جنات کا غلام۔۔۔تیرھویں قسط

21 مارچ 2016 (18:53)

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

بارھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

”اچھا میں چلتا ہوں۔ اب مجھے آرام کرنا ہے“ شاہ صاحب نے غالباً ماحول میں پیدا ہونے والے تناﺅ کو محسوس کر لیا تھا۔ان کے جاتے ہی چاچا جی برس پڑے ”رضیہ تم مجھے برباد کر دو گی“

”اللہ نہ کرے ملک صاحب“ وہ گرم دودھ کا پیالہ ان کے سامنے سرکاتے ہوئے بولیں ”بابا جی سرکار نے کہا ہے کہ زلیخا بہت خوش رہے گی“

”کیسے خوش رہے گی۔ اس کا آگے ہے نہ پیچھے۔ یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے اور تم بیٹی اس کے سپرد کر رہی ہو۔ بڑا ظلم کر رہی ہے تو لیکن میں تمہیں صاف صاف کہہ دیتا ہوں میں یہ ہونے نہیں دوں گا“ ملک صاحب دودھ کا پیالہ پئے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔

”پتر میں کیا کروں اب تو زلیخا بھی کہتی ہے جو بابا جی کہیں گے میں وہی کروں گی۔آج رات جن زادیاں اسکی مہندی لیکر آنے والی ہیں۔وہ بڑی خوش ہے“ وہ مجھ سے مخاطب ہوئیں ”تو ایسا کر ایک بار تو زلیخا سے مل لے اور پھر اپنے چاچا جی کو بتا دے کہ وہ کیا چاہتی ہے“

میں ۔۔۔ اور زلیخا سے ۔۔۔۔۔ مل کر۔۔۔ یہ پوچھوں کہ وہ شاہ صاحب سے شادی کیوں کر رہی ہے۔ نہیں نہیں۔ مجھے یہ جرات ہی نہیں ہو سکتی تھی۔ میں کیسے سوال کر سکتا تھا۔

”چاچی یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن میرا خیال بھی یہی ہے کہ یہ جوڑ مناسب نہیں ہے۔ اگر آپ یہ چاہتی بھی ہیں تو کم از کم ایک بار شاہ صاحب کے بارے پوری چھان بین تو کر لیں۔ آپ لاہور جائیں اور ان کے بہن بھائیوں والدین وغیرہ سے مل لیں۔ ہو سکتا ہے کہ شاہ صاحب پہلے سے شادی شدہ ہوں اور۔۔۔۔۔“

یہ سن کر چاچی کے چہرے پر زردی چھا گئی۔ یہ پچھتاوے کا رنگ تھا۔ ”کہتا تو ٹھیک ہے تو“ وہ ماتھا پکڑ کر بیٹھ گئیں

”ایسا کر“ انہوں نے نصیر کی طرف دیکھا جو خاموشی سے زمین پر کوئلے کی مدد سے لکیریں کھینچ رہاتھا

”تو اور نصیر لاہور جا کر شاہ صاحب کے بارے پتہ کر لو“

”ماں .... اگر شاہ صاحب کو معلوم ہو گیا تو“ نصیر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا

”میں بابا جی سے خود بات کر لوں گی“ چاچی نے پہلی بار جرات سے کام لیا ”ملک صاحب کا وہم بھی دور ہو جائے گا“

ادھر ہم یہ باتیں کر رہے تھے اور ادھر ایک اور ہی طوفان اٹھ رہا تھا۔ ناشتہ کرکے میں اپنے کمرے میں پہنچا اور کتابیں لے کر باغیچے میں چلا گیا۔ حویلی کے پچھواڑے میں کھلے رنگ برنگے پھلدار اور پھولدار پودے جنت جیسی راحتوں سے بھرے ہوئے لگتے تھے۔ مجھے یہاں بیٹھ کر بڑا لطف اور سکون آتا تھا۔ حویلی کی شہتیروں والی بالکونی کا چھجا اس باغیچے کی طرف بڑھا ہوا تھا۔ زلیخا عموماً اس چھجے میں آ جاتی تھی اور باغیچے کو دیکھتی رہتی تھی۔ میں نے غیرارادی طور پر اس جانب دیکھا تو چھجا سنسان پڑا تھا۔ میرے دل پر افسردگی طاری تھی لیکن امتحان کا اضطراب بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ میں پڑھنے میں منہمک تھا کہ یکدم احساس ہوا جیسے میرے چاروں طرف آنکھیں تیر رہی ہوں۔ گہری‘ خاموش‘ بے کس مگر اپنے اندر ہزاروں شکوے لئے ہوئے۔ باغیچے کی فضا میں بھی مانوس سی مہک بڑھنے لگی۔ زلیخا‘ بے ساختہ اک مہک نے مجھے اس کے وجود کا احساس دلایا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ چھجا اب سنسان نہیں تھا۔ زلیخا کھڑی تھیں اور بے خیال نظروں سے باغیچے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی زلفیں بکھری ہوئی تھیں۔ چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی۔ اس کی یہ حالت احساس دلاتی تھی کہ وہ جیسے برسوں سے سوئی ہی نہیں ہے‘ جاگ رہی ہے‘ صدیوں سے۔ لیکن چاچی تو کہتی تھی وہ اس شادی پر بہت خوش ہے ،تو کیا کوئی لڑکی ایسے خوش نظر آتی ہے،جیسی وہ دکھائی دے رہی تھی۔ میں اس کی جانب تکے جا رہا تھا۔ کتاب میرے ہاتھوں سے پھسل کر نیچے جا گری۔ کوئی احساس ایسا تھا جو مجھے بے ساختہ اس طرف کھینچ رہا تھا۔ میں اٹھا اور باغیچے کے رخ پر ہی چھجے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو گیا اور ماحول سے بالکل بیگانہ ہو کر زلیخا کی طرف دیکھنے لگا۔ مگر وہ اپنے اندر کہیں کھوئی ہوئی تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ کوئی باغیچے میں کھڑا ہو کر اس کو دیکھ رہا ہے۔ میں خاصی دیر تک یونہی اس کو تکتا رہا اور سوچتا رہا۔ کیا زلیخا اور میرے بیچ اس چھجے جتنی مسافتیں ہیں۔ وہ بلندی پر اور میں پستی پر کھڑا اس کے وصل کی تمنا کر رہا ہوں۔ کیا ایک طالب مطلوب کی خواہش ناتمام کو پا سکتا ہے۔ میں اسی ادھیڑ پن میں مستغرق تھا کہ ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور زلیخا کی پریشان سیاہ زلفیں لہرانے لگیں۔ ہوا ایک دم تیز ہو گئی تھی ایسی تیز کہ اس میں خنکی بھی تھی۔ موسم یکبارگی اپنے تیور بدل رہا تھا اور ہوا جیسے آندھی میں بدل کر رہ گئی۔ معاً زلیخا کی ایک دردناک چیخ ابھری اور پھر اس کے ساتھ ہی ہوائیں آندھیاں اور خنکی سب کافور ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔

زلیخا کی چیخ پوری حویلی میں سنی گئی تھی۔ میں تیزی سے اندر گیا لیکن میرے اوپر بالکونی میں پہنچنے سے پہلے ہی شاہ صاحب نصیر اور چاچی وہاں موجود تھے

”وار کر گئے کافر“ شاہ صاحب تیزی سے بولے۔ زلیخا پر تشنج کا دورہ پڑا تھا اور وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی

”شاہ صاحب نظر لگ گئی میری بچی کو“ رضیہ چاچی چلانے لگیں۔

”نظر“ میرے دل سے آہ نکلی ”شاید اسے میری نظر لگ گئی ہے۔ میں ہی تو اسے دیکھ رہا تھا“

”اٹھاﺅ اسے .... اور نیچے لے کر آﺅ“ شاہ صاحب کا چہرہ اس وقت پسینے میں شرابور تھا۔ میں حیران تھا کہ انہیں اس قدر پسینہ کیوں آیا ہوا ہے۔

”جلدی کرو“ وہ بڑے اضطراری انداز میں بول رہے تھے اور بے چینی و بے قراری ان کے انگ انگ سے نمایاں ہو رہی تھی ”وار بڑا سخت کیا گیا ہے۔ اس کا توڑ کرنا ہے جلدی کرو“

