دریا کے پانی کو ایک نہر کے ذریعے راجستھان پہنچایا یہ نہر اندرا گاندھی کے نام سے موسوم ہے اور اس کے پانی سے راجستھان کے صحرا کو بہترین قسم کے نخلستان میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب یہ علاقہ سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز ہے اور بھارت کو سیاحت ہی سے بے شمار آمدنی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق کالا باغ ڈیم بنا کر تھر اور چولستان کو پانی مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اول تو کالا باغ ڈیم سے براہ راست ایک نہر نکال کر چولستان سے تھر تک پہنچائی جا سکتی ہے اور اگر اس پر اعتراض ہو تو سکھر یا جناح بیراج (جام شورو) سے نہر نکال کر تھر کو سیراب کیا جا سکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ خود ان کے دور میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو بلاوجہ سیاست زدہ کر دیا گیا ہے۔ سیاسی بن جانے کی وجہ سے کوئی بھی اس منصوبے کی تکمیل کے لئے کوشش نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم پر خالص تکنیکی بنیادوں پر بات ہونا چاہئے اور جلد از جلد اتفاق پیدا کر لینا چاہئے اس ڈیم پر فوری کام شروع ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کی اس حوالے سے گفتگو مدلل تھی اور دل کو بھاتی ہے۔ ان سے بات چیت کے دوران واپڈا کے سابق چیف شمس الملک بہت یاد آئے جو کالا باغ ڈیم کے حق میں مہم چلاتے رہتے ہیں۔ شمس الملک تو کہتے ہیں نوشہرہ ڈوبنے اور سندھ کے خشک ہونے والی تھیوریاں اور باتیں درست نہیں ہیں۔ کالا باغ ڈیم بنا تو پہلا فائدہ ہی خیبر پختونخوا کو ہو گا جو دریا کی نسبت سطح زمین اونچی ہونے کے باعث اپنے حصے کا پانی بھی بہتر طور پر استعمال نہیں کر سکتا، کالا باغ ڈیم بننے سے خیبرپختونخوا کو بھی اراضی کے لئے پانی مل جائے گا، جبکہ یہ بھی مفروضہ ہے کہ سندھ خشک ہو گا، یہاں تو پانی ذخیرہ کیا جائے گا تو سندھ سیلاب سے بچے گا اور نہر نکلے گی تو تھر کے ساتھ ساتھ کئی اور محروم علاقے سیراب ہوں گے۔ اسے سیاست سے ہٹ کر قومی جذبے سے تعمیر کرنا ہو گا، رہ گئی پانی والی بات تو اس کی تقسیم اور نہروں کے رُخ پر مذاکرات کر کے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے مصدقہ ہے اس پر سیاست نہیں چمکانا چاہئے، یقینا یہ ایک ایسا منصوبہ ہے، جس کی فزیبلٹی مکمل اور ”ارتھ ورک“ بھی شروع ہو گیاتھا کہ تنازعہ نے کام روک دیا۔ آج ملک میں بجلی کی ضرورت ہے تو اب تھر اور چولستان نے توجہ مبذول کرا لی ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما قومی سوچ کیوں پیدا نہیں کرتے؟ اس پر تو علاقائی مفادات کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں تو ایسا بھی نہیں ہو گا، کیونکہ کالا باغ ڈیم بنا تو سیلابوں سے بڑی حد تک بچت ہو گی، ضائع ہونے والا پانی زراعت کے کام آئے گا اور پھر تھر اور چولستان تک نہریں جانے سے پینے کے پانی تک کی سہولت بھی میسر آئے گی، جبکہ صحرا کو نخلستان بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری سیاسی قیادتوں کو اس پر قومی نکتہ نظر سے غور کرنا ہو گا اور فیصلہ بھی ملکی مفاد کے مطابق ہونا چاہئے۔

مزید : کالم