پاک بھارت ٹاکرے کے لیے میدان سج گیا

پاک بھارت ٹاکرے کے لیے میدان سج گیا

میچ ساڑھے چھ بجے اِسی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایاجائے گا

پاک بھارت ٹاکرے کے لیے میدان سج گیا

  


ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک ) میرپور میں پاک بھارت ٹاکرے کیلئے میدان سج گیا، دونوں ٹیمیں جمعہ کو شیربنگلہ سٹیڈیم میں آئی سی سی ورلڈ ٹی 20میچ میں مدمقابل ہونگی۔میچ مقامی وقت کے مطابق شام 6:30شروع ہوگا جو اِسی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایاجائے گا،فلڈ لائٹ میں ہونیوالے مقابلے میں اوس کا کردار اہم ہوگا،25 ہزار شائقین کی گنجائش والے اسٹیڈیم کے شائقین سے کھچا کھچ بھرے رہنے کا امکان ہے، میچ کے بارش سے متاثر ہونے کا امکان نظر نہیں پتا، محکمہ موسمیات نے آسمان صاف رہنے کی پیشگوئی کی ہے، پاکستانی ٹیم نے گذشتہ روز ساڑھے تین گھنٹے تک بھرپور پریکٹس کی اور فٹبال بھی کھیلی، بھارتی پلیئرز بھی اپنی صلاحیتیں نکھارتے نظر آئے۔بھارت کو کسی بڑے مقابلے میں شکست نہ دینے کے باوجود پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا ریکارڈ بھارت کے مقابلے میں اچھا ہے۔ پاکستان ماضی میں ہونے ولے ٹی ٹوئنٹی کے چاروں عالمی کپ کے مقابلوں میں سیمی فائنل تک پہنچا ہے اور 2009 میں انگلینڈ کو ہرا ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بھی بنا ہے۔بھارت 2007 میں ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بننے کے بعد کبھی سیمی فائنل تک نہیں پہنچا لیکن وہ پاکستان کے خلاف کھیلے گئے 5 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں صرف ایک ہارا ہے۔بنگلہ دیشی سرزمین پر ہی ایشیا کپ کا فائنل ہارنے والی پاکستانی سائیڈ نے پہلے وارم اپ میچ میں نیوزی لینڈ کو 7 وکٹ سے زیر کیا، عمر گل نے فارم میں واپس آتے ہوئے صرف 16 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، محمد طلحہ نے بھی 2 کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا،وکٹ کیپرکامران اکمل نے بطور اوپنر 52 رنز کی اننگز کھیلی، حفیظ نے 55رنز بنائے۔پروٹیز سے اگلے وارم اپ میچ میں ٹیم 71 رنز پر ڈھیر ہو گئی،صرف 3 پلیئرز ہی ڈبل فیگر میں داخل ہو سکے، یہ بات مینجمنٹ کے لیے باعث تشویش ہو گی، کامران اکمل کے بطور اوپنر کھیلنے کا امکان ہے۔کپتان محمد حفیظ پہلے ہی واضح کر چکے کہ کامران اگر کھیلے تو وکٹ کیپنگ بھی کرینگے، یوں عمر اکمل کو اضافی ذمہ داری سے نجات مل جائیگی، وارم اپ میچز میں اوپنر شرجیل خان 12 اور2رنز ہی بنا سکے، ان کی جگہ احمد شہزاد کو مل سکتی ہے، ایشیا کپ کے ہیرو آل راﺅنڈر شاہد آفریدی فٹنس مسائل سے نجات کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ایکشن میں نظر آئے، وہ بھارت کے خلاف میچ میں بھی حصہ لینگے، شیربنگلہ سٹیڈیم کی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار البتہ سپنرز بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،سعید اجمل اور ایشون اہم کردار ادا کریں گے ، پاکستانی کپتان محمد حفیظ روایتی حریف پر فتح سے ایونٹ کا شاندار آغاز چاہتے ہیں، پریس کانفرنس کے دوران اس سوال پر کہ لوگ کہتے ہیں کہ بھارت کو ہرا دیا تو پورا ٹورنامنٹ جیت لیا،حفیظ نے کہا کہ ہم صرف بلو شرٹس کو مات دینے کا عزم لیے ایونٹ میں حصہ نہیں لے رہے، ہمارے ذہن میں پورے ٹورنامنٹ کے دوران اچھی کارکردگی دکھانے کی سوچ ہے، جنوبی افریقہ کیخلاف وارم اپ میچ میں 71رنز پر ڈھیر ہونے کے باوجود حفیظ نے کہا کہ مجھے اس پر کوئی تشویش نہیں، ٹیم میں کئی اچھے بیٹسمین موجود ہیں،کرکٹ میں اچھے اور برے دن آتے رہتے ہیں، ہم نے دونوں پریکٹس میچز میں مختلف کمبی نیشنز آزمائے اور اپنے مقاصد حاصل کرلیے۔ایک سوال پر حفیظ نے اعتراف کیا کہ آفریدی سوفیصد فٹ نہیں ہیں لیکن وہ ٹیم کیلیے کچھ کر دکھانے کا جذبہ لیے یہاں آئے، آل راﺅنڈر پہلے سے کافی بہتر ہیں اور بھارت کے خلاف کھیلیں گے، میں چاہتا ہوں کہ وہ ایشیا کپ کی کارکردگی کو دہرائیں اور نچلے نمبرز پر آکر میچ کو پاکستانی فتح پر ختم کریں۔ پیس اٹیک پر تشویش کے سوال پر انھوں نے کہا کہ وارم اپ میچز میں عمر گل ردھم میں دکھائی دیے،مجھے امید ہے کہ پیسرز ایونٹ میں اچھا کھیل پیش کریں گے ، انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس مجھ سمیت شاہد آفریدی،شعیب ملک اور وکٹ کیپر کامران اکمل جیسے اچھے آل راﺅنڈرز ہیں،ہم سب ٹیم کے خاصے کام آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی ٹیم کو پہلے وارم اپ میچ میں سری لنکا سے شکست ہوئی جبکہ اس نے دوسرے مقابلے میں انگلینڈ کو قابو کیا، رواں سال بلو شرٹس کی کارکردگی زیادہ خاص نہیں رہی، 2فتوحات افغانستان اور بنگلہ دیش کیخلاف ملیں جبکہ پاکستان، نیوزی لینڈ اور سری لنکا سے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ٹیم کو گذشتہ دنوں شاہد ا?فریدی کے مسلسل 2 چھکوں کی وجہ سے ایشیا کپ میچ میں شکست ہوئی تھی، یہ بات اب تک پلیئرز کے ذہنوں سے نہیں نکل پائی ہو گی،کپتان دھونی کیلیے اچھی بات ویرت کوہلی کی فارم ہے جنھوں نے انگلینڈ کیخلاف بھی 73 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی،یوراج سنگھ اور رائنا بھی امیدوں کا محور ہوںگے، دھونی نے کہا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاک بھارت میچز میں تناﺅ کی کیفیت کم ہونے لگی،پلیئرز کے درمیان بھی مسائل نظر نہیں آتے، البتہ روایتی حریفوں کے درمیان ہر میچ کی طرح یہ بھی دلچسپ ثابت ہو گا،انھوں نے کہا کہ بیٹنگ کے مقابلے میں مجھے باﺅلنگ کے شعبے پر تشویش ہے،خصوصا اختتامی اوورز میں بولرز کو زیادہ بہتر کھیل پیش کرنا ہوگا، محمد شامی اور بھونیشور کمار کا آئی پی ایل تجربہ کام آئیگا، انھوں نے کہا کہ حقیقی آل راﺅنڈرز کی موجودگی پاکستان کیلیے مددگار ثابت ہوگی۔

مزید : ورلڈ T20