امریکا تیونس میں اپنی فوج نہیں اتارے گا،وزیراعظم قائد السبسی

امریکا تیونس میں اپنی فوج نہیں اتارے گا،وزیراعظم قائد السبسی

تیونس (این این آئی)تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے کہا ہے کہ امریکا کو لیبیا میں کسی بھی متوقع فوجی کارروائی کے لیے تیونس میں اپنی فوجیں اتارنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی امریکا ایسا کرے گا۔امریکی اخبار کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں صدر السبسی کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں لیبیا میں فوجی کارروائی کے لیے امریکی فوجوں کی تیونس میں اتارے جانے سے متعلق تمام فواہیں بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کا چھٹا بحری بیڑا بحر متوسط میں موجود ہے اور اس پر پانچ ہزار امریکی فوجی بھی موجود ہیں۔ اس لیے امریکا کو لیبیا میں کسی فوجی آپریشن کے لیے مزید فوجیں اتارنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں صدر الباجی قاید السبسی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہا ہے اور کئی سال سے حالت جنگ میں ہے، تاہم تیونس داعش سمیت تمام دہشت گرد گرپوں کے خلاف لڑائی کے لیے یورپی ملکوں سے تعاون جاری رکھے گا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مغرب کی امداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تیونسی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو مغرب کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی مد میں امداد مل رہی ہے مگر وہ ناکافی ہے۔ میں نے اپنے دورہ امریکا میں وہاں ہونے والی عالمی کانفرنس میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مزید امداد کی درخواست کی تھی مگر ہر ملک کے اپنے مسائل ہیں۔صدر الباجی قاید السبسی کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اگرچہ ناکافی امداد مل رہی ہے مگرہم کسی کو امداد میں اضافے پر مجبور نہیں کریں گے۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تیونس کو اس وقت تک خطرات لاحق رہیں گے جب تک ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتیں اور دہشت گردی کی لعنت سے مکمل چھٹکارا حاصل نہیں ہو جاتا۔

مزید : عالمی منظر


loading...