بحرین سمیت کسی ملک نے فوج مانگی نہ دینگے ۔نواز شریف

بحرین سمیت کسی ملک نے فوج مانگی نہ دینگے ۔نواز شریف

                    میانوالی( اے این این، آئی این پی) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بحرین سمیت نہ تو کسی ملک نے پاکستان سے فوج مانگی ہے اور نہ ہی ہم دیں گے، میانوالی میں پاک فضائیہ کے بیس کا نام ایم ایم عالم بیس رکھنے کی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہِ بحرین کا دورہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ کویت کے وزیراعظم اور سعودی ولی عہد بھی حالیہ دنوں میں پاکستان آئے، پاکستان میں معاملات آگے بڑھ رہے ہیں ماضی میں بھی پاکستان کو بہترین ملک بنایا جاسکتا تھا مگر کسی نے اس پر توجہ نہیں دی، پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لئے جلد فیصلے کرنا ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر بری فوج کے علاوہ فضائیہ اور بحریہ کے نمائندے بھی آسکتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آزادی ایک بیش قیمت نعمت ہے ۔ہر نعمت تقاضا کر تی ہے کہ اُس کی حفاظت کی جائے،جو قوم آزادی کی قدرو قیمت سے واقف ہوتی ہے،وہ اس کی حفاظت کو اپنی پہلی ترجیح بناتی ہے پھر اُس قوم میںایسے سپوت جنم لیتے ہیں جوملک اور قوم کی آزادی کی خاطر، اپنی سب سے قیمتی متاع نچھاور کرنے کے لیے بھی ہر وقت آ مادہ رہتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ ایسے فرزندوں کے تذکرے سے بھری ہے۔ہم جانتے کہ جان سے قیمتی متاع کوئی نہیں جو صرف ایک بار نصیب ہو تی ہے۔پاکستان کی آزادی، اُن شہدا اور غازیوںکے مرہون منت ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں، اپنی جانیں داو¿ پر لگاکر قوم اور ملک کو سرخرو کیا۔اُن مجاہدوںمیں بھی کچھ وہ ہوتے ہیں جن کی شہرت جغرافیائی سرحدیں پار کر جاتی ہے، جنہیں دوسری قومیں بھی اپنا آئیدیل بنا لیتی ہیں، وہ بھی تمنا کرتی ہیں کہ انہیں بھی ایسے بہادر فرزند نصیب ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ائر کمو ڈور محمد محمود عالم بھی پاکستان کے ایسے ہی ایک سپوت تھے۔ہم ان پر فخر کرتے ہیں اور دنیا ان پر رشک کرتی ہے۔پاکستان ایئر فورس کے لیے یہ بات باعث افتخارہے کہ ایم ایم عالم کا تعلق اس کی صفوں سے تھا۔پاکستان ایئر فورس کی تاریخ یقیناً ایسے جانبازوں کے ذکرسے روشن ہے، جنہوں نے ایم ایم عالم جیسے مجاہدوں کو مثا ل سمجھ کر پاک فضائیہ کا رخ کیا اوران کو اپنا آئیدیل بنایا۔مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری ائر فورس میں ایسے بے شمار نو جوان مو جود ہیں جو پلٹ کر جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ جو بے چین ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور وہ ایم ایم عالم کی تاریخ کو ایک بار پھر دھرائیں۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ہم اس خطے میں پرامن بقائے باہمی کے علم برادر ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔تاہم امن پسند ہونے کا مطلب اپنی آزادی کے حق سے دست بردار ہو نا نہیں ہے۔ہمیں اپنی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی آزادی کی حفاظت کر ناہے۔وہ آزادی جس کے لیے ایم ایم عالم جیسے مجاہدوں نے بہادری کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کی ۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے بھی یہی حکم دیا کہ ہم اپنے گھوڑے تیار رکھیں۔آج کے دور میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری افواج کے پاس بہترین اسلحہ ہو اور ہمارے جوانوں کو دنیا کی بہترین فوجی تربیت میسر ہو۔اس معاملے میں پاکستان کا مو قف بڑا واضح ہے۔ ہم اسلحے کی دوڑ میں شریک نہیں ہیں لیکن اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں ہیں۔اپنی آزادی کو کھونے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ہماری حکومت اس معاملے میں کسی ابہام کا شکار نہیں کہ ایک مضبوط پاکستان ہی خطے کے امن کی ضمانت ہو سکتا ہے،مضبوط پاکستان کے لیے افواج پاکستان کا مضبوط ہو نا ضروری ہے، اس لیے پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کو طاقت ور بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھا یا جا ئے گا۔نواز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیاءکے ممالک کو اس بارے میں غور کر نا چاہیے کہ اس خطے میں ایک ارب سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔ان میں بڑی تعداد اُن لو گوں کی ہے جوخط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں ان کی فکر کر نی چاہیے۔میں جنوبی ایشیاءکی قیادت کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ وہ اسلحے کی دوڑ کے بجائے، غربت اور افلاس کو اپنی توجہ کا مر کز بنائیں اور غربت، جہالت اوربیماری جیسے سماجی برائیوں کے خلاف لڑیں۔ ہم اس محاذ پر مل کر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔پاکستانی قوم تم پر فخر کرتی ہے۔قوم پاک فضائیہ کے ہر جوان کے چہرے پر ایم ایم عالم کو تلاش کر تی ہے۔ایم ایم عالم ہونے کے لیے ہوا باز ہونا ضروری نہیں۔ ایئر فورس اور زندگی کے دیگر شعبوں میں کام کر نے والا بھی ایم ایم عالم بن سکتا ہے۔ ایم ایم عالم ایک جذبے کا نام ہے۔یہ ایک لگن کا عنوان ہے۔یہ ایک ارادے کا اظہار ہے۔جس جوان میں یہ جذبہ، یہ لگن اور یہ ارادہ مو جود ہے، وہ ایم ایم عالم ہے۔قوم ایسے سپوتوں کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کر تی ہے اوران کی یاد کو کبھی محو نہیں ہو نے دیتی۔ اسی جذبے کے ساتھ میں اعلان کر رہا ہوں کہ ”پی اے ایف میانوالی بیس“، آج کے بعد ”پی اے ایف ایم ایم عالم بیس “ کہلائے گا۔یہ بیس مختصر افرادی قوت اور سہولتوں کے باوجود پاکستان ائر فورس کا ایک قابل ذکر مرکز ہے۔آپ سب کا جذبہ لائق تحسین ہے۔اس نئے نام کے بعد مجھے یقین ہے کہ آپ میںجوش و جذبے کی ایک نئی لہر دوڑ جائے گی۔وہ جوش اور وہ جذبہ جو پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ ہم نے مل کر اسی جوش و جذبہ کے ساتھ پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنا نا ہے۔اپنے اپنے دائرے میں ملک کی تعمیر کرنی ہے۔ قبل ازیں میانوالی پہنچنے پرپاک فضائیہ کے ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے وزیراعظم نواز شریف کا استقبال کیا جبکہ وزیردفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود،چیف آف دی ائیرسٹاف ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ، ایم ایم عالم کے بھائی زبیر عالم، ایم ایم عالم کی بہنوں شاہینہ زرین، کشور فاروقی، مسز نوشاوہ وہاب اور پاک فضائیہ کے سابق سربراہان نے بھی شرکت کی ۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول