اقوام متحدہ کا اسرائیل کونسل پرست قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں: حاجی محمد حنیف طیب

اقوام متحدہ کا اسرائیل کونسل پرست قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں: ...

  



جدہ (محمد اکرم اسد) اقوام متحدہ کا اسرائیل کو نسل پرست قرار دینا عجوبہ سے کم نہیں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے اسے نسل پرست قرار دیا گیا ہے جس کا خیر مقدم کرتے ہیں، کئی سالوں سے کشمیر میں ظلم و ستم ہوتا رہا مگر عالمی اداروں نے ان مسائل سے چشم پوشی کئے رکھی جس کا بہت دکھ ہے۔ اسرائیل کی دھونس فلسطینی علاقوں میں بستیوں کو توسیع دینا اور قبلہ اورل میں مسلمانوں کو نماز نہ پڑھنے دینا کسی طور پر بھی قبول نہیں، اس کا خاتمہ ہونا چاہیے، اس طرح کشمیر پر بھی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے جبکہ وہ ایک لاکھ کے قریب مسلمانوں کو حالیہ تحریک میں کشمیریوں کو شہید کردیا گیا مگر عالمی ادارے اور پریس نے خاموشی اختیار کررکھی ہے جو قابل مذمت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر محنت و اوورسیز پاکستانیز و پٹرولیم قدرتی وسائل و نظام مصطفےٰ پارٹی کے صدر حاجی محمد حنیف طیب نے یہاں پاکستان جرنلسٹس فورم کے ’’میٹ دی پریس‘‘ اور اقبال اڈوانی کی طرف سیا پنے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سورماؤں نے نہتے کشمیریوں کو چھروں کے ذریعے ان کی آنکھوں کو متاثر کیا ہے جس پر نظام مصطفےٰ ٹرسٹ نے اقوام متحدہ اور بھارت سے درخواست کی کہ مصطفےٰ ٹرسٹ برطانیہ کی آنکھوں کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہاں ان کشمیر نوجوانوں کا علاج کیا جاسکے مگر اس پر سب خاموش ہیں اور بھارت بھی اجازت نہیں دے رہا۔ حاجی حنیف طیب نے پاکستان کی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ضرب عضب اور ردالفساد بہت پہلے ہوجانے چاہیے تھے کیونکہ اب تک 50 کے قریب لوگ دہشتگردی کا شکار ہوچکے ہیں جن میں جنرل، میجر جنرل، بریگیڈیئر، کرنل میجر سمیت جوان، علما و مشائخ اور عام لوگ شامل ہیں، مگر سیاسی حکومت نے تاخیر کی جبکہ ضرب عضب اور ردالفساد فوج کے ایما پر ہورہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حکومت قومی ایکشن پلان پر بھی سو فیصد عمل کرنے میں ناکام رہی اور صرف ایک شق پر عمل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان وجوہات پر پاکستان کا امیج بیرون ملک بھی متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم وک ردالفساد میں مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ حاجی محمد حنیف طیب نے کہا کہ تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی بنیادی وجہ آنے والے الیکشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر کام عدالتی احکامات پر ہورہے ہیں چاہے وہ مردم شماری ہو، بلدیاتی انتخابات ہوں یا پھر کچھ اور یہ سب سیاسی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مردم شماری میں شفافیت نظر آنی چاہیے۔ ووٹرلسٹیں بھی دوبارہ بننی چاہئیں، انتخابات میں پاکستان میں بہت دھاندلی ہوتی ہے جبکہ عدالتی پٹیشن پر بھی فیصلہ جلد نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالتؐ کے مجرموں کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف جلد نہ ملنے کی وجہ سے انتہا پسندی پروان چڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں تبدیلی ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ اپوزیشن جماعتیں آپس میں دست و گریبان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز کو مردم شماری میں شمار نہ کرنا سراسر ناانصافی ہے، لگتا ہے اس کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی۔

مزید : عالمی منظر