امریکہ ہمارے کاندھے پر بندوق رکھ کر حقانی نیٹ ورک ختم کرنا چاہتا ہے۔عمران خان

امریکہ ہمارے کاندھے پر بندوق رکھ کر حقانی نیٹ ورک ختم کرنا چاہتا ہے۔عمران ...

                     اسلام آباد(آئی این پی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مسائل کاحل ملٹری ڈکٹیٹرشپ نہیں جمہوریت ہے‘ پاکستان میں دہشت گردوں کیخلاف اب تک چھ ہزار آپریشن ہوچکے ہیں‘ وزیراعظم نواز شریف اور چوہدری نثار صرف مذاکرات کے حامی ہیں‘ امریکہ ہمارے کاندھے پر بندوق رکھ کر حقانی نیٹ ورک کو ختم کرنا چاہتا ہے‘ لاپتہ افراد پر وزیراعظم کو ایکشن لینا چاہئے‘ گذشتہ حکومت کا دور جمہوری نہیں مک مکا کا دور تھا‘ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد خدشہ ہے کہ کہیں شیعہ سنی لڑائی کیلئے نہ دئیے گئے ہوں‘ افتخار چوہدری سے گلہ ہے کہ دھاندلی کیخلاف ایکشن نہیں لے سکے۔ گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد پر ایکشن لےکر بازیاب کرانا چاہئے۔ تمام افراد کو وفاقی ایجنسیوں نے اٹھایا۔ عمران خان نے کہا کہ گذشتہ حکومت میں تمام لوگوں نے مل جل کر ملک کو کھایا اسلئے وہ جمہوری نہیں بلکہ مک مکا کا دور تھا اس میں کسی قسم کی اپوزیشن نہیں تھی۔ نواز شریف سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی طرف سے ان پر پریشر ہے کیونکہ صرف وزیراعظم اور وزیر داخلہ طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور باقی سب لوگ اس کیخلاف ہیں۔ میں نے انہیں بتایا ہے کہ پاکستان میں اب تک دہشت گردوں کیخلاف ابتک چھ ہزار آپریشن ہوچکے ہیں جن میں نقصان کے سواءکچھ نہیں ہوا لہٰذا مذاکرات سے ہمیں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ طالبان کے بہت سے گروپ ہیں جن کی اکثریت مذاکرات کی حامی ہے۔ انہیں موقع دینا چاہئے۔ ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے جارہا ہے اور وہ جاتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتا ہے اسلئے وہ آپریشن پر زور دیتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اگر آپریشن ہوا تو سب گروپ ہمارے خلاف ہوجائیں گے اور وزیراعظم کو یہ بھی بریف کیا کہ ہمیں مذاکرات کرنے والوں کو مضبوط کرنا چاہئے کیونکہ مسائل کا حل ملٹری ڈکٹیٹر شپ میں نہیں جمہوریت میں ہے۔ میٹرو بس کے حوالے سے عمران خان نے کہاکہ اگر پشاور میں میٹرو کا کوئی منصوبہ چلایا گیا تو ہم اس کیخلاف ہوں گے کیونکہ یہ شارٹ ٹرم منصوبہ ہے جبکہ ہمیں لانگ ٹرم منصوبے کے بارے میں سوچنا چاہئے اور بس ہمیشہ زمین پر چلتی ہے اور ٹرین اوپر‘ انہوں نے بس اوپر اور ٹرین زمین پر چلادی ہے جس سے صرف دس فیصد لوگ استفادہ کرسکیں گے۔ ”صحت کا انصاف“ پروگرام بارے انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک نے مجھے مبارکباد دی ہے۔ یہ پروگرام بہت اچھا رہا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے ڈیڑھ ارب ڈالر آنے سے خدشہ ہے کہ کہیں یہ ڈالر شیعہ سنی کی لڑائی کیلئے نہ دئیے گئے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ فوج کو کسی ملک کی جنگ میں نہیں جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے مجھے ایک گلہ ہے کہ میں نے ہمیشہ عدلیہ کی بحالی کیلئے لڑائی لڑی لیکن انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کیخلاف عوام کے سڑکوں پر آنے کے باوجود ایکشن نہیں لیا

عمران خان

مزید : صفحہ اول