اُردو زبان کے محبان سے نفرت کیوں؟ (2)

اُردو زبان کے محبان سے نفرت کیوں؟ (2)
 اُردو زبان کے محبان سے نفرت کیوں؟ (2)

  

پنجاب جو پاکستان کے بنتے وقت صرف دو حصوں میں تقسیم تھا وہ آج تک پاکستان میں پنجاب ہے جبکہ ہندوستانی پنجاب چار حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پاکستان میں پنجاب میں رہنے والوں نے اپنے آپ کو پنجابی کہنا شروع کر دیا صوبہ سندھ میں رہنے والوں نے سندھی اور بلوچستان کے رہنے والوں نے بلوچ قومیت اپنا لی باوجودیکہ ان صوبوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بظاہر وہ ایک بولی کی بات کرتے ہیں۔ صوبہ سرحد چونکہ اپنے نام کی وجہ سے قومیت نہ بن سکا تو اس نے زبان کی بنیاد پر پختون خوا بنا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مختلف زبانیں بولتے ہوئے جو مسلمان پاکستان میں آباد ہوئے تو وہاں کے مقامی لوگو ں نے بھی اپنی قومیت کی جھنڈی لہرا دی۔ اس وقت حال یہ ہے کہ پاکستان میں پاکستانی نہیں ملتے، سب اپنی مقامی شناخت سے پہچانے جاتے ہیں۔ بس یہی دشمن کی ایک چال ہے کہ ایک قوم کو مختلف عنوان سے تقسیم کر دیا جائے۔ اس ملک کی ایک اور بدنصیبی یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد ملازمت ہے اور تعلیم یافتہ لوگ دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک وہ جو اپنے آپ کو آزاد خیال کہتا ہے تاکہ اسلامی قوانین سے بچ سکے ۔

ان آزاد خیالوں کے اداکارانہ انداز نمائشی طور پر عوام میں مقبول نہیں ہوئے یہ پاکستان کی اصل بنیاد کو کمزور کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں سچ پوچھئے تو یہ بناوٹی سوشلز م۔ اُتھلے اسلام اور نقلی جمہوریت کے پرچارک ہیں ان کی ضد میں جاہلوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہوا جس نے لادینی فلسفے کے ردعمل میں ایک دوسری شدت اختیار کر لی۔ کسی نے بھی سانپ کے اس زہر کی تیزی کا اندازہ نہیں کیا جو اس قوم کے رگ و ریشے میں سرایت کر گیا۔ وہ مسلمان جو پہلے ہی شرمناک دھوکے اور فریب کا شکار تھے ایک اور مصیبت میں گرفتار ہو گئے۔ دنیا دار دانشوروں لکھاریوں اور اہل علم بزرگوں سے یہ شکایت غلط نہ ہو گی جن کے پاس علم ہے مگر اس روشن ہدایات پانے کے باوجود یہ اختلافات کو بڑھاوا دیتے ہیں دشمن کو زبان اور لباس سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ ان کی پہچان اس وطن سے وفاداری سے ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ جاہ پرست سیاست دانوں نے جو درحقیقت چند خاندانوں پر مشتمل ہیں انہوں نے مختلف شعبوں میں بے سود کشیدگی پیدا کی جب بھی اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھا ان سیاست دانوں نے ملک میں مغائرت پیدا کرنے کے علاوہ صرف اپنی تجوریاں بھریں اور ان تجوریوں کو باہر کے ملکوں میں محفوظ کیا۔

سیاست دانوں کی یہی روش بڑے بڑے سرکاری ملازمین نے بھی اختیار کی۔ آج تقریباً نصف سے زیادہ بڑے بڑے افسران پنشن تو پاکستان سے لیتے ہیں مگر اولاد سمیت باہر کے ملکوں میں آباد ہیں ان کو اطمینان ہے کہ وہ ہر قسم کے احتساب سے بظاہر محفوظ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اور وہ تمام مسلمان جو اپنی مرضی سے غیر اسلامی ماحول میں رہ رہے ہیں بڑی شان و شوکت سے آرام دہ اور پرسکون زندگی بسر کر رہے ہوں۔ لیکن جب زمین کے شگاف میں داخل کئے جائیں گے تب ....؟ یہ نہ بھولیں کہ ہم سب کی عافیت اللہ کے سپرد ہے۔ وہاں وہ نہ صرف اپنی بلکہ ان نسلوں کی بے راہ روی کا بھی حساب دیں گے جس کو انہوں نے کفر کے ماحول میں لا بسایا ہے۔ یہی غلطی ہر وہ انسان کرتا ہے جو شیطانی وسوسوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے اور خود ہی منصف بن بیٹھتا ہے۔ دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھنا قوم میں تفرقہ پیدا کرنا اگر کفر نہیں تو کیا ہے؟ اللہ نے مسلمانوں کو مثالیں دے کر سمجھایا کہ جو قوم اللہ کی نعمت پانے کے بعد اس کو شقاوت سے بدلتی ہے تو اسے اللہ کیسی سزا دیتا ہے۔ آیت 211سورة البقرہ اور جب لوگوں کو دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پذیر بنا دی جاتی ہے تو ایسے لوگ روز قیامت پیچھے رہ جانے والے ہوں گے۔

