حکومت طالبان مذاکرات

حکومت طالبان مذاکرات

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لئے مناسب جگہ کے بارے میں وزارت داخلہ نے تجاویز تیار کر لی ہیں، معلوم ہوا ہے کہ اس کا اعلان وزیر داخلہ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد کر دیں گے۔ اس سلسلے میں سرکاری کمیٹی کا پہلا با ضابطہ اجلاس وزیر داخلہ کی صدارت میں ہوا۔ معلوم ہو اہے کہ مذاکراتی علاقے کو فریقین کی آمد و رفت کے لئے فری زون قرار دیا جائے گا۔ یہ علاقہ خیبر پی کے میں کسی جگہ ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کے لئے بات کو آگے بڑھانے کے لئے حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات ایسی جگہ ہوں گے، جہاں حکومتی رسائی ممکن ہو۔ ڈسپلن کی پابندی نہ کرنے والے گروپوں کو طالبان گروپوں سے علیحدہ کرنے کا یقین بھی دلایا گیا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، وزیراعظم نواز شریف نے طالبان کے بچوں اور خواتین کی رہائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومتی عمارتوں میں مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، تاہم مذاکرات کی جگہ کا تعین ہو جائے گا۔ انہوں نے قوم کے بعض حلقوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد میں آپریشن پر زور نہ دیں۔

طالبان اور حکومت کے درمیان آئندہ چند روز میں براہ راست مذاکرات شروع ہونے کے بعد امن عمل کے آگے بڑھنے کی توقع ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے بدخواہ ان کوششوں کو ناکام بنانے لئے سرگرم ہو چکے ہیں۔ سیاسی سطح پر بھی بعض لوگ سب کچھ سمجھتے ہوئے اسی طرح ڈھٹائی کے ساتھ امن عمل کی مخالفت کر رہے ہیں، جس طرح قومی معیشت کے استحکام کے لئے کالا باغ ڈیم کو سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا تھا۔ پاکستان کو اس وقت اپنی بقاءاور ترقی و خوشحالی کے لئے ایک طرف اگر اپنے تمام ہمسایوں سے بہتر تعلقات کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اندرونی امن و استحکام بھی اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسائل پیدا کرنا اور مصائب کی دلدل میں دھنستے چلے جانا کسی گروہ یا فرد کے لئے کبھی مشکل کام نہیں رہا ، مشکل اور صبر آزما مرحلے مسائل سے قوم و ملک کو نکالتے وقت درپیش ہوتے ہیں، جن کے سلسلے میں احتیاط اور تدبر اور تمام مکاتب فکر کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیانات داغنے اور دشمن کے مقاصد پورے کرنے والوں سے بھی قوم غافل نہیں ہے۔ ہمارے خفیہ اداروں کو بھی اس مرحلہ پر پوری مستعدی اور جانفشانی سے کام لینا ہو گا۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور حکومت کی طرف سے جو بھی کیا جائے گا قوم کو پورا یقین ہے کہ اس میں قوم و ملک کے مفادات اور ملکی استحکام ہی کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ ہر طرح کی شیطانی خواہشیں اور حرکتیں بھی حکومتی اداروں کی نظر میں ہیں ۔ مذاکرات سے ملکی امن و خوشحالی کی سمت آگے بڑھنے کے علاوہ ہمیں کسی طرح کی دوسری امیدیں نہیں ہیں، وسیع تر قومی مفاد کو نظروں سے نہ ہٹایا گیا، تو پھر قوم کی اچھی توقعات ہی پوری ہوں گی۔ انشاءاللہ!

مزید : اداریہ