قومی اسمبلی ، 28ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش

قومی اسمبلی ، 28ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش

  



 اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں 28ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیمی کا بل پیش کردیاگیا جبکہ اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے توسیع کے معاملے کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت فیئر ٹرائل اور قومی سلامتی کمیٹی کے قیام کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کرے گی ۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ دستور 28ویں (ترمیمی) بل 2017ء فی الفور زیر غور لایا جائے ٗاپوزیشن ارکان نے بل کی مخالفت کی تو وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ یہ بل کا اصل مسودہ ہے ٗمشاورتی اجلاس میں جن ترامیم پر اتفاق ہوا تھا ان کو ملا کر بل پڑھا جائے ٗبعد ازاں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ ایوان میں دونوں بلوں پر بحث جاری ہے اس لئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے بل پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ سپیکر کی اجازت سے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ پاکستان آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل 2017ء زیر غور لایا جائے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ دو بل ایک ساتھ پیش کرکے نئی روایت نہ ڈالی جائے۔ وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ ممکن ہے کہ دستور میں ترمیم سے پہلے ہی آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کرلیا جائے اس لئے اس کا پیش کرنا ضروری ہے۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے توسیع کے معاملے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ حکومت فیئر ٹرائل اور قومی سلامتی کمیٹی کے قیام کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کرے گی ۔سید نوید قمر نے کہا کہ جس نے اپنے آپ کو بم سے اڑانا ہے اس کو کون ڈرا سکتا ہے اور اس کو کوئی کیسے عبرت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی دو دہائیوں سے جاری ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کے دائرہ کار میں مذہبی رجحان رکھنے والے یا سیاستدان آجائیں۔ انہوں نے کہاکہ جس شخص کا ٹرائل ان عدالتوں میں ہونا ہے اس کی شفافیت ضروری ہے اور اس کو اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کا حق بھی ہونا چاہیے۔ فوجی عدالتوں کی کارروائی اس انداز میں چلنی چاہیے کہ لوگوں کو اس کی شفافیت پر اعتماد ہو‘ جس شخص کا ٹرائل ہونا ہو اس کو اپنا وکیل رکھنے کا حق حاصل ہو یہی قانونی شہادت کا تقاضا اور اس کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے ماورا کوئی نہیں ہے ہمیں امید ہے حکومت نے قومی سلامتی کمیٹی کے حوالے سے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کیا جائے گا۔ اس پر وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ بل کی منظوری کے بعد قومی سلامتی کمیٹی قائم کرنے کی قرارداد منظور کرائی جائے گی۔ سپیکر نے کہا کہ وہ اس کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ دستور 28ویں ترمیم 2017ء پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے لئے ماضی میں دو سال کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی ٗانہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر دو سال کی توسیع پر اپوزیشن کو آمادہ کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر وعدہ کیا ہے کہ ملک کے عدالتی نظام کے لئے اصلاحات لائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر نے بھی پارلیمانی لیڈروں کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جس کے بعد ہم نے فوجی عدالتوں کی دو سال تک مزید توسیع پر آمادگی کا اظہار کیا ۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی دو سالوں کی کارکردگی پر مشاورتی اجلاس میں بریفنگ کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان