تجزیہ:چودھری خادم حسین مسلمان ممالک بحران کا شکار،اسلامی کانفرنس کا وجود ؟

تجزیہ:چودھری خادم حسین مسلمان ممالک بحران کا شکار،اسلامی کانفرنس کا وجود ؟

پاکستان اور بحرین کے درمیان تجارتی روابط اور فوجی تعاون کے معاہدے ہوئے ہیں ،اس کے ساتھ ہی سرکاری ترجمان نے معترض سیاسی راہنماؤں کے جواب میں وضاحت کی ہے کہ پاکستان کی فوج بحرین نہیں بھیجی جارہی ،اس سے اطمینان ہونا چاہیے بہرحال فوجی تعاون کے جو معاہدے ہوئے ان کی روسے پاکستان بحرین کے فوجیوں کی تربیت میں تعاون کرے گا اور ملک کے اندر فوج سے متعلقہ جوسازو سامان تیار ہوتا ہے ،بحرین اپنی ضرورت کے مطابق پاکستان سے خریدے گا جبکہ پاکستان نے امداد نہیں تجارت کے اصول پر بحرین سے بھی تجارت ہی کیلئے معاہدے کئے ہیں البتہ اضافی بات یہ ہے کہ بحرین پاکستان سے افرادی قوت لینے پر آمادہ ہوگیا ہے۔

بحرین کے بادشاہ شیخ حمدبن عیسیٰ الخلیفہ اپنے وفدکے ساتھ پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے۔ چالیس سال کے بعد بحرین کے کسی سربراہ کا یہ دورہ ہے۔اس سے پاکستان کی معیشت کو سہارا ملے گا۔یہ دورہ سعودی عرب کے ولی عہدا ور دوسرے اہم اکابرین کی آمد اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعدہی ممکن ہوا اور یہ سب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سعودی شاہی خاندان کے ذاتی مراسم کا بھی نتیجہ ہے ۔سعودی عرب کی طرف سے ڈیڑھ ارب ڈالر دینے والی بات تواب پر انی بھی ہوچکی۔

سعودی عرب اور بحرین کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد کو مشرق وسطےٰ کے حالیہ بحران سے جوڑا جارہا ہے اور اعتراض کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ۔بلاشبہ یہ حساس معاملہ ہے اور ہر دوممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت حساس ہی ہوتی ہے اس لئے ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہی کہیں گے کہ یقیناً حکمرانوں نے بھی بہت کچھ سوچا ہوگا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت مسلمان حکومتوں پر کڑا وقت آیا ہوا ہے۔عراق میں جو ہوا وہ اب تک نہیں سنبھل پایا،وہاں سامرا جی حکمت عملی کا فسوں چل گیا اور ابھی تک قائم ہے۔ معنوی اعتبار سے عراق تین حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔مصر میں مستحکم حکومت بننے کے بعد صدر مرسی کی جلد بازی کے باعث بازی پلٹ گئی۔شام خانہ جنگی کا شکار ہے۔لبیا کو تہس نہس کرکے عراق بنادیا گیا ،جبکہ ترکی میں بھی محاذ آرائی ہورہی ہے،ایسے میں پاکستان دہشت گردی کے ہاتھوں مشکلات سے دوچار ہے۔

ایک عام فہم کا انسان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ایک طرف یہ صورت حال ہے اور اغیار کی ریشہ دوانیاں ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں ہی کے اندر ایسے گروہ پیدا ہوکر کام کررہے ہیں جوحالات کا زمینی حقائق کی روشنی میں ادراک نہیں کرتے اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہو کر بزور اپنا فلسفہ ٹھونسنا چاہتے ہیں اور ایسا ہی کچھ بعض امیرملک اپنے پیسے کے بل بوتے پر کررہے ہیں ،پاکستان کے اندر بھی اس نوعیت کی ’’پراکسی‘‘ چل رہی ہے۔

یہ حالات ہی کا جبر ہے کہ کویت پر عراقی قبضے سے شروع ہو کر موجودہ حالات تک اسلامی کانفرنس قطعاً ناکام رہی اور اب تو یہ احساس بھی ہے کہ اسلامی کانفرنس کا وجود ہی نہیں ہے،مسلمان ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر مسائل حل کرنے کے لئے جو فورم بنایا گیا ،وہ فعال اور کارآمدنہیں رہنے دیاگیا اور آج لبیا سے مصر اور مصر سے شام تک مسلمان خوار اور آپس میں دست وگریبان ہیں ان میں مصالحت کرانے والا کوئی نہیں ،شدت پسندی ہی نے امریکہ کو افغانستان میں مداخلت کا موقع فراہم کیا اور روس کی ریاستی دہشت گردی کے بعد امریکی دہشت گردی ہوئی اور یہ نیٹو کے نام پر کی گئی پاکستان اس میں مبصر کے طور پر موجود ہے۔

اس وضاحت کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں کو ہر قدم پھونک پھونک کررکھنا ہوگا۔عالمی بازی گروں کی بازی گری اور چال بازیوں کو سمجھنا ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ ان تنازعات میں فریق بننے سے خود کو بچاناہوگا جو مسلمان ممالک کو کمزورسے کمزور تر کرتے چلے جارہے ہیں۔

پاکستان خود انتہا پسندی کا شکار ہے،دہشت گردی نے بری طرح متاثر کیا ہوا ہے ۔اس پر انتہا پسند عناصر اس دہشت گردی کو اغیار کی ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے جائز قرار دے رہے ہیں اور عام مسلمان پریشان ہے کہ یہاں یہ انتہا پسندی جنون کی صورت اختیار کررہی ہے اور یہ ملک اپنوں اور غیروں کی مداخلت کا سامنا کررہا ہے،یہ درست کہ امن کی ضرورت ہے اور امن کیلئے پہلی ترجیح مذاکرات ہی ہیں لیکن کیا یہ تاثر دور کرنے کی ضرورت نہیں کہ ریاست دباؤ کا شکار نہیں اور ریاست کی اپنی طاقت اور رٹ ہوتی ہے۔اس وقت موجودہ حکومت کو سیاسی لحاظ سے بڑے ساز گار حالات ملے ہیں ،حتیٰ کہ شدت پسندوں سے بات چیت کے حوالے سے بھی اس کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے ۔اب یہ اکابرین پر مخصر ہے کہ وہ اس حمایت یا اتفاق رائے کو قومی مفاد میں کس طرح استعمال کرتے ہیں یا پھر استحصال کرتے ہیں ،اگر ایسا ہوا تو بہت برا ہوگا پہلے ہی معاشرے میں تقسیم تو ہے لیکن شدت پسندوں کے باعث یہ دبی ہوئی ہے ۔اسے صحیح سمیت میں ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے اور اسی طرح ممکن ہے کہ شدت کی بجائے اعتدال کا راستہ ہو اور معاشرے کو کسی کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔

آج پاکستان جن مسائل سے دور چار ہے،ان کا ذکربھی غیر ضروری ہے کہ کسی کو انکار ہی نہیں ہے ،حکمران کہتے ہیں کہ ان کو حل کرنے کیلئے امن درکار ہے ،یہ بھی صحیح ہے تو پھر تدارک کے لئے بھی اقدامات نظر آنا چاہئیں ،قوم کو ہر ہر قدم پر اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔جو فوائد حکومت حاصل کررہی ہے یا کرے گی وہ نچلی سطح تک عوام کو نہ ملے تو فرسٹریشن بڑھ جائے گی۔

مزید : صفحہ اول