7 ماہ کے دوران غذائی اجناس کی تجارت میں 1.42 ارب ڈالر خسارہ

7 ماہ کے دوران غذائی اجناس کی تجارت میں 1.42 ارب ڈالر خسارہ

  



اسلام آباد (اے پی پی) مالی سال 2013 اور 2014ء کے دوران غذائی اجناس کی تجارت پاکستان کے حق میں تھی اور دو سالوں کے دوران پاکستان نے غذائی مصنوعات کی درآمدات کے مقابلہ میں بالترتیب 570 ملین ڈالر اور 380 ملین ڈالر کی زائد برآمدات کی گئی تھیں۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2011ء کے دوران غذائی مصنوعات کی درآمدات 5.08 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 4.51 ارب ڈالر تھیں اور 570 ملین ڈالر کا تجارتی خسارہ تھا جبکہ مالی سال 2012 کے دوران درآمدات کا حجم 4.99 ارب ڈالر، برآمدات 4.25 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 740 ملین ڈالر رہا تھا۔ اسی طرح مالی سال 2013ء میں درآمدات 4.19 ارب ڈالر اور برآمدات 4.78 ارب ڈالر رہیں جس کے نتیجے میں 570 ملین ڈالر کا تجارتی توازن پاکستان کے حق میں رہا تھا اور مالی سال 2014ء میں بھی 4.24 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلہ میں غذائی اجناس کی برآمدات 4.62 ارب ڈالر رہیں۔ جس کے باعث پاکستان کو تجارتی توازن کے حق میں 380 ملین ڈالر کی بچت ہوئی۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2015 کے دوران دوبارہ غذائی اجناس کی تجارت کا توازن خسارے میں رہا اور دوران سال 5.03 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں 4.56 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئیں جبکہ مالی سال 2016 کے دوران بھی درآمدات 5.39 ارب ڈالر اور برآمدات 4 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں

جس سے ملک کو 1.39 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران غذائی اجناس کی درآمدات 3.44 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 2.02 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں اور اس دوران ملک کو 1.42 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔

مزید : کامرس


loading...