ہسپتال میں فرش پرمریضہ کی موت ‘ 5 سینئر پروفیسروں کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی

ہسپتال میں فرش پرمریضہ کی موت ‘ 5 سینئر پروفیسروں کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب نے جناح ہسپتال میں فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہارنے والی قصور کی زاہراء بی بی کی موت کے ذمہ دار پانچ سینئر ترین پرفیسروں پر پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی منظوری دیدی اور کیس کی ریگولر انکوائری کے لئے گریڈ بیس کے علی مرتضی کو انکوئری افسر مقرر کیا ہے اور انہیں پیڈا ایکٹ کے تحت انکوئری مکمل کر کے 60روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔واضح رہے کہ قصور کی زاہراء بی بی کو علاج کے لئے سب سے پہلے لاہور جنرل ہسپتال لایا گیا جہاں سے انہیں ڈاکٹروں نے پنجاب انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ریفر کر دیا مگر پی آئی سی ایمرجنسی کے ڈاکٹروں نے بد نصیب زاہراء کو طبی امداد دئیے بغیر جناح ہسپتال منتقل کر دیا اور خود کو بری الذمہ کر لیا ۔جناح ہسپتال پہنچ کر بھی غریب مریضہ کو علاج معالجہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے فرش پر لٹا کر بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا ۔جہاں پر زاہراء بی بی تڑپ تڑپ کر دم توڑ گئی ۔ڈاکٹروں کی اس مجرمانہ غفلت پر فوری ایکشن لیتے وزیر اعلیٰ پنجاب نے معاملے کی تحقیقات کے لئے وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کے چیئرمین عرفان علی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ۔کمیٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں تین ہسپتالوں کے پانچ سینئر ڈاکٹروں کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی کو سفارش کی کہ مذکورہ ڈاکٹروں کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے جس کی وزیر اعلیٰ نے باقاعدہ منظوری دے دی ۔جن ڈاکٹروں کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے ان میں جناح ہسپتال کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر ظفر اقبال چوہدری اورسابق ایم ایس ڈاکٹر ظفر یوسف ،لاہور جنرل ہسپتال کے پروفیسر جواد ظہیر،پروفیسر تنویر اسلام اور پی آئی سی کے سینئر رجسٹرار ایمر جنسی ڈاکٹر رشید احمد شامل ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...