اقتصادی راہداری کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہیں :چیف کلکٹر کسٹمز نارتھ

اقتصادی راہداری کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہیں :چیف کلکٹر کسٹمز نارتھ

  



اسلام آباد(کامرس ڈیسک)چیف کلکٹر کسٹمز نارتھ ثروت طاہر ہ حبیب نے کہا ہے کہ ہم پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ایف بی آر سی پیک کے روٹ پردرجنوں عمارتیں بنا رہا ہے ۔ پاک چین بارڈر پرتجارت کو سہل بنانے کیلئے سہولیات بڑھائی جا رہی ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں جلد ہی کسٹمز ہاؤس کا افتتاح ہو گا۔چیف کلکٹر کسٹمز نارتھ ثروت طاہرہ حبیب نے یہ بات ایف پی سی سی آئی کیپیٹل ہاؤس میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کلکٹر کسٹمز اسلام آباد ڈاکٹر ارسلان سبکتگین، کلکٹرگلگت بلتستان، ایف پی سی سی آئی کے اول نائب صدر عامر عطاء باجوہ، نائب صدر میاں شوکت مسعود، چئیرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل اور راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، سیالکوٹ اور گلگت بلتستان چیمبر آف کامرس کے صدور اور دیگر دینما بھی موجود تھے۔ چیف کلکٹر کسٹمز نارٹھ ثروت طاہر نے کہا کہ ٹیکس کلچر تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ محاصل کے نظام کو سہل بنایا جا رہا ہے جسکی گواہی کاروباری برادری بھی دے گی۔ پاک افغان بارڈر کھلتے ہی کسٹم کا عملہ دن رات کام کرے گاتاکہ کاروباری برادری کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد ائیرپورٹ اور ڈرائی پورٹ پر سامان کی فوری کلیرنس کیلئے ایکسپریس کلیرنس سسٹم روشناس کروایا جا رہا ہے جبکہ جڑوااشہر کے تاجروں کی جانب سے اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر کنٹینر کا وزن کرنے والا کانٹا لگوانے کی پیشکش خوش آئند ہے۔ کلکٹر کسٹمز اسلام آباد ڈاکٹر ارسلان سبکتگین نے کہا کہ ہم جائز تجارت بڑھانے کیلئے ہر ممکن تعاون کریں گے جبکہ ناجائز تجارت نہیں ہونے دینگے۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد کلکٹریٹ نے ریکارڈ ریونیو جمع کیا جبکہ ریکارڈ مقدار میں سمگل شدہ سامان بھی ضبط کیا ہے۔ قبل ازیں عامر عطاء باجوہ اور دیگر تاجر رہنماؤں نے کہا کہ مختلف ڈرائی پورٹس پر یکساں ٹیکس اور ڈیوٹیاں لاگو نہیں کی جا رہی ہیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ڈرائی پورٹس پر سیس بھی لاگو کر دیا گیا ہے جسکی وجہ سے درامد اور برامد کنندگان کراچی کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ کراچی میں رش کی وجہ سے کلیرنس میں تاخیر ہو رہی ہے جس سے کاروباری لاگت بڑھ گئی ہے۔ ملک بھر کی ڈرائی پورٹس پر یکساں سہولیات دی جائیں تاکہ دیگر پورٹس بھی کامیاب ہو سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکس اہداف مقرر کرنے کا کلچر ختم کیا جائے اور تمام معاملات کو دونوں فریق تعاون سے آگے بڑھائیں۔

مزید : کامرس


loading...