وزیرخزانہ کی زیر صدارت اجلاس چین ایک ہزار بھارت 100 پاکستان کے پاس صرف ایک شپ یا رڈ کا انکشاف

وزیرخزانہ کی زیر صدارت اجلاس چین ایک ہزار بھارت 100 پاکستان کے پاس صرف ایک شپ ...

                               اسلام آباد (اے این این) وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین کے پاس ایک ہزار، بھارت کے پاس100 سے زائد جبکہ پاکستان کے پاس صرف ایک شپ یارڈ ہے۔ گوادر اور پورٹ قاسم شپ یارڈز کے قیام کا منصوبہ پانچ سال سے سرخ فیتے کی نذر ہے۔ اجلاس میں پاکستانی ساحلوں پر نئی شپ یارڈز تعمیر کرنے کی تجاویز کا جائزہ بھی لیا گیا۔ شپ بلڈنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین وائس ایڈمرل ریٹائرڈ افتخار احمد راﺅ نے شپ یارڈ انڈسٹری پر بریفنگ دی اور بتایا کہ عالمی جی ڈی پی کی ترقی کا اوسط تناسب3.6 فیصد سالانہ ہے جبکہ سمندری تجارت نے گزشتہ 50 سال میں سالانہ4.3 فیصد کی اوسط شرح سے ترقی کی ہے۔ چین نے ایک ہزار سے زیادہ شپ یارڈ ہیں جبکہ بھارت میں سو سے زیادہ شپ یارڈ ہیں افسوس ہے کہ پاکستان میں صرف کراچی میں ایک ہی شپ یارڈ ہے جس میں صرف دو چھوٹے ڈرائی ڈاکس ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2008ءسے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور پانچ سالوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین نے اس موقع پر کہا کہ ایک شپ یارڈ کی تعمیر میں پانچ سال لگتے ہیں اور ہمیں جہاز سازی کی صنعت میں ترقی کرنے کیلئے نئی شپ یارڈز پر کام تیز کرنا ہوگا اور ضروری دستاویزی عمل جلد از جلد مکمل کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت اراضی فراہم کرے گی اور ضروری انفراسٹرکچر بھی مہیا کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جہاز سازی کی صنعت کے فروغ اور نئی شپ یارڈز کے قیام سے ہم قومی معیشت کو مضبوط کرسکتے ہیں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ ہماری آٹھ ماہ کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور اقتصادی اشاریئے مثبت ہیں۔حکومت نئی شپ یارڈز کے قیام میں ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود، قائم مقام سیکرٹری دفاعی پیداوار میجر جنرل رضا محمد اور مشیر برائے وزارت خزانہ اسد امین سمیت اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

مزید : صفحہ آخر