جیل میں علاج ممکن ہوتوبیماری کی بنیاد پر ضمانت نہیں لی جاسکتی ،قانون کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دیں گے ،سپریم کورٹ

جیل میں علاج ممکن ہوتوبیماری کی بنیاد پر ضمانت نہیں لی جاسکتی ،قانون کے غلط ...
جیل میں علاج ممکن ہوتوبیماری کی بنیاد پر ضمانت نہیں لی جاسکتی ،قانون کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دیں گے ،سپریم کورٹ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے منشیات فروشی کے مقدمہ میں ملوث خاتون کی بیماری کی بنیاد پر درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جس بیماری کا علاج جیل ہسپتال میں ممکن ہے ، اس بیماری کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست منظور نہیں کی جائے گی ، قانون نے طبی بنیادوں پر ضمانتیں منظور کرنے کا راستہ فراہم کیا تھا تاہم وکلاء، ملزم اور سرکاری ڈاکٹروں نے اس راستے کا غلط استعمال کرنا شروع کر دیا۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سبراہی میں د و رکنی بنچ نے بہاولنگر کی رہائشی خاتون سمیرا بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، ملزمہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ پنے دو سالہ بچے کے ساتھ جیل میں ہے اور خون میں کمی کی بیماری میں مبتلا ہے ،اس کی درخواست ضمانت منظور کی جائے، فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ماضی میں قانون نے یہ راستہ نکالا تھا کہ بیماری کی بنیاد پر ملزموںکو ضمانت پر رہائی کی گنجائش دی جائے تاہم وکلاء، ملزموں اور سرکاری ڈاکٹروں نے اس قانون کا غلط استعمال شروع کر دیا اور سرکاری ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے جعلی میڈیکل سرٹیفکٹیس پیش ہونے لگے، فاضل جج نے کہا کہ ان غلط کاریوں کی وجہ سے عدالت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اب یہ اصول طے کیا جائے کہ جس بیماری کا علاج جیل ہسپتال میں ممکن ہوگا ، اس بیماری کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست منظور نہ کی جائے، فاضل جج نے مزید ریمارکس دیئے کہ ہم سب کو معاشرے میں موجود غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے ، اگر اعتراف کریں گے تو ہی غلطیاں درست ہوں گی ، سرکاری وکیل نے بتایا کہ تھانہ بخشن خان میں پہلے بھی خاتون کے خلاف منشیات فروشی کے مقدمات درج ہیں، فاضل بنچ نے ریکارڈ دیکھنے کے بعد ملزمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

مزید : لاہور


loading...