”شاہ صاحب میرے بابا جی کو بلاﺅ۔ جلدی کرو۔ باباجی کو بلاﺅ۔ ہائے اللہ میری بچی“ چاچی رونے لگی تھیں۔

”بابا جی سرکار نہیں آ سکتے اس وقت“ شاہ صاحب بولے ”مجھے ہی کچھ کرنا ہو گا“ وہ میری طرف دیکھ کر بولے ”تم میرے ساتھ چلو“ نصیر نے زلیخا کو اٹھایا اور نیچے زنان خانے میں لے گیا اور شاہ صاحب مجھے مہمان خانے میں لے گئے۔

”دیکھو۔ اس وقت مجھ سے سوال جواب مت کرنا۔ زلیخا کی زندگی خطرے میں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم نہیں چاہو گے کہ وہ مر جائے۔ حویلی میں مقیم کافر جنات کی پکھی نے اپنی چڑیل کی موت کا بدلہ لینے کے لئے زلیخا پر وار کیا ہے۔ یہ تو شکر ہے کہ مجھے جلد معلوم ہو گیا“

”آپ کو کیسے معلوم ہو گیا۔ آپ تو آرام کررہے تھے“۔ میں سوال کئے بغیر نہ رہ سکا

”ہم کبھی نہیں سوتے“ وہ بے ساختہ بولا ”سنو ہم لوگوں کی دنیا تمہاری دنیا سے بڑی مختلف ہے۔ ہماری یاریاں اور دشمنیاں بڑی مہنگی ہوتی ہیں اور اس کا ہمیں خراج دینا پڑتا ہے۔ یہ نیند بھی ایک خراج ہے۔ ہم بظاہر سو رہے ہوتے ہیں مگر ہماری روح ہماری حفاظت کر رہی ہوتی ہے۔ اس لئے تو ہمارا سارا بدن دکھتا ہے۔ آگ بدن کو جھلساتی رہتی ہے۔ تم کسی عامل پیر کے بدن کو چھو کر دیکھو۔ تمہیں لگے گا جیسے دہکتے ہوئے گوشت کو چھو لیا ہے۔ میں اس وقت آرام کر رہا تھا جب کافر جنات زلیخا پر حملہ کرنے کے لئے آئے تھے لیکن میری مامور روحانی قوتوں نے مجھے آگاہ کر دیا لیکن افسوس اس وقت تک حملہ ہو چکا تھا خیر“ میں بھونچکا ہو کر ریاض شاہ کی باتیں سن رہا تھا جو نہ جانے کس خیال کے تحت میرے سامنے کھل رہا تھا۔

”دیکھو بابا جی آج دستیاب نہیں ہیں۔ اس لئے میں نے کہا تھا کہ پولیس کو میرے بارے نہ بتانا۔ میں نصیر کے کہنے پر اس وقت پردہ کر گیا تھا۔ اتنی قوت ہے مجھ میں کہ میں عام لوگوں کی نظروں سے پردہ کر جاﺅں لیکن روحانی علوم میں بعض معاملات ایسے ہیں جو پردہ میں چلے جانے کے باوجود عامل کو بے بس کر دیتے ہیں۔ میں زلیخا کو ہوش میں لا سکتا ہوں لیکن کچھ تاخیر ہو جائے گی۔ میں دیر نہیں کرنا چاہتا مجھے اس وقت ایک پیالا خون کا چاہئے تم اس کا فی الفور بندوبست کر دو“

”خخ خون .... کک کس کا“ میں بوکھلا گیا اور پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگا

”تمہارا“ وہ ٹھہر ٹھہر کر بولنے لگا تو مجھے یوں لگا جیسے میں ایک انسان کے سامنے نہیں کسی درندے کے سامنے کھڑا ہوں اور وہ مجھ کو میری رضا سے مانگ رہا ہے۔

***

پیر صاحب کی فرمائش کو پورا کرنا میرے لئے اتنا آسان نہیں تھا۔

”اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل ہے“ میں نے اپنے اندر کے لرزتے ہوئے انسان کی مجبوری کو ڈھال بناتے ہوئے کہا ”میرا مقصد ہے اگر اس کا کوئی متبادل ....“

”ہو تو سکتا ہے .... مگر اس میں وقت لگ جائے گا تاخیر کا مطلب ہے زلیخا کی موت“ پیر ریاض شاہ کی گہری اور ساحروں جیسی آنکھیں میری آنکھوں میں جھانک رہی تھیں“ میں تمہیں یہ بتا ہی دیتا ہوں کہ زلیخا کو کافر جنات کے حملے سے بچانے کے لئے تمہارے خون کا ایک پیالا کیوں چاہئے؟“ پیر ریاض شاہ کچھ کہتا رہا اور میں سنتا رہا ”جو شخص بھی زلیخا کو دل سے چاہے گا اس کا خون ہی اس مقصد کے کام آ سکتا ہے“ اس کا مطلب تھا کہ پیر ریاض شاہ میرے دل کی گہرائیوں میں بسنے والے کی کھوج پا گیا تھا۔ ایک لحظہ کے لئے تو میرے چہرے پر گھبراہٹ نمودار ہو گئی تھی اور میں شرم سے پانی پانی ہو گیا تھا لیکن چند ہی ثانئے بعد میں کہنے لگا ”شاہ صاحب! چاہتے تو اب آپ بھی ہیں۔ شادی آپ سے ہو رہی ہے اس کی پھر آپ خود“ میں شاید جرات کرکے یہ کہہ دیتا لیکن الفاظ حلق میں ہڈی کی طرح پھنس گئے۔ میرے دل نے کہا کہ شاید یہ کام تمہیں کر جانا چاہئے۔ یہ ریاض شاہ تو فقط اپنی ہوس کی خاطر زلیخا سے شادی کر رہا ہے۔ اس کے دل میں زلیخا کے لئے کیسی محبت۔

”ٹھیک ہے .... لیکن خون کیسے لیں گے“ میں نے رضامندی ظاہر کی ”سرنج تو یہاں نہیں ہو گی“

”فکر نہ کرو اس کا بندوبست ہے میرے پاس“ اس کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ کھلنے لگی۔ اس نے مہمان خانے ہی میں رکھے ہوئے اپنے بیگ کو کھولا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ بیگ اس کے کپڑوں سے بھرا ہو گا مگر یہ کیا۔ اس نے تہ کئے ہوئے کلف شدہ کپڑے نکال کر ایک طرف رکھ دئیے۔ ان کے نیچے کافی سارا ایسا سامان تھا جسے خرافات کے علاوہ کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔ نہ جانے کس کس جانور یا پرندے کی ہڈیاں ایک لفافے میں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک کپڑے کی بھدی سی گڑیا تھی۔ ایک نوکدار چھری تھی اور کچھ ایسی ہی جڑی بوٹیاں بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں۔

”یہ کیا ہے“ میں نہ رہ سکا تو سوال کر ہی دیا۔

پیر ریاض شاہ نے مڑ کر ترچھی نظروں سے میری جانب دیکھا۔ پہلے خاموش رہا پھر کچھ سوچ کر جواب دیا ”یہ عملیات کا سامان ہے“

”عملیات کا سامان“ معاً میرے ذہن میں بجلی کوندی ”اوہ پیر ریاض شاہ تو اصل کھیل یہ ہے“ میں نے سوچا چند سال پہلے سیالکوٹ میں پولیس نے ایک کالا علم کرنے والے عامل کو پکڑا تھا میں نے ایک فیچر تحریر کیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ جب وہ کسی پر جادو ٹونہ کرتے ہیں اور اس کے لئے ہوائی مخلوق سے بھی خدمات لیتے ہیں تو ان پکڑنے اور کام پر مجبور کرنے کے لئے عملیات کا سامان استعمال کرتے ہیں۔ اس نے مجھے الو کے خون سے لکھے تعویذ‘ اونٹ کے کولہے کی ہڈی‘ کافور‘ سندور‘ اگر کا برادہ۔ مردوں کی راکھ‘ نہ جانے کیا کیا اس نے بتایا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ سامان عموماً سندھ سے منگوایا جاتا ہے اور اس کام کے لئے مخصوص لوگ ہی اس کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں۔

پیر ریاض شاہ کے اس سامان نے کئی سوال پیدا کر دئیے۔ اگر میں اس عامل کی باتوں کا تجزیہ کرتا تو پیر ریاض شاہ اور اس میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ چاچا جی (بڑے ملک صاحب) کا شک درست تھا کہ یہ پیر صاحب کا دراصل کوئی اور ہی چکر ہے۔ اگر واقعی ان میں حقیقی روحانیت بدرجہ اتم موجود ہوتی تو انہیں اپنی قوتوں کے اظہار کے لئے ایسے حیلے بہانوں کی ضرورت نہ ہوتی۔ ان کی زبان سے ادا ہونے والا کلمہ ہی کسی بھی بگڑے کام کی اصلاح کر سکتا تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہی تھا کہ پیر ریاض شاہ عاملوں کی بگڑی ہوئی شکل تھا۔

میں جب یہ سوچ رہا تھا اس دوران پیر ریاض شاہ نے سامان میں سے ایک بلیڈ اور کانسی کا چھوٹا سا پیالا نکالا۔ پیالا کسی پرانے دور کی ایجاد نظر آتا تھا۔ اس کے کناروں پر چھوٹی چھوٹی مورتیاں بنی تھیں۔ اس میں آدھ پاﺅ مائع شے آتی ہو گی۔ اس کی شکل مجھے تو دئیے کی طرح لگی تھی۔ میں زندگی میں بہت سارے لوگوں کو خون کی بوتلیں دے چکا تھا۔ مجھے یاد ہے جب میں ابھی مرے کالج سیالکوٹ میں ایف ایس سی کر رہا تھا تو والدہ محترمہ کے بیمار ہونے پر پہلی بار میں نے انہیں خون کی بوتل دی تھی۔ اس کے بعد تو عادت سی بن گئی سال میں دو تین بار کسی نہ کسی کو خون دے ہی دیتا تھا اور کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن آج .... پیر ریاض شاہ جن حالات اور طریقہ کار کے ذریعے میرا خون لے رہا تھا یہ کسی بھی ہوش مند اور دلیر آدمی کو بھی چونکا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ میرے لئے اب فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

ریاض شاہ نے دائیں کلائی پکڑی اور پیالا اس کے نیچے رکھ کر ک لائی پر کوئی خاص قسم کا سفوف ملنے لگا۔ مجھے کلائی پر ٹھنڈک سی محسوس ہونے لگی او پھر کچھ ہی لمحے بعد جب اس نے اس جگہ پر بلیڈ سے چیرا دیا تو گوشت دو حصوں میں بٹ گیا اور خون پیالے میں گرنے لگا۔ پیالا بھر گیا تو اس نے دوبارہ وہی سفوف میرے زخم پر لگا دیا مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ وہ زخم ایک روز میں یوں مندمل بلکہ غائب ہو گیا تھا جیسے یہاں سے کاٹا ہی نہ گیا ہو۔ بعد میں میرے دل میں کئی مرتبہ یہ خیال آیا کہ ان سے اس دوائی کے بارے میں پوچھ لوں اور اس پر مضمون لکھ دوں زخموں کو حیرت انگیز طور پر مندمل کرنے اور جوڑنے والی دوا سے استفادہ عام کیا جا سکے لیکن اس کا مجھے موقع ہی نہیں ملا تھا۔

پیر ریاض شاہ کے ہاتھ اور لب خون کو دیکھتے ہی تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔ اس نے تھیلے میں سے روئی نکالی اور اس کی بتی بنا کر پیالے میں یوں رکھ دی جیسے یہ واقعی کسی دئیے کی لو ہو۔ وہ زیر لب کچھ پڑھنے لگا پھر اس نے بیگ سے کچھ چیزیں نکالیں اور وہ بھدی سی گڑیا بھی میرے سپرد کر دی خون سے بھرا ہوا ........ اس نے خود اٹھایا تھا اور پھر ہم تیزی سے زنان خانے کی طرف ہو لئے۔

زلیخا ماہی بےآب کی طرح تڑپ رہی تھی۔ اس کے گلے سے کسی ذبح ہوتے ہوئے بیل کی طرح آوازیں آ رہی تھیں۔ چاچی اس کی ہر آواز پر تڑپ تڑپ جاتی تھیں۔ اس وقت اگر ملک صاحب یہاں ہوتے تو اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر نہ جانے کیا کر جاتے نصیر کا رنگ بھی زرد تھا۔

”نہیں چھوڑیں گے۔ مار دیں گے اسے۔ تم نے ہماری عورت کو قتل کیا ہے ہم اسے مار دیں گے“

زلیخا کے منہ سے اب کسی کی بھاری بھرکم آواز نکل رہی تھی۔ ”تم جتنے مرضی منتر پڑھ لو مگر یہ نہیں چھوٹے گی“

”شاہ صاحب خدا کے واسطے میری بچی کو بچا لیں“ چاچی اس کی آواز سننے کے بعد شاہ صاحب کے قدموں میں گر گئیں۔

”انشاءاللہ .... میرے مولا نے چاہا تو زلیخا کو کچھ نہیں ہو گا۔ یہ حرام زادہ بکواس کر رہا ہے۔ میں اس کو بھی مار ڈالوں گا اور دیکھتا ہوں کون مجھے روکتا ہے“ شاہ صاحب جب یہ کہہ رہے تھے تو ان کی آنکھیں سرخ اور متورم ہو گئی تھیں۔ انہوں نے جلدی سے کچھ پڑھتے ہوئے زلیخا کے گرد ایک دائرہ (حصار) لگا دیا اور باقی لوگوں کو دائرے سے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ دائرہ قائم ہوتے ہی زلیخا کا بدن زمین سے اچھلنے لگا اور وہ شے جو اس کے اندر سے بول رہی تھی اسے پٹخنے لگی چاچی کی تو چیخیں ہی نکل گئیں۔

”باز آ جا .... باز آ جا“ شاہ صاحب گرجے ”تری دم میں نمدہ بھر دوں گا تو تب آرام سے بیٹھے گا چھوڑ دے اس بچی کو“

”بھگوان کی سوگند نہیں چھوڑوں گا“ وہ ڈکراتے ہوئے بولا تھا

”اچھا تو .... ہندو ہے تو“ شاہ صاحب نے سوال کیا۔ اس دوران وہ کچھ پڑھتے جا رے تھے اور اس کے بولنے سے قبل ہی انہوں نے سات بار زلیخا کی طرف پھونک ماری۔ میں نے محسوس کیا کہ پھونک کے ردعمل میں زلیخا کے بدن پر طاری لرزہ ختم ہو گیا تھا۔ شاہ صاحب نے دائرہ سے ایک فٹ کے فاصلہ پر خون سے بھرا دیا رکھا اور اس کی لو کو آگ دکھا دی۔ پھر اس میں انگلی ڈبوئی اور مجھ سے گڑیا لے کر اس کے سر پر خون سے مانگ بھر دی۔

”کھی کھی“ اب کی بار کوئی کھسیانے انداز میں ہنسا تھا اور آواز زلیخا کے اندر سے ہی اٹھی تھی ”میں سب جانتا ہوں مہاراج۔ بے وقوف بنا رہے ہو انہیں اگر انہیں معلوم ہو گیا کہ تم کیا ہو تو .... کیا بنے گا تمہارا“

”بکواس بند کرو“ شاہ صاحب بولے ”تو مکار‘ دغاباز‘ شیطان ہے تو مجھے گمراہ نہیں کر سکتا یہ تیری باتوں سے بدگمان نہیں ہو سکتے“

”کھی کھی کھی“ زلیخا پر قابض ماورائی شے ہنستی رہی۔ اس لمحہ شاہ صاحب نے کچھ پڑھائی شروع کر دی اور بار بار دئیے میں انگلی ڈبو کر گڑیا کے بدن پر نکتے لگاتے رہے اور پھر ایک حیرت انگیز اور دہشت ناک منظر ہمارے سامنے رونما ہو گیا