اور قومی سلامتی کے امور پر متعلقہ اداروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔فاٹا اصلاحات کے حوالے سے ہم حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پہلے بھی ہم نے مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ جماعت اسلامی اس حوالے سے ترمیم جمع کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فوج ہماری سرحدوں کی محافظ اور قومی سلامتی کی ضامن ہے ٗفوج پر ہمیں زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ اگر حکومت نے ہماری ترامیم کے حوالے سے تعاون کیا تو ہم بل کے حق میں ووٹ دیں گے۔ پٹھانوں یا کے پی کے کے لوگوں کے ساتھ پولیس کے امتیازی برتاؤ سے نفرتیں جنم لیں گی۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی توسیع سے قبل ملک میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال پر بحث ہونی چاہیے تھی۔ طویل عرصہ سے ملک میں غیر معمولی صورتحال درپیش ہے۔ ملک میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ بنیادی طور پر صوبائی مسئلہ ہے۔ صوبائی حکومتوں کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تمام تر ذمہ داری نیشنل ایکشن پلان پر تھونپ دینا درست نہیں ہے۔ فوجی عدالتوں کا قیام غیر معمولی ضرور ہے تاہم یہ آئین سے ماورا اقدام نہیں ہے۔شیخ رشید احمد کا ایوان میں پیش کئے جانیوالے 28 ویں آئینی ترمیم کے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 2015 میں میرے اور فضل الرحمان کے سوا سب نے یہ مسودہ تسلیم کیا اور میں تو اس بات کا اعتراف ہوں کہ میں نے پرویز مشرف کا بھی ساتھ دیاتھا ٗمجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ ملک میں سیلاب آئے تو فوج ، آفت آئے تو فوج ٗاگر ہر مسئلے کا حل فوج ہی ہے تو حکمران اور سیاست دان کس مرض کی دوا ہیں؟انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی سیاست دان نہیں جس نے مارشل لاسے جنم نہ لیا ہوجبکہ بلوچستان میں بڑے بڑے سرداروں، وڈیروں نے سیکڑوں ایکڑزمین لی۔شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سب سے زیادہ لوگ مقابلوں میں مارے جاتے ہیں اور ان مارے جانیوالے لوگوں کی بڑی تعداد پنجاب سے ہے۔میرا حکمرانوں سے مطالبہ ہے کہ کسی بے گناہ کے خلاف کارروائی نہ کی جائے،عدالتی نظام کو دو سال میں درست کیا جائے اورجو خود کو اڑاتے ہیں ان کے دماغ کا معائنہ کیا جائے جبکہ حکومت تو کورم بھی پورا نہیں کر سکتی تھی ا ایوان کو پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے چلایا۔جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے کہا کہ جے یو آئی (ف) جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے‘ حکومت نے ہماری ترامیم کو بل کا حصہ بنایا تو بل پر ووٹنگ کے حوالے سے غور کریں گے۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی دو سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ اہوں نے کہا کہ اس قانون پر 2015ء میں بھی ہمارے تحفظات تھے۔ جب بھی قانون بنایا جاتا ہے تو وہ امتیازی نہیں ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر برائے داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کو پاکستانی شہریت نہیں دے سکتے اور غیر ملکیوں کو جاری ہونے والے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو کلیئر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس ملک کی حالت کیا ہو گی جس میں ہزاروں پاسپورٹ فروخت کئے گئے ہوں ۔ہم نے 30ہزار 4سو پاسپورٹ کو کینسل کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی عبدالقہار خان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ تین لاکھ چوبیس ہزار 597کو بلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور کا میں ذمہ دار ہوں پہلے کیا ہوا اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ 35لاکھ افغانی پاکستان آئے اور انہوں نے شناختی کارڈ بنوا لئے۔ شناختی کارڈز بلاک کرنے کا قانون مجھ سے پہلے کا بنا ہوا ہے۔ اگر کسی کے خلاف کوئی ثبوت مل جاتا ہے تو ا سکا شناختی کارڈ بلاک کر دیا جاتا ہے۔ جس کا شناختی کارڈ غلط بلاک ہوا ہے تو وہ عدالت جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملا منصور سمیت ایک لمبی فہرست ہے جس کو غلط طریقے سے شناختی کارڈ جاری کئے گئے ہیں اور ہم نے جن کو غلط شناختی کارڈ جاری ہوئے ہیں ان کو بلاک کردیا ہے۔ میں سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچی میں سے کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کر رہا سب کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رکن قومی اسمبلی شمس النساء کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈالہ نے کہا کہ 4لاکھ 25ہزار 261اسلحہ لائسنسوں میں سے 2لاکھ 61ہزار 845لائسنسوں کی توثیق کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے اپنے اسلحہ لائسنس 18اکتوبر 2010ء سے کمپیوٹرائز کرنے کا فیصلہ کیا حتمی تاریخ 30نومبر2016ء مئی ہے۔ انہوں نے رکن اسمبلی پرویز مسعود بھٹی کے سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران اسلام آباد چڑیا گھر سے حاصل ہونے ولا یآمدنی 29.218 ملین ہے اور ان سالوں میں 71.362ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں اس وقت اسلام آباد چڑیا گھر میں 94جانور اور860پرندے ہیں ۔ انہوں نے جمشید دستی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں نادرا دفاتر کے کام کے اوقات اسلام آباد میں سنگل شفٹ میں 8.30سے لیکر 4:30تک اور8:00تا22:00بجے تک ڈبل شفت ہے۔ باقی پشاور، کوئٹہ اور سکھر میں سنگل شفٹ نادرا آفس میں کام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے رکن اسمبلی عبدالقہار خان کے سوال کے جواب میں کہا کہ پختونوں کے 2لاکھ 17ہزار شناختی کارڈز بلاک کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر افضل خان ڈانڈالہ نے رکن اسمبلی شازیہ ثوبیہ کے سوال کے جواب میں کہا کہ 2013ء جنوری سے لیکر آج تک پانچ کروڑ سات لاکھ 6ہزار 76شناختی کارڈ جاری کئے گئے جبکہ 42ہزار 484شناختی کارڈز کو بلاک کیا گیا ے۔ انہوں نے کہا کہ جو تنظیمیں نام بدل کر آ جاتی ہیں ان کو فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر عباد نے رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر کوئی شخص 3030 روپے ماہانہ سے کم آمدن کما رہ اہے تو اس کو غریب کے طور پر گردانا جا سکت اہے انہوں نے رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں کہا کہ سی پیک پر چھٹی مشترکہ تعاون کمیٹی جو کہ29دسمبر2016ء کو بیجنگ چین میں منعقد ہوئی جس نے سی پیک کے جزو کے طور پر صوبائی ہیڈ کوارٹروں میں سیل پر مبنی ماس ٹرانزٹ سسٹمز کی شمولیت کے لئے پاکستانی تجویز پر اصول یطور پر اتفاق کیا ہے۔ ان میں کراچی سرکلر ریلوے ، پشاور ریجن ماس ٹرانزٹ سسٹم، کوئٹہ ماس ٹرانزٹ سسٹم شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی کالعدم تنظیموں کے ساتھ نرمی برتنے کی بات نہیں کی، تاہم اگر فرقہ وارانہ جماعتوں کے سربراہان کیخلاف مقدمات ہی نہیں تو کس قانون کے تحت کارروائی کریں؟ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے، یہ قانون میں کمی ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی بات دونوں ایوانوں اور میڈیا میں بھی ہوتی ہے۔ میرا بیان آپ بھی دیکھیں اور ایوان میں بانٹیں۔ حقائق اور دلیل سے بات ہونی چاہیے، میں نے تجربہ کی بنیاد پر بات کی تھی۔ میں نے نرمی کی بات نہیں کی اور نہ ہی کہا کہ یہ کم تر دہشت گرد ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں کسی دہشتگرد تنظیم کا ہیڈ کوارٹرز نہیں اور نہ ہی کسی کالعدم تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی کالعدم تنظیموں کا نام بھی لے تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ ہم نے کئی جماعتوں کے خلاف کارروائی کی اور ان کے رہنماؤں کو جیل بھیجا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ داخلی و خارجی سیکیورٹی اور ردالفساد کے فیصلے وفاقی حکومت نے کئے۔ سندھ سے خیبر پختونخوا تک انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن ہوئے۔ نیکٹا کو ہدایت کی ہے کہ فرقہ پرستوں اور دہشت گردوں پر زمین تنگ کرنے کیلئے نیا قانون لائیں۔

مزید : علاقائی


loading...