پاکستانی معیشت کسی بھی سرمایہ کاری کو منافع بخش بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے صادقہ حمید

پاکستانی معیشت کسی بھی سرمایہ کاری کو منافع بخش بنانے کی بھر پور صلاحیت ...

لاہور (خبرنگار)پاکستان میں سرمایہ کاری پاکستانی عوام اور امریکی کاروبار کے مفادات کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS )اور مشعل پاکستان کے زیر اہتمام راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی نمائندہ صادقہ حمید نے کہا کہ تمام تر منفی پیش گوئیوں کے باوجو د پاکستانی معیشت کسی بھی سرمایہ کاری کو منافع بخش بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ۔ صادقہ حمید نجی شعبہ کی ترقی ، پولیٹیکل رسک اور فرنٹیئر مارکیٹ کے شعبوں میں مہارت رکھتی ہیں ۔سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز پاکستان میں نجی شعبہ کی ترقی اور کاروباری استعدادکو زیر بحث لانے کیلئے انٹرویوز اور راؤنڈ ٹیبل کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو امریکہ اور پاکستان کے پالیسی سازوں اور بزنس کمیونٹی کے لئے رپورٹ کی شکل میں مرتب کیا جائے گا۔دونوں ممالک کے کاروباروں کو پاکستان اور واشنگٹن ڈی سی انوسٹرز کانفرنسز کے ذریعے ایک مقام پر جمع بھی کیا جائے گا۔ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں ، بزنس کمیونٹی ، تعلیم ، میڈیا ، سول سوسائٹی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کی ۔ شرکاء نے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور پاکستان کے حوالے سے میڈیا کے تاثرات پر بھی اظہار خیال اور اتفاق کیا۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو جس طرح بین الاقوامی میڈیامیں پیش کیا جاتا ہے اس سے پاکستان اور امریکی حکومتوں کے مابین تعلقات میں دوریاں پیدا ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 18 کروڑ افراد والے ملک کا شاندار معاشی استعداد،تیزی سے ترقی کرتا ہوا نجی شعبہ ، جہاز رانی کے حوالے سے اہم ترین مقام ، اور کل آباد ی میں عمرکی تقسیم کے لحاظ سے دنیاکا انتہائی موزوں ملک ہونے کے باوجود پاکستان کا معاشی تشخص دھندلا رہا ہے ۔پاکستان میں سرمایہ کی کمی مالی سرمایہ کاری کے بہت سے مواقع فراہم کرتی ہے ۔ چھوٹے اور درمیانے سرمایہ کاروں کا بہت کم (7فیصد)تناسب بنک قرضوں کا حامل ہے ۔پاکستان میں چھوٹے قرضوں کی یہ شرح بنگلہ دیش میں ایس ایم ایز کے 32 فیصد اور انڈیا کے 33 فیصد کے مقابلے میں ہے جو تجارتی قرضوں کے شعبہ میں وسیع مواقع کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ترقی کے نقطہ نظر سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بڑی فرموں کے مقابلے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کی صلاحیت زیادہ رکھتے ہیں اور ان کا مقامی ہونا سکیورٹی تحفظات کے باوجود سرمایہ کاری اور کام کرنے کو یقینی بناتا ہے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ مغربی سرمایہ کار مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے خلاف باڑہ کرنے کی کوشش کے طور پر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں امریکہ اور یورپ کی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کا افریقہ کی منڈیوں سے موازنہ کیا ہے پاکستانی تاجروں کی تحقیق کے مطابق منڈیوں میں تقریباَ 0.05فیصد تنوع ہے بینک اور دوسرے مالیاتی ادارے کم سے کم رسک رکھتے ہیں کسی دوسری جگہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری سے اچھا منافع حا صل کیا جا سکتا ہے۔اسٹریٹیجک و بین الاقوامی مطالعہ کا مرکزCSISایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں ہے جس میں 220کل وقتی ملازمین ایک وسیع نیٹ ورک کے تحت تحقیق اور تجزیے سے وابستہ ہیں جو بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ مختلف مسائل لے حل کی پالیسی اور اقدامات تجویز کرتے ہیں۔           

مزید : علاقائی