کچی آبادی اتھارٹی نے رویہ درست نہ کیا تو سخت ایکشن ہوگا ،کاگف

کچی آبادی اتھارٹی نے رویہ درست نہ کیا تو سخت ایکشن ہوگا ،کاگف

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو کی جانب کچی آبادیوں کے ووٹوں کو غیر قانونی کہنے پر (کاگف) کی جانب سے وزیر موصوف کو دئیے گئے پانچ کڑوڑ روپے ہرجانے کے قانونی نوٹس کاجواب کا انتظار کیا جائے گااور وزیر موصوف نے اگر تحریری یا میڈیا پر آکر معافی نہ مانگی تو پھر کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان 15 اپریل کے بعد ملک بھر میں وزیر موصوف کے خلاف تحریک چلائے گی اور ہتک عزت کا مقدمہ عدالت عالیہ میں دائر کریگی اس بات کا فیصلہ اتوار کے روز (کاگف) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا گیا جسکی صدارت مرکزی چئیر مین سفیر امن صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی نے کی اجلاس میں وائس چئیر مین محمد ریحان سید عابد حسین شاہ ، ریاض علی رضا ، طلعت سومرو ، کرم لاکھو، منظور چانڈیو ، عرفان علی قریشی ، سید واجد حسین ، محمد جنید ، تہذیب الحسن ، فرخ نواز ایڈوکیٹ ، قمر الحسن ، گل محمد ، عرفان گدی ، نیاز راجپوت ، بہادر رند اور دیگر نے شرکت کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لینڈ اور بلڈر مافیا کہ چنگل سے کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے مکینوں کی آزادی کیلئے یکم مئی سے بھر پور تحریک چلائی جائے گی اور (کاگف) کچی آبادیوں اور گوٹھوں کو لینڈ مافیا اور ان کے آلہ کار نوکر شاہی سے نجات دلا کر دم لے گی ۔اس سلسلے میں رابطہ عوام مہم شروع کرنے کے لئے وائس چئیرمیں (کاگف) محمد ریحان کی نگرانی میں آرگنائزنگ کمیٹی قائم کی گئی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 23 مارچ کو منعقد ہونے والا آل پاکستان کچی آبادی اینڈ گوٹھ کنونشن ملک میں سیاسی گرما گرمی کے باعث اب کاگف کے36 ویں یوم تاسیس پر یکم مئی کو منعقد ہوگا جس کے لئے آرگنائزنگ کمیٹی سید واجد حسین کی نگرانی میں قائم کردی گئی ہے ۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی کچی آبادیوں کی فلاح بہبود کے لئے بنائی گئی سندھ کچی آبادی اتھارٹی میں کچی آبادیوں کی نمائندگی کو شامل کیا جائے نیز کچی آبادی اتھارٹی میں گھوسٹ اور بد عنوان اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے نجی زمینوں اور گوٹھوں پر قبضہ کر کے پلاٹس اربوں روپوں میں فروخت کئے گئے مگر کئی عشرے گزرنے کے باوجود الاٹیوں کو پلاٹوں کے قبضے نہیں دئیے گئے جو کہ بد عنوانی کے لئے قائم اداروں اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے لہذا فوری طور پر ایم ڈی اے کے معاملات کی چھان بین اور اربوں روپے ہڑپ کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کیلئے جوڈیشنل کمیٹی قائم کر کے اربوں روپے جمع کرانے والے الاٹیوں کو پلاٹوں کے قبضے دلائیں جائیں ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی چئیر مین صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کے (کاگف) حکومت سندھ کی شکر گزار ہے کہ اس نے (کاگف) کی جدو جہد کے نتیجے میں 30 جون 1997 تک آباد کچی آبادیوں اور گوٹھوں کو مالکانہ حقوق دینے کا کٹ آف ڈیٹ نوٹیفیکیشن جاری کیا ۔ مگر افسوس کہ کٹ آف ڈیٹ قانون کے بعد سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے بدعنوان اور لینڈ مافیا کے آلہ کار اہلکار نئی کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے سروے ، ماسٹر لسٹ بنانے اور مالکانہ حقوق میں روڑے اٹکا رہے ہیں لہذا وہ یاد رکھیں کہ اگر (کاگف) نے ان کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی تو پھر ان کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی انہوں نے کہا کے سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے اہلکاروں نے اگر اپنا قبلہ درست نہ کیا تو پھر ان کے خلاف دما دم مست قلندر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کے (کاگف) نے کٹ آف ڈیٹ قانون بنوا دیا ہے اب اس سے فائدہ اٹھانا کچی آبادیوں اور گوٹھوں کا فرض ہے لہذا ایسی کچی آبادیاں اور گوٹھ جو 30 جون 1997 سے قبل کے قائم ہیں وہ فوری طور پر سروے اور ماسٹر لسٹ کے لئے فوری طور پر اپنی درخواستیں (کاگف) کے اس پتے پی ۔او بکس نمبر7599جی ۔ پی۔ او۔ صدر کراچی پر ارسال کریں یا پھر 03360029070 پر رابطہ قائم کریں ۔جبکہ مورخہ 21 مارچ کوکاگف میر پور خاص دویژن کے آفس میں اجلاس کے حوالے سے مزید کئے گئے فیصلوں کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا جائے گا ۔

مزید : کراچی صفحہ آخر


loading...