آٹو انڈسٹریز پالیسی، بہتر فیصلے!

آٹو انڈسٹریز پالیسی، بہتر فیصلے!

حکومت نے ملک میں آٹو موبائل صنعت کو تحفظ اور فروغ دینے کی پالیسی کا اعلان کر دیا۔ یہ پالیسی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں منظور کی گئی جس کی صدارت وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کی، اس میں ملکی صنعت کو تحفظ دینے کے لئے کئی مراعات دی گئی ہیں اور بیرون ملک سے درآمدی آٹو پرزوں کی ڈیوٹی میں بھی دس فیصد کمی کر دی گئی جبکہ صنعتی مشینری اور اہم مینو فیکچرنگ آلات کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ دی گئی ہے۔مجموعی طور پر اس پالیسی سے ٹرانسپورٹ کی صنعت کو بہت سہارا ملے گا اور مفید ثابت ہوگی۔ مقامی صنعت کار رعائت سے مستفید ہوں گے تو قدرتی طور پر اس کا اثر گاڑیوں کی قیمت پر بھی ہوگا جبکہ ابھی تک درآمدی پرزہ جات بھی بہت مہنگے تھے اور عام آدمی اپنی ضرورت کے لئے گاڑی لینے کے بعد مرمت کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکل محسوس کرتا تھا۔اس پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے حکومت کی توجہ اس طرف دلانا ضروری ہے کہ ماضی کا تجربہ بالکل مختلف ہے۔ اس لئے یہ اہتمام اور نگرانی ضروری ہے کہ ان رعائتوں کو لوگوں تک منتقل کیا جائے، درآمدی پرزہ جات بازار میں اسی تناسب سے سستے ہونا چاہئیں جس حساب سے ڈیوٹی میں کمی کی گئی اسی حوالے سے مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی ہونا چاہیے۔ ماضی کا تجربہ تو یہ ہے کہ حکومت جو بھی رعائت دیتی ہے اسے درمیان میں اچک لیا جاتا ہے اور متعلقہ اشیاء سستی کرکے اس کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہونے دیا جاتا جیسے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کسی بھی کمی کا فائدہ نہیں پہنچا۔

مزید : اداریہ


loading...