کرکٹ اور قومی سیاست

کرکٹ اور قومی سیاست
 کرکٹ اور قومی سیاست

  


پاکستان کی کرکٹ ٹیم میچ جیتتی بھی ہے اور ہارنے سے بھی پرہیز نہیں کرتی۔ جب جیت پاکستان کے حصے میں آتی ہے تو اہل وطن اس کا زوردار جشن مناتے ہیں۔ دیدہ و دل حقیقی معنوں میں اپنے کھلاڑیوں کے لئے فرش راہ کر دیتے ہیں۔ مگر جب ٹیم میچ ہارتی ہے تو اس شکست پر قوم کا ردعمل کچھ ایسا ہوتا ہے کہ نپولین کا قول یاد آجاتا ہے کہ کامیابی کے ہزار باپ ہوتے ہیں جبکہ ناکامی ہمیشہ یتیم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا نے قوم کو اپنے جذبات کے اظہار کا ایک نیا ذریعہ دیا ہے۔ جہاں کسی کی بھی عزت محفوظ رہنا اور ہمیشہ کے لئے محفوظ رہنا ناممکن ہو گیا ہے۔ خاص طور پر جب پاکستانی ٹیم کو بھارت کے مقابلے میں شکست ہوتی ہے تو اس سانحے پر کچھ زیادہ ہی دکھ ہوتا ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی عورتوں کی کرکٹ ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے مگر مردوں کی ٹیم کی ناکامی کی وجہ سے اس فتح پر خوشی کا اظہار کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ کرکٹ ایک کھیل ہے مگر جب بھی یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو تو اسے برصغیر میں صرف کھیل نہیں سمجھا جاتا۔ اسے قومی وقار کا کھیل سمجھ کر دیکھا جاتا ہے۔کرکٹ کے بعض مداح کرکٹ کو ایک نیا ’’مذہب‘‘ قرار دیتے ہیں جو نوجوانوں کو ایک نئے جوش و جذبے سے متعارف کرا رہا ہے۔ آج دنیا میں کرکٹ کے سب سے زیادہ شائقین برصغیر میں ہیں۔ کرکٹ برطانوی کھیل ہے مگر اس کھیل کو مقبول کرنے میں برصغیر کی سیاست نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں کرکٹ کا پہلا میچ 1721ء میں ہوا تھا۔ مغربی ساحلوں پر یورپی ملاحوں نے اکٹھے ہو کر یہ میچ کھیلا تھا۔مگر برصغیر میں کرکٹ کو باقاعدہ متعارف کرانے والے انگریز تھے۔ اسے امپریلزم کا ایسا زبردست تحفہ قرار دیا جاتا رہا ہے جو ایک دیسی کو جنٹلمین بنانے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ نوآبادیات کی تاریخ بیان کرتے ہوئے برطانوی مفکر اور کرکٹر آرتھر ہاسلم نے کہا تھا۔

’’برطانوی نو آبادیات کی تاریخ تو یہی ہے کہ پہلے کسی جگہ مہم جو گئے۔ پھر مشنری بھجوائے گئے۔ ان کے بعد وہاں تاجر گئے۔ پھر فوجی پہنچ گئے۔ پھر وہاں سیاستدان نظر آئے اور آخر میں وہاں کرکٹر پہنچے۔ فوجی دھونس جما سکتے ہیں۔ سیاستدان غلطیاں کر سکتے ہیں مگر کرکٹ سب کو متحد کرتا ہے۔ یہ حاکم اور محکوم کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اخلاقی تربیت بھی دیتا ہے اورایک ایسی تعلیم بھی جو جرات اور برداشت پیدا کرتی ہے اور کردار کی تعمیر سازی میں کسی بھی دیسی کے لئے بہت زیادہ اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ شیکسپیئر کے کسی ڈرامے یا لارڈ میکالے کا کوئی مضمون زبانی یاد کرنے کی کردار سازی میں ایسی اہمیت نہیں ہے۔‘‘

