کینسر سے لڑتے لڑتے موت کے بالکل قریب پہنچ چکا ہوں

کینسر سے لڑتے لڑتے موت کے بالکل قریب پہنچ چکا ہوں
کینسر سے لڑتے لڑتے موت کے بالکل قریب پہنچ چکا ہوں

  


صحت و تندرسی زندگی کی علامت ہے۔ بہتر زندگی کے لئے بہتر صحت کا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا جینے کے لئے سانس کا لینا۔ انسان جب کسی موذی مرض کا شکار ہو جاتا ہے تو اس سے پیداہونے والی مشکلات، تکلیفوں اور اذیت سے پناہ مانگنے لگتا ہے۔ سیانے ٹھیک ہی کہہ گئے ہیں ’’اللہ کسی کو ہسپتال نہ لے جائے، اس سے بچائے۔‘‘ جو بھی کسی ہسپتال کا رخ کرتا ہے، اس کا منہ دیکھ لیتا ہے۔ اِسی کا ہو رہتا ہے۔ ہسپتال میں آنا جانا، اُس کی زندگی کا روگ بن جاتا ہے۔ مر کر ہی جان چھوٹتی ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں تو حال بہت ہی برا ہے۔ اس پر سو کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ اذیت و کرب کی سینکڑوں داستانیں ہیں، جو ان ہسپتالوں سے جُڑی ہوئی ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں گو کہ علاج کی کافی سہولتیں موجود ہیں، لیکن یہاں بھی ’’علاج‘‘ کے نام پر مریضوں اور اُن کے لواحقین کو لوٹا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں اگر کوئی اپنی بیماری کے ہاتھوں ہار کر مر جائے تو پیرا میڈیکل سٹاف اس وقت تک ’’ڈیڈ باڈی‘‘ وارثوں کے حوالے نہیں کرتا جب تک ’’وارث‘‘ نذرانے میں کچھ ادا نہیں کر دیتے۔ یعنی مردے کا بھی استحصال ہوتا ہے۔ وہ بھی سرکاری سطح پر۔

سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کا جو فقدان ہے۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔ کہیں ایم آرآئی مشین ہے، تو کہیں نہیں ہے۔ جہاں ہے، وہاں بھی خراب پڑی ہے۔ جہاں فنکشنل ہے۔ وہاں رش اتنا ہے کہ آج جانے والے کسی بھی مریض کو تین ماہ تک ایم آئی آر کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جلدی ہو تو سفارش کرانی پڑتی ہے۔ جب تک ایم آر آئی رپورٹ نہیں آ جاتی۔ مریض کا علاج شروع نہیں ہوتا، رپورٹ آنے میں اتنا عرصہ لگ جاتا ہے کہ بسا اوقات علا ج شروع ہونے سے پہلے ہی مریض اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔فنڈ کی مد میں سرکاری ہسپتالوں کے لئے بجٹ میں بہت پیسہ رکھا جاتا ہے، لیکن ایک عام آدمی پھر بھی سرکاری ہسپتالوں میں بہت سی سہولتوں سے محروم ہے۔ نہ دوائی ملتی ہے۔ نہ ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر چیک کرتے ہیں تو ایک لمبی لائن کے تھکا دینے والے پروسیس سے گزرنے کے بعد۔ علاج کا ہر مرحلہ ہی مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ادویات لینی ہیں تو میڈیکل سٹور جاؤ۔ ٹیسٹ کرانے ہوں تو ڈاکٹر صاحبان اس کے لئے بھی پرائیویٹ لیبارٹریوں میں جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیبارٹری کے نام سمیت ایڈریس بھی سمجھاتے ہیں۔ بسااوقات ان کا وزیٹنگ کارڈ بھی دیتے ہیں۔ مشورہ یہ ہوتا ہے کہ اس نجی لیبارٹری میں ٹیسٹ بہتر ہو گا۔ رپورٹ بھی پرفیکٹ آئے گی۔ ڈاکٹر سرکاری لیبارٹریوں کا یہ رونا بھی روتے ہیں کہ وہاں ٹیسٹوں کا بہتر انتظام نہیں۔ ٹیسٹ رپورٹ صحیح نہیں آئے گی۔ اس طرح مریض اور اس کے لواحقین کو ڈرایا جاتا ہے۔ وہ مجبور ہوتے ہیں کہ پرائیویٹ لیبارٹریوں کا رخ کریں۔ ٹیسٹوں کے نام پر ہزاروں روپیہ نجی لیبارٹریوں کی نذر کر دیں۔

