اورنج ٹرین منصوبہ کیس ،اب کیا کریں ،فل بنچ کی تحلیل کے بعد سرکاری دماغ سر جوڑ کربیٹھ گئے

اورنج ٹرین منصوبہ کیس ،اب کیا کریں ،فل بنچ کی تحلیل کے بعد سرکاری دماغ سر جوڑ ...
اورنج ٹرین منصوبہ کیس ،اب کیا کریں ،فل بنچ کی تحلیل کے بعد سرکاری دماغ سر جوڑ کربیٹھ گئے

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )اورنج لائن ٹرین منصوبے اور کول پاور پراجیکٹس کے خلاف درخواستوں کی مشترکہ سماعت کے لئے قائم لاہور ہائیکورٹ کے 5ججوں پر مشتمل فل بنچ کی تحلیل کے بعد اٹارنی جنرل پاکستان سلمان بٹ نے اٹارنی جنرل آفس لاہورمیں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس میں ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمن، ایل ڈی اے کے وکیل شاہد حامد اور دیگر سرکاری وکیل شریک ہوئے، اجلاس کا مقصد اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف عدالت عالیہ کے حکم امتناعی کے خاتمہ کے لئے لائحہ عمل کی تیاری تھا ۔وفاقی اور صوبائی حکومت کے بڑے قانونی اور آئینی ماہرین نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف حکم امتناعی ختم کروانے کے لئے مختلف پہلوو ¿ں پر طویل مشاورت کی، ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمن اور ایل ڈی اے کے وکیل شاہد حامد نے اٹارنی جنرل کو مختلف پہلوﺅں پر بریفنگ دی، ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے ساتھی سرکاری وکلاءکو کہا کہ فل بنچ کی تحلیل سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اگر نیا لارجر بنچ بنا تو اس کے روبرو حکومتی موقف بھرپور طریقے سے پیش کریں گے ، سلمان بٹ نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ موقف زیادہ مضبوط ہے کہ چونکہ اورنج ٹرین منصوبے پر کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں ،اب عوام پیسے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے منصوبے پر تعمیر شروع کرنے کی اجازت دی جائے، اٹارنی جنرل کو بتایا گیا کہ ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کی وجہ سے حکومت کو یومیہ 5 سے 6 کروڑ روپے یومیہ نقصان ہو رہا ہے۔

مزید : لاہور


loading...