آرتھر ہاسلم نے پہلی برطانوی کرکٹ ٹیم کے ساتھ 1893ء میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ بھارتی مورخ ماریا مسرا کے مطابق بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ کرکٹ افراد کی کردار سازی ہی نہیں کرتا بلکہ قوموں کی کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ قوموں کا کیسا کردار تشکیل دیتا ہے اس پر گہرا اختلاف پایا جاتا ہے۔ گزشتہ صدی کے آغاز میں جب کرکٹ برصغیر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی تھی تو انگریز اس کے حق میں مبالغہ آمیز باتیں کیا کرتے تھے۔ لارڈ ہیرس 1890ء سے 1913ء تک بمبئی کے گورنر رہے ہیں۔ وہ بھی کرکٹ سے عشق کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ کرکٹ ہندوستان کی مختلف النوع ذاتوں‘ طبقات اورمذاہب کو اپنی شناخت کھوئے بغیر ایک دوسرے سے ملنے کا موقع فراہم کرتاہے اور یہ سیاسی رقابتوں کو ختم کرنے کے لئے ایک مثالی نسخہ ہے۔ سندھ کے پہلے گورنر سر لانسلر گراہم بھی کچھ ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کرکٹ میں مختلف طبقات کے اختلافات کو ختم کرنے اور ان میں اتحاد پیدا کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت ہے۔بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں تو کچھ ایسی ہی صورت تھی۔ کرکٹ برصغیر کے بڑے شہروں میں ذوق و شوق کے ساتھ کھیلا جاتا تھا۔ امیر اور غریب اس میں حصہ لیتے تھے۔ ٹورنامنٹ ہوتے تھے۔ جہاں امیر بڑی بڑی شاہانہ کرسیوں پر ٹینٹوں کے نیچے بیٹھے اس کھیل کو دیکھتے تھے وہاں میدان میں عوام کے ہجوم بھی ہوتے تھے۔ بہت سے لوگ گھنٹوں درختوں پر چڑھ کر کھلاڑیوں کو کرکٹ کی گیند کے پیچھے دوڑتے دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ برصغیر کے لوگ ایک نئے جوش و خروش سے متعارف ہو رہے تھے جس کا اس سے قبل انہوں نے تجربہ نہیں کیا تھا۔ پہلی جنگ عظیم تک تو صورتحال کچھ ایسی ہی تھی کہ کرکٹ حاکموں اور محکوموں کو ایک جگہ اکٹھا کر رہا تھا۔

برصغیر میں بمبئی جسے آج کل ممبئی کا نام دیا جاتا ہے کرکٹ کی جائے پیدائش ہے۔ 1893ء میں یہاں ہیرس نے کرکٹ کے ٹورنامنٹ کرانے کا آغاز کیا۔ ابتداء میں کرکٹ ٹیمیں نسلی اور طبقاتی بنیادوں پر بنائی گئی تھیں۔پارسی اپنے آپ کو ہندوؤں سے برتر سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف انگریز ہی ان کے مدمقابل ہیں۔ انہوں نے حقارت سے ہندوؤں کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ مگر 1907ء تک صورتحال تبدیل ہو گئی اور اس سال انگریزوں‘ پارسیوں اور ہندوؤں کے درمیان میچ ہوا۔ 1912ء میں مسلمان بھی کرکٹ کے ان میچوں میں شامل ہو گئے۔ یوں برصغیر میں چار قومیتوں کے میچ ہونے لگے۔ برصغیر کی سیاست کو کرکٹ کی سیاست کے حوالے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ 1930ء کے عشرے میں جب گول میز کانفرنسیں شروع ہوئیں اور ایک میز پر بیٹھ کر ہندوستان کے تمام رہنماؤں نے سیاسی مسائل کے حل تلاش کرنے شروع کئے تو کھیل کے میدان میں بھی انگریز‘ ہندو‘ سکھ‘ پارسی اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ 1932ء میں جب کانگریس نے آئینی مذاکرات کا بائیکاٹ کیا تو اس سال میچ بھی منسوخ کرنا پڑے کیونکہ قومی سیاست پوری طرح سے کرکٹ میں آ گئی تھی۔ 1930ء کے عشرے میں کرکٹ میں بھی یہ سوال اٹھا کہ چھوٹی اقلیتوں کو کس طرح اس کھیل کا حصہ بنایا جائے۔ ماریہ مسرا کے مطابق یہ کچھ ایسی ہی صورتحال تھی جو ہمیں اس وقت لندن میں ہونے والے مذاکرات میں نظر آتی ہے۔ جہاں اقلیتوں کے حقوق کے معاملات زیربحث تھے۔انڈین کیتھولک‘ پروٹسٹنٹ‘ شامی عیسائیوں‘ سنہالیوں‘ بدھوں اور پرتگیزی نسل کے انڈین کو کرکٹ میں شامل کرنے کے لئے زوردار بحثیں ہوئیں اور پھر1937ء میں اس کا حل بھی سامنے آ گیا۔ ایک پانچویں ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد پانچوں ٹیموں کے درمیان میچوں کا آغاز ہوا۔

