امریکی انتخابات میں روسی مداخلت تاریخ کی عظیم خفیہ کارروائی ہے،ول ہرڈ

امریکی انتخابات میں روسی مداخلت تاریخ کی عظیم خفیہ کارروائی ہے،ول ہرڈ

  



واشنگٹن ( بیورو رپورٹ) روس نے 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں جو مداخلت کی ہے وہ اس کی تاریخ میں ایک عظیم خفیہ کارروائی کے طور پر جانی جائے گی۔ یہ تبصرہ ٹیکساس سے ری پبلکن پارٹی کے کانگریس مین اور انٹیلی جنس سلیکٹ کمیٹی کے رکن ول ہرڈ نے ’’اے بی سی نیوز‘‘ کو ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ مسٹرہرڈ قبل ازیں سی آئی اے کے ایجنٹ بھی رہ چکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ روس کی خفیہ کارروائی کے اثرات ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت تک محدود نہیں رہے بلکہ وائٹ ہاؤس، انٹیلی جنس کمیونٹی اور امریکی عوام کے درمیان ایسی دراڑ پڑگئی ہے جو پُر ہوتی نظر نہیں آتی۔ کانگریس مین نے صدر ٹرمپ کے اس الزام کو بھی بے بنیاد قرار دیا جس کے مطابق سابق صدر اوبامہ نے ان کے انتخابی دفاتر کے ٹیلیفون خفیہ طور پر ٹیپ کئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس غلط الزام پر صدر ٹرمپ کو نہ صرف بارک اوبامہ سے بلکہ برطانیہ سے بھی معافی مانگنی چاہئے جسے اس کام میں بے جا طور پر ملوث کیا گیا ۔ کانگریس مین ہرڈ کا تعلق حکمران ری پبلکن پارٹی سے ہے لیکن وہ اپنی حکومت کے سربراہ کے موقف سے کھل کر اختلاف کر رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان کی جس انٹیلی جنس کمیٹی کے وہ رکن ہیں اس میں ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی پیش ہورہے ہیں جو پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ ایف بی آئی سکیورٹی کی ذمہ دار ہے جسے ٹرمپ کے الزام کے حق میں کوئی شواہد نہیں ملے۔ کانگریس مین ہرڈ نے انٹیلی جنس کمیٹی کے پیشہ ورانہ کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی آئی اے، ایف بی آئی اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی اپنے فرائض کو سرانجام دیتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھتیں کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے۔

ول ہرڈ

مزید : صفحہ اول