گزشتہ چار سال سے میں صحافتی شعبے سے بطور کالم نویس وابستہ ہوں۔ اب تک پانچ سو سے زیادہ کالم لکھ چکا ہوں۔ سیاست اور کرنٹ افیئرز پر تو لکھتا ہی رہتا ہوں، لیکن اکثر سوشل مسائل بھی میرے کالموں کا موضوع رہتے ہیں۔میری دلچسپی بھی اس میں ہے کہ میں ان معاملات یا مسائل کی نشاندہی کروں، ارباب اختیار تک وہ تمام باتیں پہنچاؤں جن کا ہم سب کسی نہ کسی طرح شکار رہتے ہیں، یا ہیں۔مجھے طب یا میڈیکل کے حوالے سے آج لکھنے کی ضرورت اس لئے زیادہ محسوس ہوئی کہ کئی ’’معاملات‘‘ کا میں خود چشم دید ہوں۔ یہ کہوں کہ یہ میری اپنی رودادِ غم ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ جو زخم کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال میں ملے اُس کا احاطہ شاید الفاظ میں نہ کر سکوں۔

کافی دوستوں کو معلوم ہے میں گزشتہ چار سال سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوں۔ 2011ء کا آخری مہینہ چل رہا تھا جب مجھے کچھ علامت پر شک ہوا کہ کسی مہلک بیماری نے آن لیا ہے۔ ڈاکٹر کی ایڈوائس پر ٹیسٹ کروایا۔رپورٹ آئی تو پتہ چلا کینسر ہے۔ شوکت خانم ہسپتال گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر ’’آپ کا ہم علاج نہیں کر سکتے۔‘‘ معذرت کر لی ۔ ’’انمول‘‘ ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹر نے کہا آپ خود ہمت کریں تو علاج ممکن ہے۔ مختلف ٹیسٹوں کے بعد ریڈی ایشن کی گئی۔ جس کے بعد مجھے فِٹ قرار دے دیا گیا۔2013ء آیا تو یہ بیماری زیادہ طاقت ور انداز سے حملہ آور ہوئی۔ انمول ہسپتال کے ڈاکٹرز نے تجویز کیا کہ میں کراچی جناح ہسپتال سے سائبر نائف (Siber Nife) کے ذریعے اپنا علاج کراؤں۔ جناح ہسپتال کراچی میں سائبر نائف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر کامران سعید ہیں۔ بڑی مشکل اور سفارش سے اُن تک پہنچا۔ کراچی آنا جانا بذریعہ جہاز ہوا۔ سائبر نائف ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو پروفیسر ڈاکٹر کامران سعید کے آفس اسسٹنٹ مقصود نے کہا کہ اس علاج پر کافی خرچ آتا ہے۔ اس نے خرچے کی جو رقم بتائی وہ میرے بس میں نہیں تھی۔ میری سوچ سے بہت بڑھ کر تھی۔مجھے کہا گیا اگر میں 50لاکھ روپے ڈیپارٹمنٹ کو عطیہ کر دوں تو میرا علاج کل ہی شروع ہو سکتا ہے۔ پھر ایک پرنٹڈ فارم مقصود نے میرے آگے رکھا اور کہا کہ میں اس پر دستخط کر دوں، لیکن میں نے کہا کہ میرے پاس تو اتنی رقم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ کینسر کی تمام علامات یا اُس کا مرکز میری ناک کے اوپری حصّے میں تھا۔ مجھے کہا گیا کہ میں سائبر نائف سے پہلے اپنی آنکھ کی biopsyکراؤں۔ یہ مشکل طریقۂ علاج ہے۔ کینسر میری ناک کے اوپری حصّے میں تھا۔ جس کی تشخیص بھی ہو چکی تھی، لیکن مجھے جناح ہسپتال کے سائبر نائف ڈیپارٹمنٹ میں آنکھ کی biopsyکے لئے کہا جا رہا تھا جو ایک روبوٹ کے ذریعے عمل میں آنی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ میں اپنی آنکھ ضائع کرا لوں۔ تھک ہار کے میں واپس لاہور آ گیا۔ اور پھرانمول ہسپتال سے رابطہ کیا جنہوں نے جنوری 2014ء میں میری کیمو تھراپی (Chemo Therapy)کی جس سے میرے جسم کی تمام طاقت ختم ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے مجھے کیمو تھراپی کے کیسپول لکھ کر دئیے۔ یہ مہنگے ترین کیپسول ہیں۔ روز کھانا پڑتے ہیں۔ اب حال یہ ہو گیا ہے کہ میرے پاؤں کے پنجے شل ہو گئے ہیں۔ جوڑوں میں درد رہنے لگا ہے۔ جسم کا دفاعی نظام انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔ کسی کو چھینک آ رہی ہو تو مجھے لگ جاتی ہے کسی کا گلا خراب ہو تو میرا گلا خراب ہو جاتا ہے۔ چائے کا ایک کپ تک نہیں پکڑ سکتا۔میری قوتِ مدافعت کے کم پڑ جانے پر ’’انمول‘‘ کے ڈاکٹروں نے مجھے کسی بھی ہسپتال میں جانے سے منع کر رکھا ہے ،تاکہ میں مزید بیماریوں کا شکار نہ ہو جاؤں۔ دو سال سے کیمو تھراپی کیپسول لے رہا ہوں۔ بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ نہایت اذیت میں زندگی گزار رہا ہوں۔ کراچی میں پروفیسر ڈاکٹر کامران سعید بروقت میرا علاج کر دیتے تو میں صحت یاب ہو جاتا اور مجھے یہ تکلیف دہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔

ان تمام حالات کے باوجود زندگی کو کچھ دن اور گزارنے کے لئے پھر نئی امید کے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر کامران سعید سے کراچی رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی ایم آر آئی رپورٹ انہیں بھجواؤں۔ ایم آر آئی کے لئے بڑی مشکلات تھیں، تاہم مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کے ریفرنس سے گنگا رام ہسپتال میں میرا ایم آر آئی ہو گیا۔ اس کی رپورٹ ڈاکٹر کامران سعید کو بھی بھیجی تو انہوں نے کہا کہ بیماری بہت کم رہ گئی ہے۔ آپریشن کروا لوں تو صحت یاب ہو سکتا ہوں۔ مَیں نے ’’انمول‘‘ کے ڈاکٹرز کو یہ بات بتائی تو انہوں نے منع کر دیا کہ آپریشن کرایا تو گارنٹی نہیں کہ زندہ بھی رہ پاؤں گا یا نہیں۔علاج کے لئے اپنا کافی کچھ بیچ چکا ہوں۔ جو بچا ہے، وہ کب تک چلتا ہے۔ کچھ نہیں جانتا۔ موت سے جنگ ہے، جو کافی عرصے سے لڑ رہا ہوں۔ میری فیملی میری صحت کے حوالے سے بہت فکرمند اور پریشان ہے۔ روز جیتا اور مرتا ہوں۔ اس کا ذمہ دار جناح ہسپتال کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر کامران سعید کو سمجھتا ہوں۔ سرکاری سطح پر علاج کی اس بے اعتنائی اور عدم توجہی کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔ یہ صرف میرا ہی نہیں، میرے جیسے نجانے اور کتنے لوگ ہوں گے جو موقع پرست ڈاکٹروں کے لالچ کی وجہ سے بھینٹ چڑھتے ہوں گے۔ اس کو دیکھنا، اس پر نوٹس لینا صرف حکومت کے کارپردازوں کا کام ہے۔ میرے معاملے میں سندھ کی صوبائی حکومت اور وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ بہتر طور پر نوٹس لے سکتی ہیں۔ میں نے اپنا ’’معاملہ‘‘ حکومت پر چھوڑ دیا ہے۔ اس پر غور و فکر اور سنجیدگی کی ضرورت ہے، تاکہ اُن سینکڑوں لوگوں کا بھلا ہو سکے جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ میری تمام صحافتی تنظیموں سے بھی اپیل ہو گی کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ زندگی اور انسانیت کے دشمن اپنے انجام تک پہنچ سکیں۔

مزید : کالم


loading...