پیر ریاض شاہ نے ایک ہاتھ میں نوک دار چھری پکڑی اور دوسرے میں خون والا روشن دیہ۔ زلیخا کے اندر مچلنے والا اب خاموش تھا اور اس کی آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں۔ پیر ریاض شاہ نے زلیخا کی کلائی پکڑی اور اس پر زخم لگا کر خون لگانے لگے اور وہ خون بھی انہوں نے دئیے میں شامل کر دیا۔ انہوں نے جیسے ہی چھری سے زلیخا کی کلائی کو چیرا تھا تو اس کے اندر چھپے طاغوت نے بڑی دلدوز چیخ ماری تھی اور وہ اس زور سے لرزنے لگا تھا جیسے اس پر نزع طاری ہو۔ یہ سب ایک آدھ منٹ میں ہی ہو گیا۔ شاہ صاحب خون کی مخصوص تعداد حاصل کر چکے تو انہوں نے زلیخا کی کلائی پر بھی وہی سفوف مل دیا جو میری کلائی پر لگایا تھا۔ اس کا خون بہنا بند ہو گیا۔ وہ دائرے سے باہر نکل آئے اور پھر کچھ پڑھتے ہوئے دائرے کے گرد چکر لگانے لگے۔ معاً کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے زور زور سے بجنے لگے جیسے باہر تیز طوفان آ گیا ہو اور وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو اپنے ساتھ بہا لے جانا چاہتا ہو۔ پوری حویلی جیسے زلزلوں کی زد میں آ گئی تھی۔ چاچی تو اس دہشت ناک منظر سے بے ہوش ہو گئی تھی۔ دیوار گیر الماریوں میں رکھے برتن نیچے گر گئے تھے اور پورا کمرہ یوں ہچکولے لینے لگا تھا جیسے کوئی کشتی پانی کے بھنور میں پھنس جانے کے بعد ہچکولے کھانے لگتی ہے۔

یہ دیکھ کر شاہ صاحب نے دائرے کے گرد چکر تیز کر دئیے۔ ساتواں چکر لگاتے ہی انہوں نے دئیے کو پھونک مار کر بجھا دیا اور پھر سارا خون گڑیا کے اوپر گرا کر گڑیا کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔ گڑیا خون میں تروتازہ ہو گئی تھی اور اس کی ہیئت ہی بدل گئی تھی۔ لیکن چند ثانئے بعد یوں لگا جیسے گڑیا کا سارا خون کسی نے چوس لیا۔ یہ منظر ناقابل فہم تھا ادھر خون میں تربتر گڑیا کا خون خشک ہو رہا تھا اور ادھر زلیخا کے مردہ زرد چہرے کے گلابی خدوخال دوبارہ سے تروتازہ ہو رہے تھے۔

پیر ریاض شاہ احساس تفاخر سے میری طرف دیکھ رہا تھا اور میں سمجھ رہا تھا کہ وہ ستائش کا منتظر ہے۔ یہ عقل سے ماورا پراسرار دنیا کے باسیوں اور ایک انسان کے علم میں مجادلہ کے بعد جو نتیجہ نکل کر سامنے آ رہا تھا اسے بار بار جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔ اس نے چاہے جو بھی طریقہ اختیار کیا تھا مگر اس کا مثبت نتیجہ یہ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا کہ یہ شخص واقعی مخفی علوم کی قوت رکھتا ہے۔

گڑیا کا رنگ بالکل سفید ہو گیا تھا اور ادھر زلیخا بالکل ہشاش بشاش۔ بالکل ویسی جیسے میں اسے باغیچے میں کھڑے ہو کر کبھی کبھار دیکھتا تھا۔ اس کی نسوانی تمکنت اور معصومیت دیکھ کر میرا دل کف افسوس ملنے لگا کہ اے زلیخا .... تیری قسمت پھر بھی پھوٹ گئی۔ تو پیر ریاض شاہ جیسے فتنہ علم کی بیوی ہونے جا رہی تھی۔

اس دوران زلزلے اور طوفان کی شدت ختم ہو گئی تھی البتہ کھڑکیاں سرسراتی ہوا سے ابھی تک بج رہی تھیں۔ لیکن پھر۔ دس منٹ کے اندر ہی اندر زنان خانے میں سکون لوٹ آیا تھا۔ زلیخا اٹھ پڑی تھی اور بڑی حیرت سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ چاچی بھی ہوش میں آ چکی تھی اور شاہ صاحب نے انہیں منع کر دیا تھا کہ وہ زلیخا کو اس کی بے ہوشی وغیرہ کے بارے میں کچھ نہ بتائیں۔ شاہ صاحب نے چاچی سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگلے چالیس گھنٹے بڑے نازک ہیں لہٰذا زلیخا سے کہہ دیا جائے کہ وہ باغیچے کی طرف نہ جائے۔ اسے نظر لگ جائے گی اور پھر کوئی وار کر دے گا۔

اس شام تک میں شاہ صاحب کے پاس ہی بیٹھا رہا۔ میں ان سے پہلے بھی مرعوب تھا لیکن زلیخا کو جس صورتحال سے انہوں نے نکالا تھا ہزاروں وساوس کے باوجود میں ان کی علمی طاقتوں کا معترف ہو گیا تھا۔ میں پہلے اندر سے بدظن ہو رہا تھا مگر اب بدظنی کو دور کر رہا تھا۔ ملک صاحب کا بھی خیال آ رہا تھا کہ وہ کیا سوچیں گے کہ میں بھی گیا۔ دوسروں کی طرح پیر ریاض شاہ کے تلوے چاٹنے لگوں گا۔ مگر جب کوئی ایسی طاقت جس کے بارے میں آپ نے تمام عمر سن رکھا ہو جب اپنے ساتھ ظہور پذیر ہوتے دیکھتے ہیں تو آپ کے خیالات کا بدل جانا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ شاہ صاحب کی عزت میں یکایک نہیں کر رہا تھا بلکہ میں ایسے متعدد حیرت العقول واقعات کا مجھے بھی حصہ بننا پڑا تو میں ان کی مخفی صلاحیتوں کا معترف ہوتا چلا گیا۔ اس روز شاہ صاحب نے مجھے اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں بہت کچھ بتایا حتیٰ کہ یہ بھی بتا دیا کہ بابا جی سرکار ان کے پاس کیسے آئے۔ اس وقت چونکہ وہ فارغ تھے۔ بابا جی کا اس روز ناغہ تھا اس لئے فراغت میں ہم دونوں باتیں کرتے رہے اور زوال کا وقت ہو گیا تو معاً شاہ صاحب چونکے اور کہنے لگے۔

”یار .... میں تو بھول ہی گیا تھا۔ ابھی ایک کام رہتا ہے“ یہ کہہ کر انہوں نے وہی گڑیا نکالی۔ اب اس کا رنگ نیلا پڑ چکا تھا۔

”تم نے دیکھا اس گڑیا نے کتنے رنگ بدلے ہیں“ وہ کہنے لگے ”یہ زہر ہے جو تجھے نظر آ رہا ہے۔ بعض جنات جب کسی پر قابض ہوتے ہیں تو جاتے جاتے اپنا زہریلا مواد انسان کی رگوں میں اتار جاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ پیر صاحب نے جن تو ان کے سامنے نکالا اور مارا تھا مگر بندہ پھر بھی صحت یاب نہیں ہو رہا اسی لئے اس بندے کو تعویذات‘ دم شدہ پانی اور بعض اوقات کچھ ادویات بھی کھلائی جاتی ہیں۔ لیکن زلیخا کو کوئی دوائی نہیں کھلاﺅں گا۔ میں نے جو عمل کیا ہے اسے کوئی انسان نہیں کر سکتا اس لئے کہ مجھے یہ عمل بابا جی سرکار نے سکھایا ہے۔ اگر مجھے اس عمل پر دسترس نہ ہوتی تو یقین کرو یہ قابض جنات میرا بھرتہ بنا دیتے اور حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے۔ خیر“ وہ کہنے لگے ”مغرب ہوتے ہی یہ گڑیا قبرستان میں دفن کرنی ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں بڑا گوشت ایک کلو چاہئے۔ اس کا بندوبست میں نے کر لیا تھا“ یہ کہہ کر انہوں نے دروازے کے پاس رکھا ایک گوشت کا تھیلا اٹھایا اور مجھے پکڑا کر کہنے لگے ”یہ سارا کام تمہیں کرنا ہے“

”مم .... مجھے کرنا ہے میں اور قبرستان جاﺅں گا اور پھر .... یہ گڑیا وہاں دفن کروں گا“ میں گھبرا گیا

”گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نصیر کو نہیں بھیجنا چاہتا میں سمجھتا ہوں کہ اس کام کے لئے تم سے معقول بندہ کوئی نہیں“ انہوں نے مجھے سارا کام سمجھایا اور میرا ان کے لئے اور زلیخا کے لئے حکم بجا لانا بہت ضروری تھا۔

چودھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں