سپریم کورٹ کا تاسیف ملک کے اہلخانہ سے 24 گھنٹے میں ملاقات کرانےکا حکم

سپریم کورٹ کا تاسیف ملک کے اہلخانہ سے 24 گھنٹے میں ملاقات کرانےکا حکم

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے راولپنڈی سے لاپتہ تاسیف ملک کیس میں اہلخانہ کو 24 گھنٹے میں حراستی مرکز میں زیرحراست لاپتہ شخص سے ملاقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون خانہ کو لکی مروت میں تاسیف سے ملاقات کے لئے بلانا افسوسناک ہے۔ انہیں ایسی جگہ بلایا جاتا جہاں ان کے لئے جانا کچھ تو آسان ہوتا۔ انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں۔جسٹس ناصر المک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔اس دوران لاپتہ شخص کی بیوی ڈاکٹر عابدہ ملک کے وکیل کرنل(ر) انعام الرحیم نے عدالت کو بتایا کہ تاحال تاسیف سے ان کے اہلخانہ کی ملاقات نہیں ہوئی ہے اور جان بوجھ کر ملاقات کے لئے وہ دن مقرر کیا گیا جب آپ نے اس کیس کی سماعت کرنا تھی ۔اس پر عدالت نے وزارت دفاع سے پوچھا تو بتایا گیا کہ پولیس افسر کی گاڑی خراب ہوگئی تھی ۔اس لئے ملاقات نہیں ہوسکتی تھی اس لئے آج کا دن مقرر کیا گیا تھا۔عدالت نے حکم دیا کہ وقفے کے بعد بتایا جائے کہ کہاں ملاقات کرائی جارہی ہے۔وقفے کے بعد انعام الرحیم نے عدالت کو بتایا کہ تاسیف ملک کے اہلخانہ ایک چیک پوسٹ کے پاس ہیں ۔امکان ہے کہ ملاقات آ ج ہی ہو جائے گی اس پر عدالت نے سماعت آج جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے ملاقات کرانے کا حکم دیدیا۔

مزید : علاقائی