سرحدوں کی بندش عوامی اور معاشی مفادات کی منافی ہے ، وزیر اعظم نے پاک افغان سرحد کھولنے کا حکم دے دیا

سرحدوں کی بندش عوامی اور معاشی مفادات کی منافی ہے ، وزیر اعظم نے پاک افغان ...

  



اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز)وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاکستان افغانستان سرحد فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ وزار اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہاہے کہ باوجود اس کے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے افغان سر زمین پر موجود پاکستان دشمن عناصر سے جا ملتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں کے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رابطے اور تعلق کے پیش نظر، سرحدوں کا زیادہ دیر تک بند رہنا عوامی اور معاشی مفادات کے منافی ہے چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ خیرسگالی کے جذبے کے تحت یہ سرحدیں فوری کھول دی جائیں ۔وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں جن وجوہات کی بنا پر یہ قدم اٹھایا گیا تھا، اس کے تدارک کے لیے افغان حکومت تمام ضروری اقدامات کرے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے بارہااس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں امن و سلامتی کے لیے افغانستان میں دیرپا امن ناگزیر ہے،ہم دونوں ممالک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے افغان حکومت سے تعاون کی پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔ ہم دونوں ممالک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے افغان حکومت سے تعاون کی پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔ واضح رہے پاکستان نے ملک میں شدت پسندی کی تازہ لہر میں 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد 16 فروری کو سیکورٹی خدشات کے باعث سرحد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ملک میں حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے شدت پسند افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں سرحد خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا، اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بند کی گئی تھی جس کے باعث ہزاروں ٹرک سرحد کی دونوں جانب پھنس گئے تھے تاجروں کے لاکھوں روپے ڈوب جانے کا خدشہ بھی تھا جس کے بعد افغان ڈپٹی کمانڈر اِن چیف جنرل مراد علی مراد نے 27 فروری کو افغان دفتر خارجہ میں پاکستانی سفیر ابرار حسین سے ملاقات کے دوران پاکستان سے سرحد کھولنے کی درخواست کی جس پر پاکستان نے سرحد کو محدود مدت کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا اور سات اور آٹھ مارچ کو دوروز کیلئے سرحد کھولنے کے بعد اسے دوبارہ بند کردیا گیا تھا۔

مزید : صفحہ اول


loading...