مجھے افسوس ہے کہ ہمارے نام نہاد دانشور خود نفرت کی فصل کاشت کر رہے ہیں لسانی تعصب کو ہوا دے رہے ہیں اور الزام دوسروں پر دھر رہے ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب اور اردو زبان کے خلاف شر انگیز بات کرتے ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب کو جاہلوں کا باپ بناتے ہیں اور اپنے آپ کو مظلوم پیش کرتے ہیں یہ کہاں کا اخلاق ہے اور کس مکتب کی تعلیم؟ ظہور احمد دھریجہ صاحب اور ان کے حواریوں نے اردو کو قومی زبان کی بجائے نفرت کی زبان قرار دینے پر شد و مد سے دلائل دے کر گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ واقعی گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے۔ شجاع آباد کے دانشور ظفر اقبال صاحب کو سلام جنہوں نے دھریجہ صاحب کے شر انگیز عزائم پر احتجاج کیا ہے اور اپنے تئیں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ اردو کے تشخص کو بگاڑنے کی قطعی اجازت نہیں دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نواب مرزا خاں داغ دہلوی سے سرسید غالب اور اقبال سمیت متعدد اسلاف کا ذکر خیر اس کالم میں ہوا اب میں کیا اور میری ہستی کیا کہ دنیا کی چوتھی یا پانچویں بڑی زبان کی وکالت کروں یہ کام تو انجمن ترقی اردو کے شہسواروں کا ہے کہ وہ کچھ اظہار فکر کریں۔

 میرا خیال یہ ہے کہ ظہور احمد دھریجہ صاحب کے رنگ سخن یا میری فکر کے بانکپن سے اردو یا مولوی عبدالحق صاحب بابائے اردو پر کوئی منفی یا مثبت اثر نہیں پڑے گا۔جو لوگ اردو کے مورث اعلیٰ ہیں۔ وہ ایوان بالا تک رسائی کا اعزاز رکھتے ہیں ان سمیت ماہرین سے مودبانہ گذارش ہے کہ وہ اردو کے زمینی مقام کی بحالی کیلئے آواز حق بلند کریں اس لئے کہ یہ آئین کا بھی حق ہے کہ اسے پوری طرح نافذ ہونا چاہئے امید پر یہ دنیا قائم ہے۔ ہمارے نیک نام اکابرین و اسلاف کے بے شمار واقعات تاریخ کا حصہ ہیں وقت ملنے پر ضرور طبع آزمائی کروں گا۔ اس وقت پاکستان کے موجودہ بدترین اقتصادی و اخلاقی اور معاشرتی حالات کے تناظر میں قائد اعظم محمد علی جناح کی 28مارچ 1948ءکو ڈھاکہ میں نشری تقریر کا اقتباس نذر قارئین ہے جس میں انہوں نے فرمایا ۔ آپ کو اپنے صوبے کی محبت اور اپنی مملکت کی محبت کے درمیان امتیاز کرنا سیکھنا چاہئے اگر ہم خود کو بنگالی، پنجابی اور سندھی وغیرہ پہلے اور مسلمان و پاکستانی بعد میں سمجھتے رہے تو پھر پاکستان پارہ پارہ ہو جائے گا اسے کوئی معمولی بات سمجھ کر ٹالئے نہیں۔ اس کی شدت اور امکانات پر ہمارے دشمن بخوبی آگاہ ہیں اور میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ دشمن اس روش سے پہلے ہی غلط فائدے اٹھانے میں مصروف ہیں۔ بھارت کی یہ سیاسی ایجنسیاں مسلمانوں کو پاکستان حاصل کرنے سے نہ روک سکیں تو اب یہ اپنے دیگر ہتھکنڈوں سے پاکستان کا شیرازہ منتشر کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور اس کے لئے انہوں نے وہی پرانا حربہ اختیار کیا جو مسلمانوں کے دیگر دشمن اختیار کرتے رہے ہیں یعنی انہوں نے ایک مسلمان بھائی کو دوسرے مسلمان بھائی کے خلاف اکسانا شروع کر دیا ہے اور میں آپ کو صوبائی محتسب کے اس زہر سے خبردار کرنا چاہتا ہوں۔(وما علینا الا لبلاغ)....(ختم شد)

مزید : کالم