طالبان کمیٹی کا مذاکرات کی کامیابی کےلئے وزیراعظم سے بعض وزراءکی زبان بندی کا مطالبہ

طالبان کمیٹی کا مذاکرات کی کامیابی کےلئے وزیراعظم سے بعض وزراءکی زبان بندی ...

              مانسہرہ (اے این این) طالبان کمیٹی نے وزیراعظم نوازشریف سے امن مذاکرات کی کامیابی کےلئے بعض وفاقی وزراءکی زبان بندی کامطالبہ کردیا ،کمیٹی کے رابطہ کار مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ طالبان نے ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کیا یہ بات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہے، حکومت اور طالبان کے درمیان رابطہ کاری کا مرحلہ مکمل، فیصلہ سازی کا وقت آگیا ہے، براہ راست مذاکرات کیلئے جگہ کا تعین جلدکرلیا جائے گا۔جمعرات کو جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر قاضی رفیق الرحمن قمر کے بھائی کی وفات پر تعزیت کے بعد لال مسجد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے مولانایوسف شاہ نے کہاکہ مذاکرات کے حوالے سے جو سفر شروع کیا اسے کامیابی سے ہمکنار کرناہوگا ،حکومتی کمیٹی اور ہمارے درمیان کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے،  مذاکرات کی جگہ کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا طالبان نے پیس زون کی تجویز دی ہے اور غیر عسکری افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد، ہنگو ، کوئٹہ ، پشاور کے واقعات سے طالبان کا کوئی تعلق نہیں بلکہ طالبان نے اسکی مذمت کی ہے اور دھماکوں کی تحقیقات میں تعاون کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ وفاقی وزراءکی زبان بندی ہونی چاہیے تاکہ امن عمل پایہ تکمیل کو پہنچ سکے وزیراعظم خود اس بات کا نوٹس لیں اور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ملک میں انارکی پھیلانے میں کرزئی حکومت اور بھارت ملوث ہیں ، کرزئی اپنے مستقبل کیلئے پریشان ہے وہ جانتے ہیں کہ افغانستان کا مستقبل طالبان کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہاکہ جنگ بندی قبائلی روایات کا حصہ ہے اور امن عمل کیلئے اس میں توسیع ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ طالبان نے ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کیا یہ بات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ ایک سوال پر مولانایوسف شاہ نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان رابطہ کاری کا مرحلہ مکمل ہوگیااب فیصلہ سازی کا وقت آگیا ، فیصلہ سازی کے بعد اقدامات سے قیام امن میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا مسئلہ قومی ہے، پاکستانی عوام کو اسوقت آٹے ،گیس اور بجلی سے زیادہ امن کی ضرورت ہے ملک میں قیام امن کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ا سامہ سے متعلق امریکی اخبار کی رپورٹ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے و پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی سازش ہے دہشتگردی کے حالیہ واقعات سے طالبان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مولانا سمیع الحق سے قیام امن کیلئے کردار ادا کرنےکی خود درخواست کی تھی طالبان کی جانب سے خواتین اور بچوں سمیت غیر عسکری قیدیوں کی رہائی ایک تجویز ہے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔ بعض عناصر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر پرویز مشرف یوٹرن نہ لیتے تو آج پاکستان کے حالات یہ نہ ہوتے امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک مستحکم ہو۔ انہوں نے کہا کہ فوج بھی مذاکرات کے حق میں ہے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوئی تو ہم ملک میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول