کویت نے حزب اللہ سے تعلق پر 11 لبنانی اور تین عراقی شہریوں کو بے دخل کر دیا

کویت نے حزب اللہ سے تعلق پر 11 لبنانی اور تین عراقی شہریوں کو بے دخل کر دیا
کویت نے حزب اللہ سے تعلق پر 11 لبنانی اور تین عراقی شہریوں کو بے دخل کر دیا

  


کویت سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک)کویت نے حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں گیارہ لبنانی اور تین عراقی شہریوں کو بے دخل کردیا ۔کویتی اخبار کے مطابق سکیورٹی حکام نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ ان چودہ افراد کو اسٹیٹ سکیورٹی سروس کی درخواست پر بے دخل کیا گیا  جبکہ وزارت داخلہ نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔

اخبار کے مطابق کویت کے اسٹیٹ سکیورٹی ادارے نے غیر مطلوب لبنانیوں اور عراقیوں کی ایک فہرست تیار کی ہے۔ان میں بعض بڑی کمپنیوں کے مشیر بھی شامل ہیں اور انھیں ''عوامی مفاد'' میں ریاست سے بے دخل کردیا جائے گا۔کویت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا رکن ملک ہے۔اس تنظیم نے 2 مارچ کو حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ جی سی سی نے پہلے ہی 2013ء سے حزب اللہ پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔اس سے پہلے سعودی عرب نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے کر اس کا نام بلیک لسٹ کردیا تھا۔اس کو شام میں جاری لڑائی میں کردار ،عرب ممالک میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور سعودی عرب سمیت خلیج تعاون کونسل (کے رکن ممالک کے خلاف مذموم میڈیا مہم برپا کرنے کی بنا پر دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔جی سی سی کے دو اور رکن ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں متعدد لبنانیوں کو حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں بے دخل کر دیا ہے۔حزب اللہ نے جی سی سی کے فیصلے کو معاندانہ قرار دیا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ سعودی عرب کے ایماء پر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مالیاتی تحقیقاتی یونٹ نے گذشتہ ہفتے حزب اللہ کے ساتھ تعلق یا اس کی حمایت یا مالی معاونت کرنے والے کسی بھی شہری یا تارکِ وطن کے بنک اکاؤنٹ اور اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔باخبر ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات کی تکمیل تک ان کے تین ماہ یا زیادہ عرصے کے لیے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔اس اقدام کے تحت ان کے بنک کھاتے منجمد ہوں گے اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کر لی جائیں گی۔

مزید : عرب دنیا


loading...