یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے بحران پر معاہدہ نافذ العمل

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے بحران پر معاہدہ نافذ العمل

بر سلز(آن لائن)یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے بحران پر معاہدہ نافذالعمل ہو گیا ہے۔اگر یونان پہنچنے والے پناہ گزین وہاں پناہ کی درخواست دائر نہ کریں، یا ان کی درخواست مسترد ہو جائے تو انھیں واپس ترکی بھیجا جا سکتا ہے۔معاہدے کی حتمی مہلت آنے سے قبل یونان کے جزیروں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہر شامی شہری جسے ترکی واپس بھیجا جائے گا، اس کے عوض ترکی میں پہلے سے موجود ایک شامی کو یورپی یونین میں بسایا جائے گا۔تاہم اب بھی معاہدے کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات قائم ہیں، بشمول اس بات کے کہ پناہ گزینوں کی واپسی کا طریقہ کار کیا ہو گا۔تقریباً 23 سو سکیورٹی اہلکار، مہاجرین کے امور کے حکام اور مترجم یونان پہنچنے والے ہیں تاکہ وہ معاہدے کے نفاذ میں مدد دے سکیں۔توقع ہے کہ اس معاہدے کے بعد لوگ ترکی سے یونان کا خطرناک سفر اختیار نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے میں ترکی کو امداد اور سیاسی مراعات دی جائیں گی۔ فرا نسیسی خبررساں ادارے کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگ بحیرہ ایجیئن عبور کر کے یونان کے جزائر پہنچے۔ یہ تعداد گذشتہ روز کے مقابلے پر دگنی ہے، جب کہ ایک ہفتے قبل صرف چند سو لوگوں ہی نے یہ راستہ اختیار کیا تھا۔دوسری طرف ترکی کے ایک خبررساں ادارے انادولو نے خبر دی ہے کہ پناہ گزینوں کی ایک کشتی الٹنے سے ایک چار ماہ کی بچی ڈوب گئی۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق جنوری 2015 کے بعد سے دس لاکھ کے قریب پناہ گزین کشتیوں کے ذریعے ترکی سے یونان میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف اسی سال 143000 افراد یونان پہنچے ہیں، جب کہ 460 راستے میں ہلاک ہو گئے۔

مزید : عالمی منظر


loading...