بدلی ہوئی فوج اور بدلے ہوئے وزیر اعظم!

بدلی ہوئی فوج اور بدلے ہوئے وزیر اعظم!
 بدلی ہوئی فوج اور بدلے ہوئے وزیر اعظم!

  


جنرل پرویز مشرف چلے گئے۔۔۔ ان کی اس رخصتی پر طرح طرح کے تبصرے کئے جا رہے ہیں اور کئے جاتے رہیں گے۔ من حیث المجموع ان تبصروں کو دو بڑے پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک پہلو کے علمبردار کہتے ہیں کہ ’’خس کم جہاں پاک‘‘ اور دوسرے کے دعویدار یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ نوازشریف کے اس عمل نے مسلم لیگ (ن) کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال اس حق میں نہیں تھے کہ اس طرح جال میں پھنسی ہوئی مچھلی کو دوبارہ پانی میں چھوڑ دیا جائے۔ میڈیا پر یہ تبصرے بھی ہو رہے ہیں کہ وہ بہانہ تو بیماری کا بنا کر گئے تھے، لیکن دبئی پہنچتے ہی کمر کی ساری تکلیف دور ہو گئی اور ان کے پارٹی ورکرز کی تالیف شروع ہو گئی۔۔۔ لیکن یہ پارٹی ورکرز کون ہیں، ان کی عوامی حیثیت، شہرت اور حقیقت کیا ہے، ان کو کون جانتا، پہچانتا ہے اور کون کس طرح کی گھاس ڈالتا ہے اس کا اتہ پتہ کسی کو معلوم نہیں۔۔۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جنرل صاحب جب یہاں پاکستان میں تھے تو تب بھی ان کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔ اب دیارِ غیر میں بیٹھ کر دوسرا الطاف حسین بننا ان کے بس میں نہیں ہوگا۔ الطاف بھائی کا تو اوڑھنا بچھونا ہی سیاست تھا۔ سیاست ہی نے ان کو ابھارا اور سیاست ہی نے ان کو مارا۔ سیاست ہی نے ان کو اٹھایا اور سیاست ہی نے ان کو گرایا۔ سیاست ہی نے ان کو Make کیا اور سیاست ہی نے ان کو Break کیا۔۔۔لیکن جنرل صاحب تو پیشۂ سپاہ گری کو چھوڑ کر کوچہ سیاست میں آئے۔

فوج اور سیاست ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ ایسے دو مختلف رنگ و بو کے پھول ہیں جو ایک ہی شاخ پر نہیں کھلتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی وردی پوش نے جب بھی سیاست کا لبادہ اوڑھا ہے آخر میں برہنگی ہی اس کا مقدر بنی ہے۔۔۔ پاکستان ہو یا یورپ یا جنوبی امریکہ، افریقہ یا کوئی اور براعظم یا اور ملک، فوجی لیڈر، ملک کو کچھ نہیں دے سکتا۔ جہاں فوج ایک منضبط (Disciplined) افراد کا گروہ ہے وہاں سویلین معاشرہ ایک غیر منضبط انبوہ ہے لیکن یہی عوامی رنگا رنگی ایک یک رنگی بھی ہے۔ اسی کثرت میں وحدت ہے، لیکن فوج کی وحدتِ کمانڈ کثرتِ کمانڈ میں ڈھل کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ فوجی کمانڈروں کو جب بھی کسی سویلین معاشرے کی کمانڈ سونپی گئی ہے، ان کی وحدتِ کمانڈ پارہ پاہ ہونے سے نہیں بچی۔ اگر جنرل مشرف کو اتنی سادہ اور آسان سی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ گزرے ہوئے کل اور آج کو دیکھ کر بھی اگر جنرل صاحب اپنی سیاسی شہرت کو آزمانا چاہیں تو انہیں آزمانے کا موقع ضرور دینا چاہئے۔ ان کو یاد ہوگا کہ ہمارے فیلڈ مارشل جو پاکستان میں مارشل لائی کلچر کے بانی مبانی کہے جاتے ہیں، ان کو بھی جب محترمہ فاطمہ جناح سے پالا پڑا تو جو پاپڑ ان کو اپنی ’’فتح‘‘ حاصل کرنے کے لئے بیلنے پڑے ان سے کون واقف نہیں؟

اگر خواجگان (خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق) اور احسن اقبال اپنے قائد سے اس لئے ناراض ہیں کہ انہوں نے اپنے سابق دشمن کو خود اپنے ہاتھ سے پنجرے کا دروازہ کھول کر باہر ’’اڑایا‘‘ ہے تو ان حضرات کو تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں نوازشریف صاحب نے جنرل پرویز مشرف کو ’’اڑا‘‘ کر پاکستان کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ آج اگر ان کی اس ’’فیاضی‘‘ کی مخالفت کی جا رہی ہے تو آنے والے کل میں اس مخالفت کی مخالفت آئینہ ہو کر آپ کے سامنے آ جائے گی۔ 2018ء میں جب اگلے الیکشن ہوں گے تو پہلے تو مجھے کچھ شبہ تھا کہ شائد مسلم لیگ (ن) لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل نہ کر سکے، لیکن اب مجھے یقین ہے کہ اس ’’وکٹری پریڈ‘‘ کو کوئی نہیں روک سکتا! نوازشریف صاحب پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ ان کا ’’مک مکا‘‘ چل رہا ہے، لیکن پرویز مشرف کی اس طرح رہائی نے اس الزام کے آبگینے کو بھی چکنا چور کر دیا ہے۔ اگر وزیر اعظم نے جنرل مشرف کی رہائی کا فیصلہ اکیلے بیٹھ کر کیا ہے تو ان کو مبارک۔۔۔ اور اگر چودھری نثار صاحب سے ڈسکس کرنے کے بعد کیا ہے تو ان کو ایک ہزار مبارک اور اگر اپنے خواجگان سے مشورہ نہ کر کے کیا ہے تو ایک لاکھ مبارک!۔۔۔ میں سیاسیات کے مضمون کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہوں گا لیکن سیاست اور ملٹری قوت میں جو اشتراک اور توازن ہے، اس کی تھوڑی سی سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ میرے وہ دوست جو میرے کالم کے مستقل پڑھنے والے ہیں ان کو معلوم ہوگا کہ میں نوازشریف کی سوچ کا شدید مخالف رہا ہوں۔ کہتا رہا ہوں کہ ان کی فوج مخالف سوچ ان کو بہت نقصان پہنچاتی رہی۔

جنرل جہانگیر کرامت، ایڈمرل منصور الحق اور جنرل پرویز مشرف سے ان کا جو سلوک رہا وہ آخر کار ان کو مصائب میں گرفتار کرتا رہا۔ 2013ء کے الیکشن میں ان کی کامیابی اس وجہ سے تھی کہ لوگ جنرل پرویز مشرف کے دورِِ اقتدار اور پھر پی پی پی کے ’’دورِ استبداد‘‘ سے تنگ آ چکے تھے۔ عوامی سوچ غلط نہیں ہوتی۔ تحریک انصاف لاکھ واویلا مچائے کہ گزشتہ الیکشن ’’دھاندلی شدہ‘‘ تھے، لیکن ایسی دھاندلی جس میں اس ’’کثرت‘‘ کا مظاہرہ ہوا وہ دھاندلی نہیں ہوتی، محض الزام ہوتی ہے۔ پاکستان کی ہمہ جہت ترقی کے وہ اشاریئے دیکھیں جو 2013ء سے آج تک نظر آتے ہیں اور 2018ء تک سب کو دیکھنے کو ملیں گے، ان کے پیچھے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی اصابت رائے جھلکتی نظر آئے گی۔ نوازشریف صاحب نے فوج سے ’’متھّا‘‘ لگا کر ماضی میں کوئی زیادہ ’’فیض‘‘ نہیں پایا تھا تو اب کیا پا لیتے۔ خواجگان اور احسن اقبال کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے تابڑ توڑ فوج مخالف بیانات کی شدت کے بعد بھی فوج نے صبر اور برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ میں سمجھتا ہوں پہلے فوج بدلی ہے اور اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت بدلی ہے۔

