’مسجد کے مینار نہیں ہوں گے، خواتین کو حجاب کی اجازت نہ ہوگی‘ نئے قانون کی تیاریاں ہونے لگیں

’مسجد کے مینار نہیں ہوں گے، خواتین کو حجاب کی اجازت نہ ہوگی‘ نئے قانون کی ...
’مسجد کے مینار نہیں ہوں گے، خواتین کو حجاب کی اجازت نہ ہوگی‘ نئے قانون کی تیاریاں ہونے لگیں

  


برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پہلے ہی کم نہ تھی مگر اب جرمنی کے علاقائی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتنے والی پارٹی اے ایف ڈی(Alternative for Germany) نے انتہائی شرمناک اقدام کااعلان کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق پارٹی نے انتخابات جیتنے کے بعد اعلان کر دیا ہے کہ وہ اسلامی شعائر کو محدود کرنے کے لیے نئی جامع پالیسیاں بنائے گی جن کے تحت مساجد کے میناروں، خواتین کے عوامی مقامات پر نقاب پہننے اور مسلمان مردوں کے ختنے کروانے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اے ایف ڈی نے گزشتہ ہفتے جرمنی کی تین ریاستوں میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی کنزرویٹو پارٹی کو واضح اکثریت سے شکست دی تھی۔

مزید جانئے: ہٹلر کی حکومت کی جانب سے چھپایا جانے والا ’مافوق الفطرت‘ خزانہ مل گیا، یورپ شدید پریشان ہوگیا

رپورٹ کے مطابق اے ایف ڈی کی سرکردہ رہنماءبیٹرکس وون سٹارک(Beatrix Von Storch) کا کہنا ہے کہ ”ہماری پارٹی کی مقبولیت میں ہونے والا یہ اچانک اضافہ آئندہ سال ہونے والے وفاقی انتخابات میں بھی ہمارے کام آئے گا۔ ہم مقامی حکومتیں بنا کر ایسے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے جن سے براہ راست جرمن عوام متاثر ہوتے ہیں۔ ان مسائل میں پناہ گزین، داخلی سکیورٹی اور ”اسلام“ شامل ہیں۔ جرمنی کی تمام پارٹیوں میں صرف ہماری ہی ایک جماعت ہے جو ان چیزوں کو روکنا چاہتی ہے۔ ہم جرمنی میں پناہ گزینوں کی آمد کو روکنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہم اپنے ملک کے بارڈر کو سیل کر دیں گے اور پناہ گزینوں کے لیے ملک کے قوانین مزید سخت کر دیں گے۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...