پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بارش چھتیں گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے مزید 7افراد جاں بحق

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بارش چھتیں گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے مزید 7افراد ...

ننکانہ صاحب /چارسدہ /چترال/ اسلام آباد /ملتان (نمائندہ خصوصی،آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے ،بالائی علاقوں میں برفباری سے متعدد رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔فیصل آباد اور چارسدہ میں مکانات کی چھتیں گرنے سے 5افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ نواحی گاؤں چک نمبر563گ ب شرقی میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی ، چھت کے ملبے تلے دب کر دو بچوں اور دو خواتین سمیت ایک ہی گھر کے 4افرادجاں بحق ۔ مرنے والوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات نواحی گاؤں چک نمبر563گ ب شرقی کے رہائشی محنت کش غفور کھوکھر کے گھر کے ایک کمرے کی چھت بارش کے باعث اچانک گر گئی کمرے میں سوئے ہوئے غفور کی 23سالہ بہو شبانہ بی بی ،19سالہ بیٹی شکیلہ ، 2سالہ پوتی عائشہ اور چار سالہ پوتی مقدس چھت کے ملبے تلے دب کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں جبکہ گھر کے دوسر ے کمرے میں بچوں کی غفور کی بیوی اور 6 سالہ پوتی سویرا سوئی ہوئی تھیں جو خوش قسمتی سے بچ گئیں جبکہ غفور اور اسکا بیٹا طاہر دونوں لاہور میں روزگار کے سلسلہ میں لاہور گئے ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ گھر کی چھت رات ایک بجے کے قریب گری جس کا کسی کو بھی علم نہ ہو سکا جب صبح ہوئی توغفور کی بیوی نے دیکھا کہ کمرہ کی چھت گری ہوئی ہے تو اس نے رونا اور شور مچانا شروع کر دیا جس پر اہل علاقہ جائے حادثہ پر جمع ہو گئے جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچیوں اور خواتین کو مردہ حالت میں ملبے سے باہرنکالا ۔ غفور کی بیوی نے صحافیوں کو بتایا کہ مجھے رات ایک بجے کے قریب بارش کے دوران زور دار آواز سنائی دی لیکن میں سمجھی کہ شاید یہ کہیں آسمانی بجلی گرنے کی آواز ہے اس لیے میں دوبارہ سو گئی ۔جاں بحق افراد کو قبرستان میں سپر د خاک کر دیا گیا ۔چارسدہ کی تحصیل تنگی میں بارش کی وجہ سے کمرے کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ہے۔ چترال میں برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے 10 طالب علم لاپتہ ہو گئے ہیں جبکہ برف کے تودوں میں دبے 2 طالب علموں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ دیگر آٹھ طالب علموں کی تلاش جاری ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں مارچ کے مہینے میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں اب تک 86 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 101 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 240 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹییز کو نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔دریں اثناء لوئر دیر،اپر دیر،شانگلہ اور ملحقہ علاقوں میں رات سے وقفے وقفے سے بارش جاری ہے جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری ہو رہی ہے۔استور اور قریبی علاقوں میں بارش اور برفباری سے کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں بند ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران مالاکنڈ ، پشاور ، راولپنڈی ، لاہور ڈویژن، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے۔ملتان اور نواحی علاقوں میں شدید بارش اورژالہ باری ہوئی ہے۔ژالہ باری کے باعث سڑکوں اور مکانوں کی چھتوں پر برف کی تہہ چڑھ گئی۔ملتان کے نواحی علاقوں قادر پور راں ، ٹاٹے پور ان کے قریبی علاقوں میں ہونے والی تیز بارش اور شدید ژالہ باری سے گندم کی فصل اور آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ژالہ باری سے مکانات کی چھتوں اور سڑکوں پر برف کی گہری تہہ جم گئی۔ ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش اور ژالہ باری کا یہ سلسلہ مزید چند جاری رہنے کا امکان ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...