وزیر اعظم نے دیکھ لیا ہے کہ فوج، ان کے اختیارِِ کُل کو چیلنج نہیں کرتی۔ وہ ایک ایسا اسپ تازی ہے جو اپنے سوار کو چابک لہرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اپنی راہ پر سیدھا دوڑتا چلا جاتا ہے، لیکن اپنے سوار کے اشارۂ ابرو کو خوب سمجھتا ہے، جبکہ چابک والے ہاتھ کو دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا۔ اگر کوئی سوار اپنے اسپ تازی کی اس ’’خصلت‘‘ سے آگاہ نہیں تو تف ہے اس پر۔ یہی گھوڑا جب بدکتا ہے تو سوار کو گرانے میں دیر نہیں لگاتا۔ زیر و زبر کا یہ فرق مولانا روم نے ایک اور انداز سے بھی بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ پانی اگر کشتی کے اندر چلا جائے تو ہلاکتِ کشتی ہے اور اگر اس کے نیچے رہے تو حفاظتِ کشتی ہے:

آب در کشتی، ہلاکِ کشتی است

آب از بیرونِ کشتی، پشتی است

وزیر اعظم نے احساس کر لیا تھا کہ فوج اپنے سابق چیف کو رسوا ہوتے نہیں دیکھ سکتی، لیکن اس فوج نے یہ بھی دکھا دیا کہ وہ اپنے کسی چیف کے حق میں اتنی دور تک نہیں جاتی کہ اس پر کھلم کھلا الزام آنے لگے۔ اس ’’دنگل‘‘ کا حل کیا تھا؟۔۔۔ فوج، سویلین قیادت کی برتری کو تسلیم کرتی ہے لیکن اپنی شہرت پر آنچ بھی نہیں آنے دیتی۔ اس کشمکش کا احساس کرنے میں باقی سارے سیاسی جغادریوں نے ایک ہی راستہ اختیار کیا جبکہ وزیر اعظم نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ اس انتخاب راہ میں اکیلے تھے یا ان کے ساتھ ان کا کوئی دوسرا پارٹی ورکر یا عزیز بھی تھا، اس کی خبر شائد آئندہ چل کر کبھی لگے۔ میں تو یہ بھی سوچتا ہوں کہ اس فیصلے میں مریم نواز صاحبہ کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ باقی تمام سیاستدانوں (مرد اور خواتین) کی افتادِ طبع کا تو سب کو علم ہے، لیکن مریم نواز صاحبہ کے سیاسی آئی کیو (IQ) کا لیکٹو میٹر ابھی تک دودھ میں نہیں ڈالا گیا۔

غالب نے انسان کو بجائے خود ایک محشر خیال کہا تھا۔ اس کی سوچ کو بدلتے دیر نہیں لگتی۔ کسی پاکستانی کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ جس شخص نے وزیر اعظم کو اقتدار سے محروم کیا، انہیں قید میں ڈالا اور انہیں جلا وطن کیا، وہ اس کی ان تمام زیادتیوں کو فراموش کر کے ان کو ’’کلین چٹ‘‘ دے کر باہر جانے کی اجازت دے دیں گے، لیکن ایسا ہوا تو یہ ایک انقلابی روش ہے۔۔۔ لوگ لاکھ کہتے پھریں کہ نیشنل ایکشن پلان کا خوف، نیب کا خوف، فوج کا خوف اور اس طرح کے اور ’’لایعنی خوف‘‘ ایسے تھے جن کو مد نظر رکھ کر فوج کو ’’خوش‘‘ کیا گیا۔ کہا گیا کہ ’’رب خوش تو سارے خوش‘‘ کے اصول پر عمل کیا گیا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کسی خوف و خطر کو ٹالنے کے لئے کیا ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم نے جب دیکھا کہ ان کی فوج وہ پہلے والی فوج نہیں رہی جو 2013ء تک تھی تو انہوں نے سوچا کہ ان کو بھی اب ویسا نہیں رہنا چاہئے جو وہ 2013ء سے پہلے تھے۔

اللہ اللہ خیر سلا!

مزید : کالم


loading...