قومی سیاست میں گرما گرمی پیدا ہو رہی تھی۔ قومیت کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ان ٹیموں میں کش مکش گہری ہوتی جا رہی تھی اور اس کی وجہ قومی سیاست تھی۔1937ء میں پانچوں ٹیموں کے درمیان ہونے والا ٹورنامنٹ افراتفری کا شکار ہو گیا۔ اکثریت کے خبط میں مبتلا ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ انہیں سٹیڈیم میں کم نشستیں دی گئی ہیں۔ 1938ء میں پارسیوں نے اس کا بائیکاٹ کیا اور وہ 1939ء میں کھیل کے میدان میں واپس آئے۔ 1940ء میں ہندوؤں نے کانگریس سے یک جہتی کے اظہار کے لئے ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کیا کیونکہ کانگریسی حکومتوں نے استعفٰی دے دیا تھا اور ایک طرح سے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ 1942ء میں جاپانیوں کے حملے کے خدشے کے پیش نظر ٹورنامنٹ نہ ہو سکا۔ تاہم 1943ء میں کھیل دوبارہ شروع ہوا۔ پانچ ٹیموں کا آخری ٹورنامنٹ جنوری 1946ء میں منعقدہوا۔ کرکٹ کے ان میچوں نے برصغیر میں اس کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا مگر اس نے مختلف قوموں میں اپنے علیحدہ تشخص کے احساس کو گہرا کیا۔ 1930ء کے عشرے میں کرکٹ کے شائقین کی قومی اور سیاسی وابستگیاں کھیل کے میدان میں بھی نظر آتی تھیں۔ مسلمان مسلمان کھلاڑیوں کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے تھے تو ہندو اپنے کھلاڑیوں کی کامیابی پر جشن مناتے تھے۔ 1939ء میں جب ہندو ٹیم نے کامیابی حاصل کی تو ہندوؤں نے زوروشور سے بندے ماترم کا ترانہ پڑھا۔ زوردار پٹاخے چلا کر پورے شہر میں اپنی فتح کا جشن منایا۔ یہ کھیل میں کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک قوم دوسری قوم کو اپنی برتری کی خبر دے رہی تھی۔ اس سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر رہی تھی۔

بھارتی قیادت جو مسلمانوں کے علیحدہ قوم کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھی اسے کھیل کے میدان میں ہونے والے اس خطرے کا ادراک ہوا۔ بمبئی کرانیکل نے اپنے ایک اداریے میں کرکٹ کے کھیل کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا۔’’ہمیں انگریزوں کا کھیل نہیں کھیلنا چاہیے۔ وہ ہمیں تقسیم کر کے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ دنیا کے سامنے ہماری نااتفاقی کو جواز بنا کر ہمیشہ کے لئے ہم پر حکومت کریں۔ خود مہاتما گاندھی نے کہا کہ کرکٹ کی ٹیموں کو یا تو غیر قومیتی بنیاد پر دوبارہ تشکیل دیا جائے یا اس کھیل ہی کوبند کر دیا جائے۔ ہندو قوم پرست لیڈر ویرسیوکار نے اقلیتوں پر مشتمل پانچویں ٹیم سے کہا کہ وہ دوبارہ ہندوازم کا حصہ بن جائیں۔ 1940ء کے عشرے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق اتنی گہری ہو چکی تھی کہ مسلمانوں کی کرکٹ ٹیم کو ’’پاکستان‘‘ کا نام دیا جاتاتھا۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی ہندوؤں نے کرکٹ ٹیم کی صورت میں پاکستان بنا دیا تھا۔۔۔نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ کھیلوں میں دنیا کو تبدیل کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ یہ عوام میں نئی روح پھونک سکتی ہیں۔ یہ کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ عوام کو متحد کر سکتی ہیں۔ یہ نوجوانوں سے اس زبان میں بات کرتی ہیں جسے وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جہاں مایوسیوں کا راج ہو‘ کھیل وہاں بھی امید پیدا کر سکتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا کا خیال تھا کہ نسلی رکاوٹوں کو توڑنے میں کھیل کسی بھی حکومت سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

کرکٹ ایک کھیل ہے مگر برصغیر میں یہ کبھی صرف کھیل نہیں رہا۔ ضیاالحق نے اسے ڈپلومیسی کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے بعد جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں کرکٹ کے میچ بند ہو جاتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں کرکٹ کے شائقین مایوس ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کی خبر کرکٹ کے میدان سے آتی ہے۔گزشتہ دنوں اوکاڑا میں کرکٹ کے ایک نوجوان فین کے خلاف اپنے گھر میں بھارتی کھلاڑی کوہلی کی تصویر کے ساتھ بھارتی پرچم لگانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل میرٹھ کی ایک یونیورسٹی میں جب کشمیری طلبا نے کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کے حق میں نعرے بلند کئے تو انہیں یونیورسٹی انتظامیہ کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔ 67 طلبا کو یونیورسٹی سے معطل کر کے انہیں ہوسٹل چھوڑ کر گھر جانے کی ہدایت کی گئی۔ ڈھاکہ میں آج کل بھارت نواز حکومت برسراقتدار ہے۔ وہاں کرکٹ کنٹرول بورڈ نے سٹیڈیم میں پاکستان کے جھنڈے لہرانے پر پابندی لگا دی اور ہدایت کی کہ ایسے کسی شخص کو میچ دیکھنے کی اجازت نہ دی جائے جس کے پاس پاکستان کا جھنڈا ہو۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش کے شہر میں کرکٹ میچ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہاں ایک بڑاکرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا گیا ہے جہاں بدھ دلائی لامہ اکثرکرکٹ میچ دیکھنے آتے ہیں۔ دھرم شالہ شہر سے چندکلومیٹر کے فاصلے پر میکلوڈ کا شہر ہے جہاں دلائی لامہ نے تبت کی جلاوطن حکومت قائم کر رکھی ہے۔ اس پر چین کو سخت اعتراض ہے۔ دلائی لامہ نے پاکستان کے دورے کی درخواست بھی کی تھی مگر اسے پاکستانی حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔ اگرچہ بھارتی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے دھرم شالہ میں کرکٹ میچ کرانے کا فیصلہ اس لئے کیا تھا کہ وہ اس شہر کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔ اس شہر میں پاکستانی ٹیم نے کرکٹ کھیلنا تھا مگر بھارتی حکومت نے میچ کو کلکتہ منتقل کر دیا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ یہ شہر پٹھان کوٹ کے قریب ہے اور وہاں ہونے والے سنگین واقعے کے کچھ مقتولین کے خاندانوں کے لوگ اس علاقے میں بھی آباد ہیں جو کھیل کے انعقاد میں مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ بھارتی حکومت نے دلائی لامہ کے علاوہ ہماچل پردیش کے ان شہروں کا ذکر بھی نہیں کیا جو دھرم شالا سے زیادہ فاصلے پر ہیں اور انہیں منی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ان شہروں میں بڑی تعداد میں اسرائیلی آباد ہیں۔گزشتہ دنوں بھارت میں اس وقت خاصا ہنگامہ ہوا تھا جب ایک اسرائیلی ہوٹل میں ایک بھارتی شہری خاتون کو داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ کیونکہ ہوٹل کے مالک کا اصرار تھاکہ یہ ہوٹل صرف اسرائیلیوں کے لئے ہے۔بھارتی حکومت نے کرکٹ کے ذریعے پوری پوری سیاست کی ہے۔ کلکتہ میں میچ ہو رہے ہیں مگر وہاں بھی انتہاپسند ہندو جس انداز سے دھمکیاں دے رہے ہیں اس سے دوبارہ 1940ء کے عشرے کی یاد تازہ کر رہے ہیں جب پورا برصغیر دوقومی نظریے کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ کرکٹ جیسا کھیل سیاست سے پاک ہو جائے اور اسے تعلقات میں بہتری کے لئے استعمال کیا جائے۔ امید ہے کہ وہ وقت جلد آئے گا جب برصغیر کے سیاستدانوں اور عوام کو اس حقیقت کا ادراک ہو جائے گا کہ کرکٹ ایک کھیل ہے اور اسے کھیل ہی رہنے دینا چاہیے۔اگر ایسا ہو گیا تو یہ حقیقی امن کے قیام کی طرف پہلی بڑی پیشرفت ہو گی۔

مزید : کالم


loading...